جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان کا اتحادی بن کر چلنا ہے یاپھر الگ ہو کر انتخابات لڑنے ہیں ، پرویز الہیٰ کا پارٹی اجلاس

لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالہی نے اپنی قریبی دوستوں سے مشورہ مانگا ہے کہ عمران خان کا اتحادی بن  کر چلنا ہے یاپھر الگ ہو کر انتخابات لڑنے ہیں۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان کا اتحادی بن  کر چلنا ہے یاپھر الگ ہو کر انتخابات لڑنے ہیں ، پرویز الہیٰ کا پارٹی اجلاس
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ق کی پنجاب اسمبلی تحلیل کے معاملے پر قریبی دوستوں سے مشاورت جاری ہے ، ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے پارٹی کے چند ایم پی ایز اور دوستوں سے مشاورت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویزالہی نے ایم پی ایز اور دوستوں سے رائے مانگی ہے کہ بتائیں انتخابات اکیلے پارٹی میں لڑنا ہے یا تحریک انصاف سے اتحاد چاہتے ہیں۔

ذرائع نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی اور سینئر رہنماؤں کی رائے تقسیم ہے تاہم اکثریت نے تحریک انصاف کیساتھ دینے اور کچھ نے اکیلے انتخابات لڑنے کی رائے دی۔

ذرائع کے مطابق صرف ق لیگ کے پلیٹ فارم پر آئندہ انتخابات کے حامیوں کی اسمبلی تحلیل کی مخالفت کی، رائے تقسیم ہونے پر فیصلے کا اختیار وزیراعلیٰ پرویزالہٰی کو دے دیا گیا ہے۔

پنجاب اسمبلی کی تحلیل پر 2روز سے مشاورت جاری ہے، اس حوالے سے مونس الہٰی کی آج عمران خان سےملاقات کا بھی امکان ہے۔

پاکستان

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ استحکام کیلئے یہ ملک کسی آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کیلئے پارلیمان میں اُن لوگوں کو ہونا چاہئے جو اسکے حق دار ہیں۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر جب انصاف وقت پر نہ ہو اور دیر سے ملے تو یہ بھی ناانصافی ہے، ریحانہ ڈار کی جگہ فارم 47 والوں کو بٹھا دیا گیا، عمران خان کی رہائی کا فی الفور مطالبہ کرتے ہیں، رہا ہونے کے بعد ہماری خواتین کو دوبارہ گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ آج بجٹ کے اسپیشل سیشن میں پارلیمنٹ سے لے کر الیکشن کمیشن تک واک کی، خان صاحب اور بشریٰ بی بی سمیت ہماری بہنوں کی رہائی کے لیے واک کی گئی، ہماری بہنوں کو ایک بار رہائی کے بعد دوبارہ سے گرفتار کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، احتجاج تب تک جاری رہے گا جب تک ہمارے لوگوں کو رہائی نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام پر کسی بھی قسم کا آپریشن نامنظور ہے، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں سارا کا سارا نزلہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام پر گرانے کی کوشش ہے، شہباز شریف کہتا ہے ہمیں سرمایہ کاری کے لیے آپریشن چاہیے بتائیں خیبرپختونخوا میں کتنی صنعتیں ہیں؟ سرمایہ کاری اس لیے نہیں آرہی کیونکہ ملک میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ یہ صرف 180 پارلیمنٹرینز کی واک نہیں 3 کروڑ ووٹرز کی واک ہے، عوام کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے ہم نے فوجی آپریشن کی مخالفت کی، کوئی بھی فیصلہ ہو اس مسئلے کو ایوان میں لایا جائے، حکومت ہچکچاہٹ کا شکار ہے یہ ملک استحکام کے لیے آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا، استحکام کے لیے اس ایوان میں ان لوگوں کو ہونا چاہیے جن کا حق ہے۔

اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ واحد پارٹی پی ٹی آئی ہے جس میں ڈیڑھ سال میں تین بار انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے، عوامی نیشنل پارٹی کا الیکشن ہی نہیں ہوا اس کو 20 ہزار جرمانہ کیا گیا،ایک ملک میں دو قوانین نہیں چلنے دیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا، حکام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بلوچستان ، اغواء ہونیوالے مزید 3 افراد کو چھوڑ دیا

ہرنائی کے علاقے زرغون غزسے اغواء 10 افراد میں سے مزید 3 کو چھوڑ دیا گیا۔

حکام کے مطابق اغواکاروں نے7 روزبعد ازخود 10 میں سے 3 افرادکو چھوڑ دیا جس کے بعد تینوں افرادکوکوئٹہ پہنچادیاگیا۔

دوسری جانب زرغون غز  سےاغوا کیاگیا ایک نوجوان گھر پہنچ گیا ہے جس کی تصدیق اس کی فیملی کی جانب سے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ہرنائی کے علاقے زرغون سے 19 جون کومسلح افراد نے 14 افراد کو اغوا کیاتھا جس میں سے 4 کو پہلے اور تین کو اب چھوڑا گیا ہے۔

لیویز ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر ضلع ہرنائی کے پہاڑی علاقے زرغون غر میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح سیر و تفریح کے لیے جانے والے 14 افراد کو اغوا کرلیا تھا۔

واضح رہے کہ تمام افراد کے اغوا کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی، شہباز شریف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حقیقت ہے کہ آئی ایم ایف کیساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے یہ سچ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر بجٹ بنانا پڑا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کا آج جواب آگیا تو کل ایوان میں بتائیں گے، امید ہے خوشخبری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی آبادی کے مقابلے میں بجٹ زیادہ مختص کیا گیا ہے، ہماری حکومت نے جنوبی پنجاب میں باقی پنجاب سے دس فیصد زیادہ لیپ ٹاپ دیئے، جنوبی پنجاب میں وفاقی حکومت کے منصوبے پنجاب نے بنائے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ کے خاتمے کا اعلان ہوچکا ہے۔

شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پی ڈبلیوڈی میں بندربانٹ ہوتی تھی، پی ڈبلیوڈی محکمےکوختم کرنےکا فیصلہ کرلیا گیا ہے، پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ میں ناقابل بیان کرپشن ہوتی ہے، وزیر خزانہ کی سربراہی میں ڈاؤن سائزنگ کے لئے کمیٹی بن چکی ہے، اخراجات میں کمی کے حوالے سے نتائج ایوان میں پیش کریں گے۔

آخر میں وزیر اعظم میاں شہبازشریف کا اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ حکومت اخراجات میں کمی کررہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll