جی این این سوشل

پاکستان

پی ایس ایل میچز کی سیکیورٹی: وزیر اعظم کی نجم سیٹھی کو تعاون کی یقین دہانی

لاہور میں ہونے والے پی ایس ایل 8 کے میچز کی سکیورٹی کے معاملے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف نے نجم سیٹھی کو مکمل تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرادی۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پی ایس ایل میچز کی سیکیورٹی: وزیر اعظم کی نجم سیٹھی کو تعاون کی یقین دہانی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی نجم سیٹھی نے  وزیر اعظم شہباز شریف سے رابطہ کیا ہے، انہوں نے وزیر اعظم کو سیکیورٹی کی مد میں پیسے نہ دینے کے حوالے سے بتایا ہے۔

ذرائع کے مطابق نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ایچ بی ایل پی ایس ایل قومی ایونٹ ہے اس کا انعقاد قومی اداروں کی ذمے داری ہے، پیسوں کے مطالبے سے دستبردار نہ ہوئے تو میچز کراچی میں کرانے پر مجبور ہوں گے۔ دوران گفتگو نجم سیٹھی نے وزیر اعظم کو نگران پنجاب حکومت کے رویے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے کہ میچز کراچی منتقل کرنا ایک مشکل فیصلہ ہو گا لیکن بورڈ مجبوری میں یہ فیصلہ کرے گا۔

وزیراعظم نے نجم سیٹھی کو ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایس ایل قومی ایونٹ ہے،آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ واضح رہے کہ نگراں پنجاب حکومت نے ملتان ، لاہور اور راولپنڈی میں پی ایس ایل 8 کے میچز کے لئے مختلف مدات میں 50 کروڑ روپے مانگے تھے۔ جن میں سے 5 کروڑ روپے پی سی بی نے ادا کردیئے۔

پی سی بی کا موقف ہے کہ کراچی میں میچز  کے اخراجات سندھ حکومت ادا کرتی ہے، سندھ حکومت نے اب تک پی سی بی سے کچھ بھی نہیں مانگا تو پنجاب حکومت بھی رقم کا تقاضا نہ کرے۔

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وفاقی وزیر اطلات عطا تارڑ کی قوم سے درخت لگانے کی اپیل

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک اسلام آباد کی پہچان ہے اور اسے تمام خطرات سے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وفاقی وزیر اطلات عطا تارڑ کی قوم سے درخت لگانے کی اپیل

اسلام آباد: وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا  کہ درخت لگانے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے محفوظ رکھا جا سکے۔  

آج اسلام آباد میں کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے زیر اہتمام شجر کاری مہم میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت درخت لگانے اور ہوا کے معیار میں بہتری لانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں درخت لگانے کو قومی فریضہ سمجھ کر اس مہم کو تعلیمی اداروں کی سطح تک لے جانا چاہیے۔


عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ مارگلہ نیشنل پارک اسلام آباد کی پہچان ہے اور اسے تمام خطرات سے بچانا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ 


عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ ایک ایپ بھی لانچ کی جائے گی، جس سے لوگ اپنے لگائے گئے درختوں کا سراغ لگا سکیں گے۔ اس سے وہ اپنے درختوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکیں گے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ذمہ داری کاربن کے اخراج کے بڑے شراکت داروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کریں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کاربن کے اخراج میں صرف دو فیصد حصہ ڈالتا ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔





پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز فعال بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع

الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سلمان اکرم راجہ کا پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز  فعال بنانے کے لیے  سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز کو فعال بنانے کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے  4 جولائی کے عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی۔

درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 4 جولائی کو جاری فیصلے میں الیکشن کمیشن کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے مشاورت کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ نے مشاورت کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائنز مہیا نہیں کیں، چیف جسٹس کی جانب سے کسی بھی جج کی تعیناتی کو سب سے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کا فیصلہ درست تھا، الیکشن کمیشن کا لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے تعینات ججز کو نا ماننے کے پیچھے قانونی جواز نہیں، سپریم کورٹ کے دو ججز نے الیکشن کمیشن کا موقف غلط قرار دیا کہ ان کے پاس ٹریبونلز کیلئے ججز منتخب کرنے کا اختیار ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کرنا درست نہیں، سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے تعینات ججز کی نامزدگی معطل نہیں کی، لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریبونلز کیلئے نامزد ججز ہی موجود ہیں، الیکشن کمیشن لاہور ہائیکورٹ سے نامزد ججز پر مشاورت کرے اور وجوہات پیش کرے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کام جاری رکھنے والے الیکشن ٹریبونلز کو بحال کیا جائے، مشاورت کا مطلب الیکشن کمیشن نامزد ججز پر ٹھوس وجوہات پیش کرے، الیکشن کمیشن کے پاس لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نامزد ججز کی تعیناتی کو نہ ماننے کا اختیار نہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ پنجاب میں الیکشن ٹریبونلز میں کام کرنے والے ججز کے دائرہ کار کا تعین کرنے کا اختیار لاہور ہائیکورٹ کے پاس ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll