سات دن کے اندر وزیراعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لیں گے۔


لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ پرویز الہی کو بحال کردیا ، عدالت نے انڈرٹیکنگ لیتے ہوئے اپنا فیصلہ جاری کردیا ، سات دن کے اندر وزیراعلیٰ پنجاب اعتماد کا ووٹ لیں گے۔
بحالی کے فیصلے کے بعد وزیراعلیٰ سمیت صوبائی کابینہ بھی بحال ہوگئی ہے ۔ عدالت نے گورنر کا نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے ۔ عدالت نے سماعت گیارہ جنوری تک ملتوی کردی ۔
اس سے قبل سماعت میں چوہدری پرویز الہیٰ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر سمجھے کہ وزیر اعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں تو وہ اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں مگر عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے.
وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کی۔
اس سے قبل تشکیل دیئے گئے 5 رکنی بینچ میں شامل جسٹس فاروق حیدر نے پرویز الہیٰ کی درخواست سننے سے معذرت کر لی جس کے بعد بینچ تحلیل ہو گیا تھا۔
پرویز الہٰی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل میں کہا کہ پرویز الہٰی 186 ووٹ لے کر وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے لیکن اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی نے ق لیگ کے 10 ووٹ نکال دیئے تھے۔
ڈپٹی اسپیکر نے چودھری شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ق لیگی اراکین کے ووٹ تصور نہیں کیے اور معاملہ عدالت گیا جہاں سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ گورنر وزیر اعلیٰ کو آئین کے آرٹیکل 130 کے سب سیکشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے،
اگر گورنر سمجھیں کہ وزیر اعلیٰ اکثریت کھو چکے ہیں تو اعتماد کا ووٹ کے لیے کہہ سکتے ہیں، اعتماد کے ووٹ کے لیے گورنر اجلاس سمن کرتا ہے تاہم گورنر کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کا کہنے کےلیے ٹھوس وجوہات ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی ہوں گے اور وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے،
20 اراکین اسمبلی کے دستخط کے ساتھ تحریک جمع ہو سکتی ہے، وزیر اعلیٰ کو اسمبلی منتخب کرتی ہے تعینات نہیں کیا جاتا اور عدم اعتماد کے لیے الگ سے سیشن بلایا جاتا ہے۔ گورنر عدم اعتماد کے لیے دن اور وقت کا تعین نہیں کر سکتا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جب 3 سے 7 دن کا وقت ہے تو اعتماد کے ووٹ کے لیے ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ علی ظفر نے جواب دیا کہ عدم اعتماد کے لیے بھی طریقہ کار موجود ہے اراکین کو نوٹس دیتے ہیں۔
عدالت نے پوچھا کے کیا قانون کے مطابق اسی دن ووٹنگ نہیں ہو سکتی ؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو اختیار ہے وہ ایک ہی دن نوٹس اور ووٹنگ کراسکتا ہے،
اسپیکر پنجاب اسمبلی عدم اعتماد کی تحریک میں اراکین کو مناسب وقت دے سکتے ہیں، اسپیکر کے پاس اختیار ہے کہ وہ مناسب وقت جو 10 سے 15 کا ہو دے سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ٹرمپ کے درمیان بات چیت کی تصدیق
- a day ago

وزیراعظم کا سعودی عرب کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ
- an hour ago

پاکستان ریلویز کو عید کے تین دنوں میں مسافر ٹرینوں سے ریکارڈ آمدن حاصل کر لی
- a day ago

طویل عرصہ بعد پنجابی فلم میں کام کیا،پسند کرنیوالوں کا دل سے ممنون ہوں،اداکار شان شاہد
- a day ago

پاکستان نے جنگ بندی کیلئے امریکی تجاویز ایران کے حوالے کردیں
- 9 minutes ago
ڈرون حملہ: کویت ایئرپورٹ کے فیول ٹینک میں آگ بھڑک اٹھی
- 2 hours ago

پاکستان میں سونے کے نرخ میں آج پھر بڑا اضافہ
- 2 hours ago

امریکا اور ایران کی رضامندی سے پاکستان مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیار ہے، وزیر اعظم
- a day ago

محمد باقر ذوالقدرعلی لاریجانی کی جگہ ایران کے نئے سیکیورٹی چیف مقرر،ایرانی میڈیا کی تصدیق
- a day ago

سال 2025 میں پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ سموگ زدہ ملک قرار
- a day ago

وزیراعظم کی زیرصدارت سیاسی و عسکری قیادت کا اجلاس، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی سمیت توانائی بحران زیر غور
- a day ago

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی :پنجاب کے تعلیمی اداروں میں 15 اپریل تک چھٹیوں کی سفارش
- a day ago





.jpg&w=3840&q=75)
.webp&w=3840&q=75)




