جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان کی جنرل سید عاصم منیر اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

لاہور : چیرمین عمران خان نے جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف بننے اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بننے پر مبارک باد دی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان کی جنرل سید عاصم منیر اور  جنرل ساحر شمشاد مرزا کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سویلین بالادستی پر قائداعظم کا قول شیئر کرتے پیغام میں کہا کہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی بننے اور جنرل سید عاصم منیر کو چیف آف آرمی اسٹاف بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم اور ریاست کےدرمیان پچھلے8ماہ سے اعتماد کا فقدان ہے، امید ہے نئی ملٹری لیڈرشپ ریاست،قوم میں اعتمادکےفقدان کوختم کرے گی، عوام ہی ریاست کی اصل قوت ہیں۔

گذشتہ روز جی ایچ کیو میں پاک فوج کے کمان کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی تھی، جس میں سبکدوش جنرل قمرجاوید باجوہ نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کی کمان سونپی تھی۔

سیدعاصم منیر چھڑی ہاتھ میں تھام کر مسلح افواج کے سترویں آرمی چیف بن گئے تھے۔

پاکستان

43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری، پی ٹی آئی کا عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری، پی ٹی آئی کا عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کیلئے پٹیشن تیار کر لی جو آج یا پیر کو دائر کئے جانے کا امکان ہے جس کے ساتھ سپیکر کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماءشاہ محمود قریشی کو لکھا گیا خط بھی نتھی کیا جائے گا۔ 

سپیکر نے خط میں کہا کہ مستعفی ارکان کو ہر صورت بلا کر استعفوں کی تصدیق کی جائے گی، استعفوں کی تصدیق کے بغیر کسی کے بھی استعفے منظور نہیں کئے جائیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کئے تھے۔

مذکورہ 43 استعفوں کی منظوری کے بعد مجموعی طور پر پاکستان تحریک انصاف کے 122اور شیخ رشید کا ایک استعفیٰ ملا کر 123اراکین کے استعفے منظور ہو چکے ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

اوگرانے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا

کراچی: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اوگرانے پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا

ترجمان اوگرا عمران غزنوی نے کہا کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق قیاس آرائیاں غلط ہیں، ابلاغ عامہ میں گمراہ کن قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں، مفاد عامہ میں غلط افواہوں سے گریز کیا جائے۔

واضح رہے کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر اضافے اور پمپس پر پٹرول کی عدم دستیابی کی افواہیں اڑی ہوئی ہیں۔

قرض فراہم کرنے کےلیے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو اس اضافے کی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک کے جو حالات ہیں کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں:شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہملک کے جو حالات ہیں کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک کے جو حالات ہیں کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں:شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماءاور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملکی نظام کی بہتری کیلئے ہم سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا اور عدلیہ سمیت تمام اداروں کو ساتھ بیٹھنا ہو گا، اگر اسٹیبلشمنٹ آئین کے دائرے میں رہے تو سر آنکھوں پر، اگر آئینی دائرے سے باہر نکلتی ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملک کیلئے سوچیں کیونکہ ملکی نظام کی بہتری کیلئے ہم سب کو اکٹھا ہونا پڑے گا، لوگوں نے اپنے مسائل ہمیں بتائے اور انہیں حل کرنے کے لیے اصرار کیا، اگر ہم نظام کو آئین کے اندر نہیں لائیں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے، معیشت اور پاکستان کو بچانے کیلئے سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا۔ 

انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے، عدلیہ سمیت تمام اداروں کو ساتھ بیٹھنا ہو گا، ملک کے جو حالات ہیں کوئی بھی اس سے بری الذمہ نہیں ، سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے عوام کے مسائل کا حل تلاش کریں، آج ذاتی مفادات چھوڑ کر ملکی مفاد کیلئے سوچنا ہو گا، معیشت اور عوام کیلئے ہم سب کو ساتھ بیٹھنا ہو گا، ملکی معاملات کو حل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ 

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد ملک دہشت گردی کے خلاف متحد ہوگیا تھا، آج پارلیمان مفلوج ہے ، عوامی مسائل پر بات نہیں ہوتی، ملکی مشکلات پر وہ تکلیف نظر نہیں آتی جو سیاسی نظام میں ہوتی ہے، انقلاب کی بات نہیں کر رہے ہیں، ملک کے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہے، اگر اسٹیبلشمنٹ آئین کے دائر ے میں رہے تو ہماری سر آنکھوں پر، اگر اسٹیبلشمنٹ آئین کے دائرے سے نکلتی ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll