جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان کی سوچ تبدیل ہوئی ، اب وہ سیاسی بات کر رہے ہیں، ان سے گفتگو ہونی چاہئے ، خواجہ آصف

اسلام آباد :وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی سوچ تبدیل ہوئی ہے ، اب وہ سیاسی بات کر رہے ہیں ، پاکستان تحریک انصاف سے بات ہونی چاہئے ۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان کی سوچ تبدیل ہوئی ، اب وہ سیاسی بات کر رہے ہیں، ان سے گفتگو ہونی چاہئے ، خواجہ آصف
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

نجی ٹی وی  کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ  پاکستان تحریک انصاف سے  گفتگو کسی ایک نقطے پر نہیں ہونی چاہئے یہ مفاد پرستی ہو گی ، اس کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی شکل دینی چاہئے  تاکہ تمام شراکت دار بیٹھ کر مسائل دیکھ سکیں جو الیکشن سے بھی بڑے ہیں جس میں معیشت سر فہرست ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ  راولپنڈی نیوٹرل ہو گیا ہے  اسی طرح عدلیہ اور ایگزیکٹو کو بھی  اپنے حدود میں رہنا ہوگا ، فوج نے ایک انیشیٹو لیا ہے  تو باقیوں کو بھی حدود میں رہنا ہوگا ، اس ملک میں سب کی شراکت داری ہے ۔ بیٹھ کر سارے مسئلے حل ہو جائیں گے ، بنگلہ دیش میں روڈ میپ طے کیا گیا ہے ، یہاں پر بھی  طے کیا جائے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ کابل میں سفیر پر حملے کا مطلب ہے کہ حالات بہت خراب ہیں ، ہم  چاہتے ہیں افغانستان میں امن ہو ، افغانستان میں خلفشاف کا نقصان ہمیں بھی ہوگا ، ہماری دعا ہے کہ وہاں امن ہو ، ٹی ٹی پی جو بھی حملہ کرے گی اس کے تانے بانے افغانستان سے ملیں گے ، ناظم الامور پر حملے کے معاملے پر نیشنل ایکشن کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جانا چاہئے ، شائد اجلاس اگلے ہفتے طلب کیا جا سکتا ہے ۔

پاکستان

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیر اعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا

وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی 2 مارچ کو دن 2 بجے تک وصول کئے جائیں گے، شیڈول

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیر اعظم کے انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے وزیراعظم کا انتخاب کا شیڈول جاری کر دیا۔ جس کے مطابق وزیراعظم کا انتخاب اتوار 3 مارچ کو ہوگا۔

وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی 2 مارچ کو دن 2 بجے تک وصول کئے جائیں گے اور پھر کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 3 بجے تک ہوگی۔ شیڈول کے مطابق  وزیراعظم کیلئے کاغذات نامزدگی قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے شعبہ قانون سازی سے لیےجاسکتے ہیں۔ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران تجویز اور تائید کنندگان کا موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آج جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب اراکین نے حلف اٹھا لیا۔اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا۔ نو منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھا لیا، سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی نعرے بازی، ایوان مچھلی بازار بن گیا
 
تقریب حلف برداری کے بعد دوسرا مرحلہ اسمبلی کے نئے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ ہو گا اور پھر اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کا انتخاب ہو گا۔ شہباز شریف کو دوسری بار وزیراعظم بننے کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں جبکہ اس وقت مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کو 200 سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

سعودی ولی عہدکا فرانسیسی صدرسے ٹیلیفونک رابطہ

تنازع فلسطین کے منصفانہ حل، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں دیر پا امن اور سلامتی کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سعودی ولی عہدکا فرانسیسی صدرسے  ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے ٹیلیفون پر غزہ کی تازہ صورت حال، جنگ سے متاثرہ علاقے میں امداد پہنچانے اور بحیرہ احمر کی سلامتی سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں رہ نماؤں نے سعودی عرب اور فرانس کے مابین دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور سمیت متعدد دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور، بحیرہ احمر کی سلامتی، غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور جنگ سے متاثرہ لوگوں کے لیے امداد کی فراہمی سمیت دیگر امور پر تبادلہ کیا۔ دونوں رہ نماؤں نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق معاہدے تک پہنچنے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے غزہ میں ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی اور یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی پر زور دیا۔ انسانی امداد کے سلسلے میں فرانسیسی صدر دوست اور اتحادی ممالک کے ساتھ بات کی ہے۔دونوں رہ نماؤں نے تنازع فلسطین کے منصفانہ حل، آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں دیر پا امن اور سلامتی کے لیے جنگ کے بجائے امن مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

ریاض المالکی نے مزید کہا  ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔  ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔

تاہم ریاض المالکی نے کہا  ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll