جی این این سوشل

پاکستان

پولیس کا سیڑھیاں لگاکر چودھری پرویز الٰہی کی رہائشگاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش

گجرات میں سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی رہائشگاہ کا دوبارہ محاصرہ کرلیاگیا۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پولیس کا سیڑھیاں لگاکر  چودھری پرویز الٰہی کی رہائشگاہ کے اندر داخل ہونے کی کوشش
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

تفصیلات کے مطابق گجرات میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور سابق رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی کی رہائشگاہ کنجاہ ہاﺅس کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے، پولیس کی بھاری نفری رہائشگاہ کے باہر جمع ہے۔

 ڈی پی او کی قیادت میں پولیس کی بھاری نفری کنجاہ ہاﺅس پہنچی، نفری میں پولیس، ایلیٹ فورس کے 10 سے زائد تھانوں کے اہلکار شامل ہے،پولیس کی جانب سے چودھری پرویز الٰہی کی رہائشگاہ کے اندر جانے کی کوشش کی جارہی ہے، اہلکار سیڑھیاں لگا کر پرویز الٰہی کی رہائشگاہ کے اندر جانے کی کوشش کرہے ہیں۔

ذرائع کاکہناہے کہ سابق وزیراعلیٰ کی رہائشگاہ پر گیٹ کیپر اور ملازم موجود ہیں ، پرویز الٰہی کی فیملی کا کوئی فرد گھر پر موجود نہیں ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی لاہور اور مونس الٰہی بیرون ملک مقیم ہیں ۔

یاد رہے کہ چند روز بھی پولیس نے چودھری وجاہت اور ان کے بیٹے موسیٰ الٰہی کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے تھے تاہم انہیں کوئی کامیابی نہ مل سکی۔

دنیا

ایران اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط

ملک نے اب تک روسی کمپنیوں کے ساتھ ایران کی 8 آئل فیلڈز تیار کرنے کے معاہدے کیے ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایران اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط

تہران: ایران اور روس نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے 19 دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ شنہوا کے مطابق ایرانی وزارت تیل سے وابستہ شنا نیوز ایجنسی نے رپورٹ میں بتایا کہ ان دستاویزات پر دستخط گزشتہ روز ایران کے دارالحکومت تہران میں دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کے 17ویں اجلاس کے اختتام پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں میں توانائی، صحت، تجارت اور تعلیم جیسے شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ان دستاویزات پر دستخط کے بعد روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے وزیر تیل جواد اوجی نے کہا کہ ملک نے اب تک روسی کمپنیوں کے ساتھ ایران کی 8 آئل فیلڈز تیار کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کے اضافی شعبوں کی ترقی کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور نئے معاہدوں پر جلد دستخط کیے جا سکتے ہیں۔ روسی نائب وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل کے شعبوں، کاروں کی تیاری اور خدمات کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھا سکتے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

سینیٹ کی نشستوں کی حد تین سال بعد ختم ہونے والی تھی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نائب صدر اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ دے دیا اور رکن قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا۔

تفصیلات کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو پیش کردیا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوسف رضا گیلانی کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے سینیٹ کی نشست سے استعفیٰ کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یوسف رضا اس وقت چیئرمین سینیٹ بنیں گے جب ان کی سینیٹ کی نشستوں کی حد تین سال بعد ختم ہونے والی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو، ریاض المالکی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حماس کو اگلی فلسطینی حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہئے، فلسطیی وزیر خارجہ

فلسطینی اتھارٹی کے وزیر خارجہ ریاض المالکی نے بڑے کھلے الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ انہیں ماسکو میں فلسطینی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں کسی معجزے کا امکان نہیں ہے، جس کے تحت اگلی حکومت میں حماس بھی شامل ہو سکتی ہو۔ کیونکہ اس وقت ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو دنیا کو قابل قبول ہو۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا حماس کو بھی اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ وہ اگلی حکومت کا حصہ نہیں بن سکے گی۔ اب ٹیکنوکریٹس کی حکومت کی ضرورت ہے۔ ٹیکنو کریٹس کی ایسی حکومت جو کسی ایسے گروپ کے بغیر ہو جو اسرائیل کے ساتھ ایک بڑی تلخ جنگ لڑ رہا ہو، یہ وقت ایک مخلوط حکومت قائم کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں حماس کی شمولیت کی وجہ سے بہت سے ملک ہماری حکومت کا بائیکاٹ کر دیں گے۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکا ہے۔

ریاض المالکی نے مزید کہا  ہم نہیں چاہتے کہ دوبارہ وہی صورت حال بن جائے ، ہم دنیا کے لیے قابل قبول بننا چاہتے ہیں تاکہ ہم دنیا کے ساتھ مل کر کام کر سکیں ۔  ہم کسی معجزے کی توقع نہیں کر رہے کہ ماسکو میں کوئی معجزہ ہو جائے گا۔

واضح رہے فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم نے پیر کے روز اپنی حکومت سے استعفیٰ دیدیا تھا مگر صدر محمود عباس نے اگلی حکومت کی تشکیل تک انہیں اور ان کی حکومت کو کام جاری رکھنے کے لیے کہا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی دنیا کی بڑی طاقتوں اور اسرائیل کے انداز میں سوچتی ہے کہ غزہ کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کی نئی حکومت بننی چاہیے جو غزہ اور رام اللہ دونوں کا کنٹرول رکھتی ہو۔

تاہم ریاض المالکی نے کہا  ہماری اس وقت ترجیح یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ جڑی رہے تاکہ فلسطینیوں کو ہنگامی طور پر ریلیف ملتا رہا اور پھر دیکھا جا سکے کہ غزہ کی تعمیر نو کیسے کرنی ہے۔ ہاں بعد ازاں جب صورت حال بہتر ہو گی تو ہم اور طرح سوچ سکتے ہیں۔ مگر ابھی ہمیں درپیش مسئلے سے نکلنا ہے۔ کہ اس پاگل جنگ کو کیسے روکیں فلسطینی عوام کا تحفظ کیسے کریں۔'

انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ سمجھتے ہیں کہ حماس سمجھتی ہو گی کہ اسے حکومت کا حصہ کیوں نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے تصور کی حماس بھی حمایت کرے گی۔ ایک ایسی حکومت جو ماہرین پر مشتمل ہو۔ جس میں ایسے افراد شامل ہوں جو ان حالات میں باگ دوڑ سنبھالنے اور ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں کہ یہ ایک مشکل ترین وقت ہے۔ ہمیں اس میں قابل قبول عبوری حکومت بنا کر انتخابات کی طرف بھی بڑھنا ہوگا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll