نئے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر حکومتی حلقوں میں نئی تجویز سامنے آئی ہے۔


وزیراعظم کو رائے دی گئی ہے کہ وہ نئے آرمی چیف کی تقرری کی منظوری کابینہ سے لیں۔ وفاقی کابینہ کی منظوری سے کسی فورم پر انگلی نہیں اٹھائی جاسکے گی بلکہ سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل بھی ہوجائے گی کیونکہ سپریم کورٹ نے بھی اہم تقرریوں کی کابینہ سے منظوری لینے کا حکم دے رکھا ہے۔
حکومت میں شامل 2 اہم ترین سیایس جماعتیں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ وزیر اعظم پر چھوڑنے کی حامی ہیں۔
اتحادیوں نے حکومت کو پیغام بھجوایا ہے کہ وزیراعظم طے شدہ طریقہ کار کے تحت فیصلہ کریں۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے نومبر 2016 میں پاک فوج کی کمان سنبھالی تھی ، 2019 میں ان کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع دی گئی تھی۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 29 نومبر کو ریٹائر ہونے والے ہیں اور اب وہ مختلف فارمیشنز کے الوداعی دورے بھی کررہے ہیں۔

فیملی ڈرامہ ’’فرینڈز آف سیونٹیز‘‘ نے دھوم مچا دی
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ایک اور اضافہ
- 2 دن قبل
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 18 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 11 گھنٹے قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 16 گھنٹے قبل
حج 2027کے لیے درخواست اور پاسپورٹ سے متعلق نئی ہدایات جاری کر دی گئیں
- 2 دن قبل
آئل ٹینکر پر حملہ، دو پاکستانیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
- 2 دن قبل

پنجابی فلم ’’عشق بدمعاش‘‘ کا ٹریلر جاری
- 2 دن قبل

ورلڈکپ 2027، 10 ٹیموں کی براہِ راست انٹری
- 2 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 17 گھنٹے قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 11 گھنٹے قبل
وزیراعظم کی کسٹمز بانڈڈ ویئر ہاؤسز کے 3 سالہ آڈٹ کرانے کی ہدایت
- ایک دن قبل


