جی این این سوشل

پاکستان

ملک مزید خطرے میں ہے،مجھے لگتا ہے ہم جنرل الیکشن کی طرف جا رہے ہیں : عمران خان

پشاور:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے کہا ہے کہ اسی ماہ اسمبلیاں توڑ کر الیکشن کی طرف جائیں گے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ملک مزید خطرے میں ہے،مجھے لگتا ہے ہم جنرل الیکشن کی طرف جا رہے ہیں : عمران خان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سابق وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعظم سواتی کو ننگا کر کے تشدد کیا گیا، سب کو کہہ رہا ہوں اعظم سواتی کے لیے احتجاج کرنا ہے، جو اعظم سواتی کے ساتھ کیا گیا وہ ظلم کی انتہا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے ان کو کہا اگر جنرل الیکشن کی تاریخ دینے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو ہم بات کریں گے، مجھے لگتا ہے ہم جنرل الیکشن کی طرف جا رہے ہیں، ہینڈلرز کو پتہ ہونا چاہیے،جنہوں نے اس ملک میں رہنا ہے نقصان ان کا ہورہا ہے، اس صورتحال میں ملک مزید خطرے میں ہے۔

عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی اب یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان اپنا قرض واپس کرے گا، بیرون ملک کی فنانشل مارکیٹس کا اعتماد ان پر نہیں رہا، یہ لوگ ملک کو تباہی کے کنارے پر کھڑا کر کے تیسری مرتبہ باہر بھاگیں گے، الیکشن کمیشن ان کے ساتھ ملا ہوا ہے، الیکشن کمیشن ان کی پارٹی کا کوئی ممبر لگتا ہے، نوازشریف اور آصف زرداری ملک کی بہتری کے لئے فیصلے نہیں کرتے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے حالات دیکھ کر ملک سے بھاگ جانا ہے، جو سہولت کار ان کو لے کر آئے کیا ان کو نہیں معلوم کہ ملک کہاں جارہا ہے؟ ہینڈلرز نے 7 ماہ ان کی مدد کی، ملکی حالات اس سطح پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر الیکشن نہ ہوئے تو ملک ادھر پہنچ جائے گا جہاں کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ الیکشن جب بھی ہوئے ہم جیت جائیں گے، ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ان کے آنے کا صرف ایک مقصد تھا کہ ان کے اربوں کے کیسز معاف ہوں، جنرل مشرف نے ملک کو ان دونوں پارٹیوں سے بہتر چلایا، یہ پہلے ہی جنرل مشرف سے این آر او لے کر چوری معاف کرواچکے تھے، ملک آپ سے سنبھالا نہیں جارہا ،ملک ڈیفالٹ کی طرف جارہا ہے، حکومت کے اوپر ایک بھی شعبہ اعتماد نہیں کررہا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات تیزی سے نیچے جارہے ہیں، بزنس کمیونٹی کا اعتماد ان پر سے اٹھ چکا ہے، مفتاح اسماعیل اور اسحاق ڈار آپس میں لڑرہے ہیں، ملک نیچے جارہا ہے،یہ جو وزیر خزانہ لے کر آئے تھے وہ آپس میں لڑ رہے ہیں، الیکشن چاہے اکتوبر میں ہوں یا اگست میں تحریک انصاف نے جیتنا ہے۔

پاکستان

ای آفس کے استعمال سے اربوں روپے بچائے جا سکیں گے، وزیراعظم

ای-آفس کے استعمال کا اصل مقصد عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی اور حکومتی نظام میں شفافیت لانا ہے، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ای آفس کے استعمال سے اربوں روپے بچائے جا سکیں گے، وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ای-آفس کے استعمال کا اصل مقصد عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی اور حکومتی نظام میں شفافیت لانا ہے۔ای آفس پر منتقلی سے ملکی خزانے کے اربوں روپے بچائے جاسکیں گے۔

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی حکومت کی وزارتوں اور اداروں کو الیکٹرانک-آفس (ای۔آفس) پر منتقل کرنے کے حوالہ سے اہم جائزہ اجلاس ہوا۔

وزیر اعظم کی چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ تعاون کے معاہدے کے حوالے سے امور پر پیشرفت تیز کرنے کی ہدایت کر دی، اجلاس کو ای آفس کے نظام اور اسکے نفاذ اور اصلاحات پر پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔

وزیر اعظم آفس میڈیا ونگ سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی حکومت کے دفاتر و اداروں میں ای آفس کے نفاذ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہفتہ کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔  اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ای-آفس کے استعمال کا اصل مقصد عوام کو بہترین سروسز کی فراہمی اور حکومتی نظام میں شفافیت لانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاغذ کا استعمال کم سے کم ہونے سے ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ای آفس پر منتقلی سے ملکی خزانے کے اربوں روپے بچائے جاسکیں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ای آفس کو استعمال میں آسان اور محفوظ بنایا جائے۔ وزیر اعظم نے چینی کمپنی ہواوے کے ساتھ تعاون کے معاہدے کے حوالے سے امور پر پیشرفت تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو ای آفس کے نظام اور اسکے نفاذ اور اصلاحات پر پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ بریفنگ کے دوران اجلاس کو بتایا گیا کہ ای-آفس کے نفاذ کی کامیابی جانچنے کے حوالے سے کی-پرفارمینس انڈیکیٹرز ترتیب دئے جا رہے ہیں، نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی اوورہالنگ پر کام کا آغاز ہو چکا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ،وزیراعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام بھی شریک تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

عرفات میں لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند

شیخ مہر بن حمد الموکلی نے قرآنی تعلیمات کو انسانیت کیلئے رہنمائی اور فضل کا ذریعہ قراردیا جن کا مقصد ان کے اعمال درست کرنا اورسچائی کی جانب لے جانا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عرفات میں لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند

لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے لاکھوں حجاج نے آج سہ پہر حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کردیا ۔

میدان عرفات کی مسجد نمرہ سے خطبہ حج میں شیخ  مہربن حمد  الملوکی  نے مسلمانوں پراپنی صفوں میں اتحاد پید اکرنے پرزوردیا اورکہا کہ یہ یقینا امت مسلمہ کی نجات کا ذریعہ بنے گا اوراختلاف وتقسیم کا سدباب بھی ہوگا۔

خطبے میں اﷲ پر ایمان اطاعت خداوندی اور اسلام کے بنیادی ارکان پر روشنی ڈالی جو مسلمانوں کے ایمان کومضبوط کرتے ہیں۔

شیخ مہر بن حمد الموکلی نے قرآنی تعلیمات کو انسانیت کیلئے رہنمائی اور فضل کا ذریعہ قراردیا جن کا مقصد ان کے اعمال درست کرنا اورسچائی کی جانب لے جانا ہے ۔

انہوں نے قرآن کی تعلیمات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جو زیادہ متقی ہیں اورجو نیک کام کریں گے ان کیلئے اجر عظیم کا وعدہ ہے ۔اسلام کے بنیادی عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ مہر نے اﷲ کی وحدانیت اور حضرت محمد ۖ کی رسالت کی گواہی دی۔انہوں نے خطبے کے آخر میں لوگوں کو تاکید کی کہ ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کریں ، ناحق قتل نہ کریں اور انصاف پر مبنی فیصلے کریں۔

حجاج کرام نے ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی ادا کیں۔میدان عرفا ت میں قیام کے بعد حجاج کنکریاں اکٹھی کرنے کیلئے مزدیفہ جائیںگے جو وہ منیٰ میں علامتی طورپر شیطانوں کو ماریں گے ۔اس کے بعد حجاج عیدالاضحی کے موقع پر تین دن کیلئے منیٰ واپس آئیںگے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیروی میں جانور قربان کریںگے ۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

وفاقی حکومت نے فان فائلز کیلئے بڑے ٹیکس کی منظوری دے دی

سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نان فائلرز کے فون اورانٹرنیٹ پر 75 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی حکومت نے فان فائلز کیلئے بڑے ٹیکس کی منظوری دے دی

وفاقی حکومت نے فان فائلز کے فون اور انٹرنیٹ پر 75 فی صد ودہولدنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
اس حوالے سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف ٹیکس تجاویز پر مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں تنخواہ کے سلیب کو کم کرنے اور ٹیکس میں اضافہ کرنے کی تجویزکی منظوری دی گئی ، یکم جولائی سے پراپرٹی پر 15 فیصد کیپٹل گینز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو اجلاس میں مسترد کر دیا گیا۔

سینٹ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نان فائلرز کے فون اورانٹرنیٹ پر 75 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں پارلیمنٹیرینز کا ریکارڈ ٹیکس وصولی کیلئے نادرا کو دینے کی تجویز مسترد کر دی گئی، اس حوالے سے اینیٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ نادرا کا ڈیٹا محفوظ نہیں ہے۔

اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ایس آئی ایف سی نے نادرا کو ڈیٹا دینے کا کہا ہے جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے افسران کا ڈیٹا بھی دیا جائے گا۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اجلاس میں سیاستدانوں کا ڈیٹا نادرا کو دینے کی تجویزمسترد کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔

چیئرمین کا کہنا تھا کہ فنانس بل میں پراپرٹی کی خریداری پرلیٹ فائلر کی شق متعارف کروائی، لیٹ فائلرز کا ٹیکس ریٹ فائلر، نان فائلر کے درمیان رکھا ہے، افراد پراپرٹی کی خریداری کے موقع پر صرف ریٹرن فائل کرتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ لیٹ فائلر پر ٹیکس نان فائلر کے برابرہونا چاہیے۔ سینٹر انوشہ رحمان کا کہنا تھا کہ فائلرز پر مہربانی کریں اورنان فائلر پر ٹیکس بڑھائیں۔

سینیٹر منظور کاکٹر کا کہنا تھا کہ پراپرٹی پر ٹیکس نہ بڑھائیں، کمیٹی نے پراپرٹی پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مؤخر کردی ، کمیٹی نے فاٹا اور پاٹا کیلئے ٹیکس استثنیٰ 1 سال کیلئے بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی، چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ کابینہ میں اس پر بہت بحث ہوئی ہے، ہم نے بہت مخالفت کی تاہم کابینہ نے بات نہیں مانی۔

سلیم مانڈوی والا نے پوچھا کہ آئی ایم ایف نے کیا کہا تھا اس پر چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے ضم اضلاع کو ٹیکس استثنیٰ دینے کی مخالفت کی تھی۔

قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے مزید کہا کہ پورے ملک کی انڈسٹری کو فاٹا پاٹا کے مراعات سے مسائل ہیں، ایسا کرنے سے انڈسٹری کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll