اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے منگلا پن بجلی کے یونٹ 5 اور 6 کی ریفریشمنٹ منصوبےکا افتتاح کردیا ۔


تفصیلات کے مطابق منگلا ڈیم یونٹ 5 اور 6 ریفربشمنٹ منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ منگلا ڈیم کے ذریعے سستی بجلی پیدا ہو گی ، ریفربشمنٹ منصوبے کا افتتاح باعث فخر ہے، منگلا پروجیکٹ پانی ذخیرے کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ منگلا پن بجلی ریفریشمنٹ منصوبے میں تعاون پاکستان اور امریکہ کے درمیان اچھے تعلقات کی مثال ہے اور اب وقت ہے پاکستان اور امریکہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کریں۔
شہباز شریف کا کہنا ہے کہ منگلا کی اپ گریڈیشن نہایت اہم منصوبہ ہے، ایک ارب ڈالر کے بانڈ سے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہم یہ ادائیگی کر چکے ہیں ۔ منگلا ڈیم ایوب خان کا کارنامہ ہے جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، بجلی کی لوڈ شیڈنگ 2013 میں اپنے عروج پر تھی ، نواز شریف کے دور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے دور میں انڈسٹری دوبارہ چلنا شروع ہوئی، اسٹیل مل ذوالفقار علی بھٹو کا کریڈٹ ہے جس کو تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ منگلا پن بجلی منصوبہ اہمیت کا حامل ہے جس سے سستی بجلی فراہم ہو گی ۔ پاکستان پن بجلی، ونڈ پاور اور دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے ذرائع پر کام کر رہا ہے اور منگلا ڈیم نے معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ منگلا پراجیکٹ پانی ذخیرے کے بڑے منصوبوں میں شامل ہے جبکہ شمسی توانائی سے ہم 10 ہزار میگاواٹ بجلی بنانے کے قابل ہوئے ہیں اور 60 ہزار میگاواٹ بجلی نہ بنانے کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ اگر ہم نے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دی ہوتی تو آج پاکستان بڑے نقصان سے بچ جاتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کون سے عناصر تھے جنہوں نے ہمیں پن بجلی، ونڈ پاور اور شمسی توانائی منصوبوں پر کام سے روکا تاہم اب رونے دھونے اور تماشہ لگانے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ شبانہ روز محنت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ قول وفعل میں تضاد کے عمل کو ختم کر کے ہمیں ملک کے لیے آگے آنا ہو گا۔ ہم خیرات کا مطالبہ نہیں کر رہے لیکن ہمیں دنیا سے موسمیاتی تبدیلی کے معاملے پر انصاف چاہیے اور ہم نے شرم الشیخ میں عالمی پلیٹ فارم پر اپنا مقدمہ لڑا ، ہم مزید مہنگے ذرائع سے بجلی پیداوار کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
شہباز شریف نے کہا کہ تھر میں دنیا کا سب سے بڑا کوئلے کا ذخیرہ ہے اور ہم تھرکول پراجیکٹ پر بھی کام کر رہے ہیں ۔ تعمیر و ترقی نعروں دھرنوں سے نہیں بلکہ عمل سے ہوتی ہے۔ اس لیے ہمیں ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر آگے جانا ہو گا۔ ہمیں ملکی مفاد کو لے کر ساتھ چلنا ہو گا۔
ایشین بیچ گیمز: پاکستانی پہلوان انعام بٹ کو 90 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں شکست
- 17 گھنٹے قبل

یو اے ای کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان
- 2 دن قبل
’ہم مدد نہ کرتے تو آپ فرانسیسی زبان بول رہے ہوتے‘، شاہ چارلس نے ٹرمپ پر طنز کر دیا
- 16 گھنٹے قبل

اسحا ق ڈار کا انتونیو گوتریس سے ٹیلیفونک رابطہ،،پاکستان کے سفارتی کردار کی تعریف، مکمل حمایت کا اعادہ
- 2 دن قبل

آرمی راکٹ فورس کمانڈ کا مقامی طور پر تیار کردہ فتح II میزائل کا کامیاب تجربہ،آئی ایس پی آر
- 2 دن قبل

جوڈیشل کمیشن اجلاس: اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری
- 2 دن قبل

ایران تنازع امریکا کیلئے نئی سردجنگ بن گیا، امریکی نیوز ویب سائٹ
- 2 دن قبل

شہریوں کیلئے اچھی خبر،نیپرا نے سولر صارفین کو بڑا ریلیف دینے کا اعلان کردیا
- 2 دن قبل

ایران کو کسی قیمت پر نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دیں گے، ڈیل نہیں ہوئی تو دباؤ برقرار رکھیں گے، روبیو
- 2 دن قبل
افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کے خلاف پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائیاں جاری
- 18 گھنٹے قبل

پی آئی اے کی نجکاری،عارف حبیب کنسورشیم نے 100 فیصد شیئرز حاصل کر لیے
- 2 دن قبل
.jpeg&w=3840&q=75)
آسٹریلوی ہائی کمشنر کاکنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ، آنکھوں کی صحت کے شعبے میں آسٹریلیا کے دیرینہ تعاون کے اثرات کا مشاہدہ
- 19 گھنٹے قبل











