جی این این سوشل

پاکستان

مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنا پاسپورٹ واپس لے لیا 

لاہور : لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے بعد نائب صدر مسلم لیگ ن نے  مریم نواز کو ان کا پاسپورٹ واپس مل گیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ سے اپنا پاسپورٹ واپس لے لیا 
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی  رہنما مریم نواز اپنا پاسپورٹ لینے لاہور ہائیکورٹ پہنچیں جہاں انہوں نے رجسٹرار کے کمرے سے اپنا پاسپورٹ وصول کیا۔ 

انہوں نے پاسپورٹ واپسی کے لیے دستاویزات پر دستخط کئے۔

مریم نواز میڈیا سے گفتگو کیے بغیر لاہور ہائی کورٹ سے روانہ ہو گئیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز  لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کی رہنما، سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی پاسپورٹ واپسی کی درخواست منظور کی تھی۔

عدالت نے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو تصدیقی عمل مکمل کر کے پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔

7ستمبر کو مریم نواز نے پاسپورٹ واپسی کے لیے لاہورہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا ، امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے متفرق درخواست دائر کی گئی تھی ۔

14 ستمبر کو ہونے والی سماعت میں لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی عدالتی تحویل سے پاسپورٹ واپس لینے کی درخواست پر وفاقی حکومت اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو نوٹس جاری کیے تھے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو اگست 2019 میں چوہدری شوگر ملز کیس میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ جیل میں اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کر رہیں تھیں۔

مریم نواز 48 دن اس کیس میں نیب کی حراست میں رہیں تھیں جس کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے انہیں ضمانت بعد از گرفتاری میں رہا کیا تاہم انہوں نے عدالتی حکم کے مطابق سات کروڑ روپے نقد اور اپنا پاسپورٹ ڈپٹی رجسٹرار کے پاس رکھوا دیا تھا۔

 

پاکستان

الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 میں کرانے کا فیصلہ

پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی معیاد یکم جنوری 2022 کو ختم ہو چکی ہے،سیکرٹری الیکشن کمیشن کی اجلاس میں بریفنگ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

الیکشن کمیشن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 میں کرانے کا فیصلہ

الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 کے آخری ہفتے میں کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اجلاس میں بریفنگ دی،سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ پنجاب کے بلدیاتی اداروں کی معیاد یکم جنوری 2022 کو ختم ہو چکی ہے۔ 

الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے دو بار حلقہ بندیوں کا کام کرنا پڑا،دو بار بلدیاتی قوانین کو تبدیل کیا گیا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات اپریل 2023 کے آخری ہفتے میں کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن میں پنجاب کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سماعت ہوئی،اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن اور چیف سیکرٹری پنجاب الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔

اسپیشل سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب میں دو بار حلقہ بندیاں کیں،اب تیسری بار کرنا ہوں گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پنجاب میں تیسری بار بلدیاتی حلقہ بندیاں کرانا مذاق نہیں،پرانی حلقہ بندیوں پر الیکشن ہو سکتے ہیں تو شیڈول جاری کریں،کوئی حکومت بلدیاتی انتخابات نہیں کرانا چاہتی۔ چیف الیکشن کمشنر نے سیکرٹری الیکشن کمیش کو ہدایت کی کہ آپ دوبارہ سپریم کورٹ کو خط لکھیں،اب الیکشن کمیشن چیف سیکرٹری کو ہدایت کرے گا اور آرڈر پاس کریں گے۔ 

چیف سیکرٹری نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی نے نیا بل منظور کر لیا۔نئے قانون کے مطابق چلیں ہم ٹائم لائن کو فالو کریں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے الیکشن ای وی ایم پر ہو سکتے ہیں؟آپ جان بوجھ کر ای وی ایم ڈال رہے ہیں کہ مسئلہ بنے۔آپ نے قانون میں رکاوٹ ڈالی لیکن ہمیں پتا ہے اسے کیسے کھولنا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنالوجی

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ ٹل گیا ، پاکستان ادائیگیوں پر رضامند

صارفین کیلئے خوشخبری آگئی ، گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گوگل ایپس بند ہونے کا خطرہ  ٹل گیا ،    پاکستان ادائیگیوں پر رضامند

حکومت پاکستان نے اس حوالہ سے کریڈ ٹ کارڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے بجائے ایپس  کےتحت ادائیگیوں کی اجازت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔

وزارت خزانہ نے وزیر آئی ٹی سید امین الحق کی تجویز مانتے ہوئے گوگل کو ادائیگیوں کے حوالے سے رضا مندی ظاہر کردی ۔ 

وزارت آئی ٹی کی طرف سے آج (جمعرات) کو جاری کردہ اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر انفارمیشن وٹیکنالوجیز سید امین الحق نے کہا ہے کہ گوگل کوادائیگیاں شیڈول کے مطابق کی جاسکیں گی، پیڈ گوگل ایپس بند نہیں ہوں گی۔

اس حوالے سےوزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق سے معاون خصوصی برائے خزانہ طارق باجوہ نے رابطہ کیا اور بتایا کہ سٹیٹ بینک کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

امین الحق نے کہا کہ فی الحال ایک ماہ تک پالیسی پر عملدرآمد مؤخر کردیا گیا ہے ۔ ٹیلی کام آپریٹرز کو ادائیگیوں کے طریقہ کار پر عملدرآمد کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا گیاہے۔

ایک ماہ کے اندر وزارت آئی ٹی، خزانہ اور سٹیٹ بینک باہمی مشاورت سے مستقل لائحہ عمل مرتب کریں گے۔

انہوں نے کہ ٹیلی کام آپریٹرز نے وزارت آئی ٹی سے معاملے پر معاونت کی اپیل کی تھی جس کے پیش نظروزیرخزانہ اسحاق ڈار کو ادائیگیاں کرنے اور ٹائم فریم دینے کیلئے مراسلہ لکھا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بروقت فیصلے پر وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ کے شکر گزار ہیں۔

گزشتہ ماہ وفاقی وزیر آئی ٹی امین الحق نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو خط لکھ کر اسٹیٹ بینک کی جانب سے گوگل کو ادائیگی روکنے کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سروس فراہم کرنے والوں کو 34 ملین ڈالر کی ادائیگی منسوخ کرنے کے بعد موبائل صارفین یکم دسمبر 2022 سے پاکستان میں گوگل پلے اسٹور کی سروسز ڈاؤن لوڈ نہیں کر سکیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسمبلیاں توڑیں تو جنرل الیکشن نہیں صرف ان صوبوں میں الیکشن ہوں گے، رانا ثنا اللہ

 

وزیرداخلہ راناثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان جب حکومت میں تھے تو اپوزیشن کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ساڑھے تین سال میں عمران خان نے کرپشن کا بیانیہ بنایا۔عمران خان کو چاہیے تھا قوم سے معذرت کرتے اور واپس پارلیمنٹ میں آتے۔

ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

عمران خان نے خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی۔جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون، جمہوری عمل کی توہین ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔سنا ہے پی ٹی آئی والے 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں ؟ عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ فری اینڈ فیئر الیکشن کے بنیادی تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ اسمبلیاں توڑنے کے عمل میں معاون نہ ہوں۔ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو بھی روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوں گے ان کو آئین اور قانون کے مطابق حل کیے جائیں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی اسمبلیاں توڑی جاتی ہیں، تو پھر ان 2اسمبلیوں کے الیکشن ہوں گے۔جنرل الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔

اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم الیکشن سے خوفزدہ نہیں ہیں۔کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے، نواز شریف صاحب کمپین کے لیے میسر ہوں گے، یہ ان کی بھول ہے یہ جیت کے واپس آجائیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll