جی این این سوشل

پاکستان

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے الرٹ جاری کر دیا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) لانگ مارچ کی وجہ سے ٹریفک پولیس نے الرٹ جاری کر دیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

اسلام آباد ٹریفک پولیس نے الرٹ جاری کر دیا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا اسٹیج مری روڈ پر رحمان آباد کے قریب تیار کیا گیا ہے اور لانگ مارچ میں شرکت کے لیے ملک بھر سے قافلے راولپنڈی پہنچ رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے راولپنڈی اوراسلام آباد کی میٹرو بس سروس معطل کر دی گئی ہے۔

اسلام آباد ٹریفک پولیس کی طرف سے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا۔ ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق روات ٹی کراس سے راولپنڈی پشاور روڈ کی طرف ڈائیورژن ہے اور روات سے اسلام آباد داخلے کے لیے ایک لین کھلی ہے۔

شہری اسلام آباد سے راولپنڈی کے لیے کورال چوک سے پرانا ایئر پورٹ روڈ استعمال کریں جبکہ اسلام آباد ایکسپریس وے کورال اسٹاپ سے بند ہے اور فیض آباد میں اسلام آباد کے لیے راستہ کھلا ہے۔ فیض آباد سے مری روڈ جبکہ آئی جے پی روڈ اور راولپنڈی کے راستے بند ہیں۔

مری روڈ پر فیض آباد کے دونوں اطراف ڈائیورژن ہے اور ٹریفک کو متبادل کے لیے اسلام آباد ایکسپریس وے کی طرف موڑا جا رہا ہے۔ 26 نمبر چونگی ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔ سری نگر ہائی وے اسلام آباد ایئر پورٹ اور موٹروے کے لیے کھلی ہے۔

ریڈ زون میں نادرا اور ایکسپریس چوک سے آنے جانے کا راستہ بند ہے۔ شہری ریڈ زون میں داخلے اور اخراج کے لیے مارگلہ روڈ اور ایوب چوک استعمال کریں۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کے مطابق عمران خان کا ہیلی کاپٹر بارانی یونیورسٹی میں اتارا جائے گا اور 26 نومبر کی رات جلسہ گاہ خالی کرنا ہو گا جبکہ راستے بند کرنے پر سخت ایکشن کیا جائے گا۔

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ سال 23-2022 میں برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

ایک سال کے دوران ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں، سال 23-2022 میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق جون میں غذائی اجناس کی برآمدات میں سالانہ 41.51 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جون میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 54 کروڑ 39 لاکھ ڈالر رہا، گزشتہ سال جون میں غذائی اجناس کی برآمدات 35 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تھیں۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں غذائی اجناس کی برآمدات میں چاول سر فہرست رہے، ایک سال کے دوران چاول کی برآمدات میں 82.94 فیصد اضافہ ریکارڈ، 60 لاکھ 18 ہزار میٹرک ٹن چاول کی برآمدات کی گئیں، مالی سال 24-2023 میں چاول کی برآمدات کا حجم 3 ارب 93 کروڑ ڈالر رہا۔

اسی طرح جون میں چاول کی برآمدات میں 106.19 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن چاول بیرون ملک برآمد کیے گئے، جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 30 کروڑ 37 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 14 کروڑ 73 لاکھ ڈالر تھا۔

ایک سال کے دوران 9 لاکھ 35 ہزار ٹن پھل برآمدات کیے گئے، مالی سال 24-2023 میں پھلوں کی برآمدات میں 21.31 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ 24-2023 میں 12 لاکھ 61 ہزار میٹرک ٹن سبزیاں بھی ایکسپورٹ کی گئیں، سبزیوں کی برآمدات میں 43.20 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران 33 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی برآمد کی گئی، پاکستان نے ایک سال میں 2 لاکھ 48 ہزار ٹن خشک میوہ جات برآمدات کیا، مالی سال 24-2023 میں خشک میوہ جات کی برآمدات میں 117.18 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بشری ٰ بی بی نے لاہور ہائی کورٹ  میں نامعلوم مقدمات کو چیلنج کردیا

بشریٰ بی بی نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام متعلقہ اداروں کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بشری ٰ بی بی نے لاہور ہائی کورٹ  میں نامعلوم مقدمات کو چیلنج کردیا

لاہور: پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے پیر کو لاہور ہائی کورٹ  میں نامعلوم مقدمات میں اپنی ممکنہ نظر بندی کو چیلنج کردیا۔

جسٹس طارق سلیم شیخ منگل کو درخواست پر سماعت کریں گے۔

یاد رہے کہ درخواست گزار کے وکیل کے مطابق بشریٰ بی بی کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جا رہی ہیں۔

اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کے خلاف اینٹی کرپشن، نیب اور ایف آئی اے سے متعلق کیسز میں ہونے والی انکوائریوں سے متعلق معلومات بھی چھپائی جا رہی ہیں، جیسا کہ درخواست میں کہا گیا ہے۔

بشریٰ بی بی نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام متعلقہ اداروں کو کیسز کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی جائے۔

 انہوں نے عدالت سے کہا کہ وہ کسی بھی نامعلوم کیس میں ان کی گرفتاری کو روکے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll