جی این این سوشل

پاکستان

وزیر توانائی بریک ڈاؤن کے دوران مختلف دکانوں پر پائے کھاتے رہے، فواد چودھری

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چودھری نے کہا ہے کہ وزیر توانائی بریک ڈاؤن کے دوران مختلف دکانوں پر پائے کھاتے رہے، ہمارے دور میں بریک ڈاؤن ہوا تو عمر ایوب 10 گھنٹے کنٹرول روم میں رہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

وزیر توانائی بریک ڈاؤن کے دوران مختلف دکانوں پر پائے کھاتے رہے، فواد چودھری
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر پنجاب انتخابات کی تاریخ نہیں دیں گے تو آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا پڑے گا، ان کے گلے میں وہی رسے پڑیں گے جو آئین نے دیے ہیں۔

فواد چودھری نے کہا کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا،ملک میں نئے انتخابات سے ہی استحکام آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی حیثیت ایک منشی جیسی ہو گئی ہے۔آج ہم نے الیکشن کمیشن میں درخواست دی ہے، ہمارے ایوانوں میں 65 فیصد نشستیں خالی ہیں، صرف 35 فیصد کو بچانے کیلئے دوبارہ انتخابات ہونا ناممکن ہے، پارلیمنٹ کے اندر اس وقت 40 فیصد نشستیں خالی ہیں۔

سابق وزیر اطلاعات نے کہا جو لوگ 25 مئی میں براہ راست ملوث تھے ان کو تعینات نہ کیا جائے، جب تک آپ کو سزا نہ دے دیں آپ کا پیچھا کریں گے، بادشاہی سدا نہیں رہتی، آپ 3 یا 4 ماہ کیلئے ہیں، راجہ ریاض کو ہٹانے کیلئے اعلان کیا تو استعفے منظور کرنے لگے، پہلے استعفے منظور ہی نہیں ہو رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو ہٹانا ہی ان کا مقصد رہ گیا ہے، ایسا لگ رہا ہے پی ڈی ایم حکومت کا پاکستان سے تعلق ہی نہیں، نگران وزیر اعلیٰ تو ایک چہرہ ہے پیچھے تو کوئی اور ہے، آج لاہور کے لوگوں نے ان کو مسترد کر دیا۔

کھیل

افتخار احمد کے وہاب ریاض کو ایک اوور میں چھ چھکے،گلیڈی ایئٹرز کا زلمی کو 185 رنز کا ہدف

کوئٹہ: پشاور زلمی نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف نمائشی میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بالنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

افتخار احمد کے وہاب ریاض کو ایک اوور میں چھ چھکے،گلیڈی ایئٹرز کا زلمی کو 185 رنز کا ہدف

بگٹی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں پشاور زلمی کے کپتان بابراعظم نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 9 اوورز میں گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 60 رنز بناکر سکی ہے جبکہ اسکے 4 کھلاڑی پویلین لوٹ گئے ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے احسان علی 5، عمر اکمل صفر، کپتان سرفراز احمد 4 اور عبدالواحد بنگلزئی 28، خوشدل شاہ 36 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ افتخار احمد نے 50 گیندوں پر 94 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر ٹیم کا اسکور 184 رنز تک پہنچادیا۔

پشاور زلمی کی جانب سے وہاب ریاض نے 3، اسامہ میر اور عامر جمال نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں میچ کے دوران تماشائیوں نے کھلاڑیوں پر پتھر برسا دیئے تھے جس کے باعث انتظامیہ نے کچھ دیر کیلئے میچ روک دیا تھا۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

سرفراز احمد (کپتان)، احسن علی، بسم اللہ خان، عمر اکمل، افتخار احمد، محمد نواز، ایمل خان، نسیم شاہ، محمد حسنین، عمید آصف، عبدالواحد بنگلزئی

پشاور زلمی

بابر اعظم (کپتان)، محمد حارث، صائم ایوب، حسیب اللہ، اعظم خان، عامر جمال، اسامہ میر، شاہد آفریدی، وہاب ریاض، سلمان ارشاد

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یوم یکجہتی کشمیر:کشمیریوں کے عزم کو دبایا نہیں جاسکتا،آئی ایس پی آر

 ملک بھر آج یوم یکجہتی کشمیر  ملی جوش اور جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یوم یکجہتی کشمیر:کشمیریوں کے عزم کو دبایا نہیں جاسکتا،آئی ایس پی آر

یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے وزیراعظم شہبازشریف آزادکشمیر اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے تمام راستوں پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں کا ساتھ دینے کا عزم کا اظہار کیا جائے گاجبکہ سائرن بجاکر ایک منٹ کی خاموشی اختیارکی جائےگی۔

عسکری قیادت کا پیغام

عسکری قیادت  نے یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر کشمیری بھائیوں کو بھرپورخراج تحسین پیش کیا ہے۔ٓچیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی،مسلح افواج کے سربراہان  کی جانب سے خصوصی پیغام میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے عزم کو دبایا نہیں جاسکتا ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  کے مطابق خصوصی پیغام میں  کہا گیا ہے کہ کشمیروں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق ارادیت ملنا چاہیے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا پیغام

دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارت اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے آہنی عزم  کو کچل سکتا ہے تووہ  غلطی پر ہے، یوم یکجہتی کشمیر پر  اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر  حل طلب مسائل میں سے ایک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے جموں وکشمیر کے عوام کو جبر سے دبایا  ہوا ہے، مقبوضہ کشمیر میں صورتحال  بھارت کے  پانچ اگست دو ہزار انیس کے غیر قانونی اقدامات کے بعد بدترین رخ اختیارکرچکی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو پاکستان اور کشمیریوں نے  یکسر مسترد کر دیا ہے،کچھ بھی ہوجائے،پاکستانی قوم  کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ شانہ بشانہ  کھڑی ہے۔

وزیر خارجہ بلاول بھٹو  کا پیغام

بلاول بھٹو زرداری نے یوم یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  جب تک کشمیری بھارتی مظالم کا شکار ہیں پاکستان کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھے گا ، جموں و کشمیر کا تنازع پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے گا۔

ان  کا کہنا ہے کہ ہم کشمیری عوام کی اس وقت تک غیرمتزلزل اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے جب تک کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت حاصل نہیں ہو جاتا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا؟
امریکہ نے سپر پاور کا مقام کھو دیا
قیافہ شناسی
فرحان ملک
نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) اتحاد امریکہ اور کینیڈا کے علاوہ دس یورپی ممالک کیطرف سے World War 2 کے نتیجے میں اپنی حفاظت کیلئے بنایا جانے والے اتحاد کا بنیادی مقصد اُس وقت کی سپر پاور سوویت یونین سے نمٹنا تھا۔جنگ کے ایک فاتح کے طور پر دنیا میں اپنی قوت دکھانے کے بعد سوویت یونین فورسز کی ایک بڑی تعداد مشرقی یورپ میں موجود رہی،اور ماسکو نے مشرقی جرمنی سمیت کئی ممالک پر کافی اثر و رسوخ قائم کئے رکھا۔جرمنی کے دارالحکومت برلن پر سویت یونین افواج نے قبضہ کر لیا 1948 کے وسط میں سوویت یونین کے لیڈر جوزف سٹالن نے مغربی برلن کی ناکہ بندی شروع کر دی، جو اُس وقت مشترکہ طور پر امریکی، برطانوی اور فرانسیسی کنٹرول میں تھا۔شہر میں محاذ آرائی سے کامیابی سے گریز کیا گیا لیکن اس بحران نے سوویت طاقت کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد کی تشکیل کی تکمیل کا سفر تیز کر دیا۔1949 میں امریکہ اور 11 دیگر ممالک (برطانیہ، فرانس، اٹلی، کینیڈا، ناروے، بیلجیئم، ڈنمارک، نیدرلینڈز، پرتگال، آئس لینڈ اور لکسمبرگ) نے ایک سیاسی اور فوجی اتحاد تشکیل دیا۔ 1952 میں اس تنظیم میں یونان اور ترکی کو شامل کیا۔1955 میں مغربی جرمنی بھی اس اتحاد میں شامل ہوا۔وارسا معاہدہ 1991ء میں بیشتر سوشلسٹ حکومتوں اور سوویت اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد تحلیل ہو گیا۔1999ء کو وارسا معاہدے کی سابق رکن ریاستیں ہنگری، پولینڈ اور چیک جمہوریہ نے نیٹو میں شمولیت اختیار کر لی۔ بلغاریہ، اسٹونیا، لتھووینیا، رومانیہ اور سلوواکیہ مارچ 2004ء میں نیٹو کا حصہ بنے جبکہ البانیہ یکم اپریل 2009ء کو شامل ہوا۔اور اسطرح انکے ارکان کی کل تعداد 29 ہو گئی۔ مونٹنیگرو جون 2017 میں اس کا حصہ بننے والا آخری ملک تھا۔
 
نیٹو اپنی قوت کیساتھ جس ملک میں داخل ہوا وہاں سے اسکو مجبوراً انخلاء کرنا پڑا، امریکہ 1975 سے منہ کے بل گرتا آ رہا ہے۔ امریکہ اب صرف اکیلا سپر پاور نہیں رہا۔ نیٹو اتحاد کافی جارحیت کا شکار ہوچکا ہے۔ روس کیساتھ جنگ مول نہیں لے سکتا۔ نیٹو کی تیس ممالک کا معاہدہ اختتام پذیر ہی سمجھا جائے کیونکہ تیس ممالک کا مشترکہ اعلامیہ تھا کہ نیٹو کے ممبر ممالک پر اٹیک پوری نیٹو پر حملہ تصور کیا جائے گا تمام ممالک ایک ساتھ ملکر ایک ہی فیصلے پر لبیک کہیں گے۔ مگر یوکرین کے روسی حملے پر نیٹو سمیت امریکا پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ نیٹو ممبر شپ رکھنے والے ممالک کی رائے تبدیل ہوچکی ہے۔پولینڈ اپنے طیارے یوکرین نہیں بھیجنا چاہتا۔یوکرین نے مزید TB-2 خریدنے کے لئے ترکی سے رابطہ کیا مگر نیٹو کی بے حسی پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔نیٹو کے اس عمل سے پوری دنیا کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔نیٹو کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو ’فرسودہ‘ کہا تھا کہ اگر وہ تنظیم ’ٹوٹ جائے‘ تو انھیں ’کوئی مسئلہ‘ نہیں ہو گا۔امریکہ اتحادی ممبروں پر حملے کی صورت میں ان کا دفاع کرنے کے عزم کی پابندی کرنے یہاں تک کہ تنظیم کو بھی چھوڑ سکتا ہے۔2018 میں پھر ٹویٹ کیا کہ ’امریکہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں نیٹو پر بہت زیادہ خرچ کر رہا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے امریکہ خود تین چار سال پہلے سے نیٹو سے تنگ آ چکا ہے۔فرانسیسی صدر ایمنیوئل میکخواں نے کہاکہ نیٹو ’دماغی طور پر مردہ‘ ہے امریکہ کی نیٹو سے متعلق ذمہ داریوں میں سنجیدگی پر کہا،امریکہ نیٹو کو اطلاع دیے بغیر شام سے فوجیوں کے انخلا کا فیصلہ کر لیا۔ فرانسیسی صدر نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ حملے کی صورت میں نیٹو کے ارکان ایک دوسرے کے دفاع کے لیے آئیں گے۔نیٹو کی ساخت کب سے ڈوب چکی تھی۔ جس کا فزیکل روس یوکرین تنازعہ پر نتائج سامنے آ گئے ہیں۔
 
روس نے جنگ کا پہلا objective حاصل کر لیا۔ دونباس اور کرائمیا کے درمیان لینڈ bridge کامیابی سے establish کر لیا۔ نیٹو مشکلات کی زد میں آگیا ہے نیٹو اگر روس کا مقابلہ کرتا ہے تو یہ عالمی جنگ یعنی تیسری جنگ عظیمWorld War 3 شروع ہوجائے گی۔ امریکہ جنگ لڑنے کی حالت میں نہیں ہے۔وہ پہلے کئی سالوں سے پٹتا آ رہا ہے۔ سوویت یونین والا فارمولہ Put کر دیا گیا ہےسویت یونین کا خاتمہ ہوا۔روس پیچھے چلا گیا، امریکہ اکیلا سپر پاور کے طور پر متعارف ہوا،مگر اب نیٹو کی بےحسی اور امریکہ کی بزدلی نے امریکہ کو اکیلے سپر پاور رہنے کا Label اتارنے پر مجبور کردیا۔ نیٹو بھی بڑی فوج کا مقام رکھنے والی فورسز بھی نہیں رہی۔ جنگیں یورپ نے شروع کیں تھیں ایشیا سے واپس یورپ کے گلے پڑ گئی ہیں۔ روس پھر سوویت یونین والی طاقت بحال کرنے کے قریب پہنچ رہا ہے۔روس نے اگلے چند ماہ میں ایک اینٹی فاشسٹ کانفرنس بلانے لگا ہے جس کے لیئے چین، سعودی عرب، پاکستان، انڈیا، عرب امارات، ازبکستان، آذربائجان اور ایتھوپیا سمیت دوسرے ممالک کو دعوت دی جائے گی۔ چین روس کی مدد کر کے سپر پاور کا اعلان بھی کر سکتا ہے۔ مگر اب نیٹو اور امریکہ پر کوئی ملک اعتماد نہیں کرے گا۔
پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll