جی این این سوشل

پاکستان

کارٹیلز نہیں چاہتے کہ گوادر کی بندرگاہ ترقی کرے، وزیر اعظم

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے میں طویل تاخیر کی وجہ بتادی تو رنگ میں بھنگ پڑ جائے گا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کارٹیلز نہیں چاہتے کہ گوادر کی بندرگاہ ترقی کرے، وزیر اعظم
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

حیدرآباد سکھر موٹر وے کے سنگ بنیاد کی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کے سنگ بنیاد کی ذمہ داری مخلوط حکومت کے حصے میں ذمہ داری آئی، سکھر حیدرآباد موٹروے سے ملک بھرکے شہر منسلک ہوں گے، منصوبے سے زمینی فاصلے کم ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کا منصوبہ 30 ماہ میں مکمل ہوجائے گا، سکھر حیدرآباد موٹروے کا سنگ بنیاد کیوں نہیں رکھا گیا وجوہات بتانے کے لیے موقع مناسب نہیں۔ سکھر حیدرآباد موٹروے میں طویل تاخیر کی وجہ بتادی تو رنگ میں بھنگ پڑ جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کےتحت بنےگا، مراد علی شاہ کو مبارکباد دیئے بغیر بات مکمل نہیں ہوگی، باقی صوبے بھی بپلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیں اور آگے بڑھیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان ملک کا اہم صوبہ ہے، اس کی ترقی کے بغیر پاکستان کی ترقی نامکمل ہے، میں نے گوادر پورٹ کے کام کو آگے بڑھانے کا کہا تو کہا گیا کہ خرچہ بڑھے گا ، جس پر میں نے کہا کہ اسی بنیاد پر ہم صوبے کو نظر انداز کر دیں گے۔ ترقی میں پیچھے رہ جانے والے صوبوں کے پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں کے گلے شکوؤں کی یہی بنیاد ہے، افسر شاہی کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ان صوبوں کو بھی ہمیں ترقی کی دور میں آگے لے کر چلنا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کارٹیلز نہیں چاہتے کہ گوادر کی بندرگاہ ترقی کرے، اس سب کے پیچھے ان کی کرشمہ سازی ہے، میں نے انہیں بتایا کہ ہم نے گندم کی درآمد کے سودے کم سے کم قیمت پر کئے، ہم نے ان سے اور بھی بھی پیسے کم کرائے جس سے اربوں کا فائدہ ہوا۔ سمجھ لو کہ ہم نے یہ جو بچت وہ وہاں خرچ ہوجائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد ان اکائیوں پر ہے، بحیثیت وزیر اعظم میرے لئے پاکستان کی ترقی وہی ہوگی جو محروم علاقوں کو لے کر آگے چلے گی۔

دنیا

اقوام متحدہ کے امن دستوں کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے

اقوام متحدہ کے امن مشنوں کے دوران 27 افسروں سمیت 171 پاکستانی فوجیوں نے عالمی امن کی بحالی کے لئے اپنی جانیں قربان کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اقوام متحدہ کے امن دستوں کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے

اقوام متحدہ کے امن دستوں کا آج عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ 

امن دستور کے عالمی دن کا مقصد عالمی امن کے لئے ان دستوں کے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ اس سال دن کا موضوع ہے ''بہتر مستقبل کیلئے مشترکہ کوششیں'' اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شمولیت کے ذریعے پاکستانی امن فوجی دستے عالمی ادارے کے مشنوں کو مہارت اور لگن کے ساتھ مکمل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے امن مشنوں کے دوران 27 افسروں سمیت 171 پاکستانی فوجیوں نے عالمی امن کی بحالی کے لئے اپنی جانیں قربان کیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سپریم کورٹ رجسٹرار کابرطانوی ہائی کمیشن کے نام اہم خط

برطانوی ہائی کمیشن کو خط رجسٹرارسپریم کورٹ نے چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پرلکھا۔

تفصیلات کے مطابق خط کے متن کے مطابق ہائی کمشنرنےعاصمہ جہانگیرکانفرنس میں جمہوریت، کھلےمعاشرے کی بات کی، سپریم کورٹ آف پاکستان نے غلطیوں کاازالہ کیا ہے، ضرورت اس امرکی ہے کہ برطانیہ بھی غلطیوں کاازالہ کرے۔

رجسٹرارسپریم کورٹ نے خط میں لکھا کہ خط میں1953میں ایرانی حکومت کاتختہ الٹنےکاذکرکیاگیا ہے، خط میں بالفوراعلامیہ کے ذریعےاسرائیلی ریاست کے قیام کا تذکرہ بھی کیا گیا۔

رجسٹرارنے خط پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنرجین میریٹ کےنام بھجوایا جس میں کہا گیا کہ عاصہ جہانگیرکانفرنس میں آپکی تقریرمیں جمہوریت کی اہمیت کواجاگرکیا گیا۔ آپ کی تقریرمیں انتخابات اورکھلے معاشرےکی اہمیت کواجاگرکیاگیا۔

خط کے متن کے مطابق برطانوی حکومت کی طرف سے دکھائی جانے والی دلچسپی خوش آئند ہے، انتخابات بروقت نہیں ہوسکے تھے کیونکہ صدر، الیکشن کمیشن متفق نہیں تھے، پاکستان میں اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے 90 دن کےاندرانتخابات ضروری تھے ، خط میں لکھا گیا کہ صدر، ای سی متفق نہیں تھے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنے کا اختیارکس کو ہے، سپریم کورٹ نے یہ معاملہ صرف 12 دن میں حل کردیا، 8 فروری2024کوپورے پاکستان میں عام انتخابات ہوئے۔ الیکشن لڑنےکے خواہشمندبہت لوگوں کو تاحیات  پابندی کاسامناکرناپڑتاتھا۔

خط یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی طرف سےانہیں ایماندار’’صادق وامین‘‘ نہیں سمجھاجاتاتھا، بنچ نے پہلے کے فیصلے کوکالعدم قراردیتے ہوئے کہا یہ آئین وقانون کےمطابق نہیں۔ انٹراپارٹی الیکشن آمریت روکنے، سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی ضرورت ہے۔

رجسٹراسپریم کورٹ کی جانب سے خط میں لکھا گیا کہ جمہوری اصول کی تعمیل کویقینی بنانےکےلیےقانون میں شرط رکھی گئی ہے، انٹراپارٹی الیکشن نہیں کراتی تو پارٹی انتخابی نشان کیلئے اہل نہیں ہوگی۔ ایک جماعت نے خود قانون کےلیے ووٹ دیا اس نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کرائےتھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے خط میں یہ بھی کہا گیا کہ سپریم کورٹ نےاس بات کااعادہ کیاقانون نےکیاکہاہے، اس فیصلے کے حوالے سے آپ کی تنقید بلاجوازتھی، موجودہ چیف جسٹس کےعہدہ سنبھالنے کے بعد مقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔

برطانوی ہائی کمشنر کو لکھے گئے خط کے متن کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارعوامی اہمیت کےمقدمات براہ راست نشر ہونے لگے۔ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے مقدمات لائیو نشرکرنے کی اجازت دی، پاکستانی عوام سپریم کورٹ کی کارروائی کو مکمل طورپردیکھ سکتےہیں۔

خط کے متن میں مزید کہا گیا کہ مقدمات لائیو نشرکرنے سے عوام کوبھی شفافیت اورفیصلوں سے متعلق علم ہوگا، انٹراپارٹی الیکشن، پارٹی نشانات سے متعلق فیصلہ بھی براہ راست نشر کیا گیا بھی براہ راست نشرکیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سول سروسز اکیڈمی کا گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم کا آغاز

گرمی سے متعلقہ بیماریوں میں بہت سے مسائل شامل ہیں، جن میں سنبرن، ہیٹ ریش، گرمی کے درد، ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی تھکن شامل ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سول سروسز اکیڈمی  کا  گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم کا آغاز

لاہور: سول سروسز اکیڈمی کی کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ انوائرمنٹ سوسائٹی (CSA) نے گرمی کی لہر کو کم کرنے کی مہم شروع کی ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنا ہے۔

پہلے مرحلے میں  دو امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، ہر ایک کا مقصد تازگی فراہم کرنا اور احتیاطی تدابیر سے متعلق اہم معلومات پھیلانا ہے۔

سی ایس اے  کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ، ڈائریکٹر PS صادق چوہان نے مہم کی قیادت کی جس کا اہتمام کمیونٹی ڈویلپمنٹ اینڈ انوائرمنٹ سوسائٹی کے صدر طلحہ رفیق عالم، جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علینہ شکیل ناگرا اور انڈر ٹریننگ اسسٹنٹ کمشنرز نے بدھ کو  کیا تھا۔


ہال روڈ ٹریڈرز یونین کے تعاون سے ایک دوسرا ریلیف کیمپ ہال روڈ پر قائم کیا گیا، جہاں کمیونٹی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اسی طرح کی کوششیں کی گئیں۔ اس مقام پر تعینات رضاکاروں نے فزی ڈرنکس بھی تقسیم کیں جبکہ حاضرین کو ہائیڈریٹ رہنے کی اہمیت اور اعلی درجہ حرارت کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کے بارے میں فعال طور پر آگاہ کیا۔

صحت کے ماہرین نے لوگوں کو بتایا کہ زیادہ تیز درجہ حرارت کے ساتھ ملک کے بیشتر حصوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے ساتھ گرمی سے متعلقہ بیماری کے خطرات اور علامات کو جاننا ضروری ہے اور اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو کیسے محفوظ رکھنا ہے کیونکہ گرمی کی لہر خاص طور پر خطرناک ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ گرمی سے متعلقہ بیماریوں میں بہت سے مسائل شامل ہیں، جن میں سنبرن، ہیٹ ریش، گرمی کے درد، ہیٹ اسٹروک اور گرمی کی تھکن شامل ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll