جی این این سوشل

پاکستان

صدر مملکت نے مسلح افواج کے جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا

صدر مملکت نے پاک فوج کے شہداء کو سٹار آف گڈ کنڈکٹ سے نوازا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

صدر مملکت نے مسلح افواج کے جوانوں کو فوجی اعزازات سے نوازا
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جمعہ کو یہاں ایوان صدر میں منعقدہ یوم پاکستان کی تقریب میں مسلح افواج کے خدمات انجام دینے والے اور شہید ہونے والے اہلکاروں کو فوجی اعزازات سے نوازا۔

پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے مجموعی طور پر 49 افسروں اور جوانوں نے فوجی اعزازات حاصل کیے جن میں چار شہید فوجیوں کے اہل خانہ کو آرڈر آف ایکسیلنس، کریسنٹ آف ایکسی لینس اور سٹار آف گڈ کنڈکٹ کی کیٹیگریز میں شامل کیا گیا۔ دوست ممالک کی دو غیر ملکی شخصیات نے بھی باوقار اعزازات حاصل کیے۔

بحرین کے نیشنل گارڈز کے کمانڈر شیخ محمد بن سلمان الخلیفہ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آرڈر آف ایکسیلنس (ملٹری) اور سعودی عرب کے دفاعی اتاشی میجر جنرل (پائلٹ) اسٹاف عواد بن عبداللہ الزہرانی کو کریسنٹ آف ایکسیلنس (ملٹری) سے نوازا گیا۔ 

صدر مملکت نے آپریشن ایریاز میں دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے پاک فوج کے شہداء کی بہادری کے اعتراف میں انہیں سٹار آف گڈ کنڈکٹ سے نوازا۔

ایوارڈز شہداء کے لواحقین نے وصول کیے، جن میں میجر شجاعت حسین (30 بلوچ رجمنٹ، انگور اڈا، جنوبی وزیرستان میں شہید)؛ کیپٹن بلال خلیل (آرمی میڈیکل کور، نوشکی، بلوچستان)؛ کیپٹن فہیم عباس (72 پنجاب رجمنٹ، بنوں کے علاقے جانی خیل میں شہید)؛ اور سپاہی محمد وقاص (18 فرنٹیئر فورس رجمنٹ، شمالی وزیرستان میں شہید)۔

صدر مملکت نے ائیر مارشل چوہدری احسن رفیق (ایئر ہیڈ کوارٹرز)، ائیر مارشل وقاص احمد سلہری (اے ایچ کیو)، میجر جنرل خرم نثار (جوائنٹ سروسز ہیڈکوارٹر)، میجر جنرل قمر النساء چوہدری (آرمی میڈیکل کور) کو کریسنٹ آف ایکسیلنس (ملٹری) عطا کیا۔ میجر جنرل عرفان علی مرزا (اے ایم سی)، میجر جنرل محمد رفیق ظفر (اے ایم سی)، ریئر ایڈمرل جاوید اقبال ( نیول ہیڈ کوارٹرز)، ریئر ایڈمرل محمد سہیل ارشد (این ایچ کیو)، ریئر ایڈمرل سلمان الیاس (این ایچ کیو)، ایئر وائس مارشل محمد ندیم صابر۔ (اے ایچ کیو)، میجر جنرل سید خرم شہزاد (اے ایم سی)، میجر جنرل بلال عمیر (اے ایم سی)۔

میجر جنرل محمد وسیم (اے ایم سی)، میجر جنرل محمد سہیل امین (اے ایم سی)، میجر جنرل عریق الرحمان سلہریا (اے ایم سی)، میجر جنرل محمد علیم (اے ایم سی)، ائیر وائس مارشل سلمان عباس شاہ (اے ایچ کیو)، میجر جنرل محمد اویس دستگیر۔ (جی ایچ کیو)، میجر جنرل احمد شریف چوہدری (جے ایس ایچ کیو)، ریئر ایڈمرل محمد فیصل عباسی (این ایچ کیو)، میجر جنرل عمر احمد بخاری (جی ایچ کیو) بھی کریسنٹ آف ایکسیلینس حاصل کرنے والوں میں شامل تھے۔

مزید برآں میجر جنرل عنایت حسین (جی ایچ کیو)، میجر جنرل کمال اظفر (فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن)، میجر جنرل محمد عامر نجم (نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی)، میجر جنرل عادل یامین (جی ایچ کیو)، میجر جنرل فہیم عامر (انٹر سروسز انٹیلی جنس)، میجر جنرل محمد عامر نجم جنرل شاہد منظور (جے ایس ہیڈکوارٹر)، میجر جنرل محمد کاشف آزاد (آئی ایس آئی)، میجر جنرل تبسم حبیب (جی ایچ کیو)، میجر جنرل کامران احمد ستی (جی ایچ کیو)، میجر جنرل عادل رحمانی، میجر جنرل محمد حسن خٹک (آئی ایس آئی)، میجر جنرل محمد حسن خٹک محمد شجاع انور (جنرل آفیسر کمانڈنگ)، میجر جنرل ماجد جہانگیر (جے ایس ہیڈکوارٹر) نے ایوارڈ وصول کیا۔

میجر جنرل اظہر وقاص (رینجرز)، میجر جنرل آصف محمود گورایہ (آرمی ایئر ڈیفنس)، میجر جنرل عاکف اقبال (آئی ایس آئی)، میجر جنرل راشد محمود، میجر جنرل محمد عرفان (جی او سی)، میجر جنرل دلاور خان (جے ایس ہیڈکوارٹر) جنرل عبدالمعید (جی او سی)، ریئر ایڈمرل محمد سلیم (این ایچ کیو)، ائیر وائس مارشل شمس الحق (اے ایچ کیو)، میجر جنرل چوہدری محمد قمر الحق نور اور ائیر وائس مارشل محمد قیصر جنجوعہ (اے ایچ کیو) کو کریسنٹ آف ایکسیلنس سے نوازا گیا۔ .

دنیا

نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ تحلیل کر دی

نیتن یاہو ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کریں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیتن یاہو نے 6 رکنی  جنگی کابینہ تحلیل کر دی

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے جنگی کابینہ تحلیل کر دی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے 6 رکنی جنگی کابینہ کو تحلیل کر دیا ہے، مرکزپسند سابق جنرل بینی گانٹرز کے استعفے کے بعد اس اقدام کی توقع کی جا رہی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اسرائیلی رہنما نے اس فیصلے کا اعلان گزشتہ شام سیاسی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں کیا تھا، اب نتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی شراکت دار ایک نئی جنگی کابینہ کے قیام کے لیے زور دے رہے ہیں۔نیتن یاہو اب جنگی کابینہ میں رہنے والے وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر سمیت وزرا کے ایک چھوٹے گروپ سے غزہ جنگ کے بارے میں مشاورت کیا کریں گے۔

نیتن یاہو کو وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرچ اور قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر جیسے قوم پرست مذہبی شراکت داروں کی جانب سے جنگی کابینہ میں شمولیت کے مطالبے کا سامنا تھا، یہ ایسا اقدام ہے جس سے امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تناؤ مزید بڑھ جائے گا۔

مذکورہ جنگی کابینہ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ کے آغاز پر تشکیل دی گئی تھی، جب بینی گانٹز نیتن یاہو کے قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہوئے، کابینہ میں گانٹز کے ساتھی گاڈی آئزن کوٹ اور مذہبی جماعت شاس کے سربراہ آریہ دیری کو بطور مبصر شامل کیا گیا تھا۔ بینی گانٹز اور آئزن کوٹ دونوں نے گزشتہ ہفتے نیتن یاہو حکومت کو اس اعتراض کے ساتھ چھوڑ دیا، کہ وزیر اعظم غزہ جنگ کے لیے کوئی حکمت عملی بنانے میں ناکام ہو گئے ہیں، ان کا مطالبہ تھا کہ امریکی اور اتحادیوں کے مطالبات کے باوجود غزہ پر بمباری جاری رکھی جائے، تاہم نیتن یاہو نے مبینہ طور پر انھیں مسترد کر دیا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے متجاوز

شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں، فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کل تعداد کا دو تہائی ہو سکتی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے متجاوز

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 37 ہزار سے تجاوز کر گئی ۔ اسرائیل کی جانب سے عیدا لاضحی کے روز بھی حملے جاری ہیں، آج کے حملوں میں مزید 40 فلسطینی شہید ہو گئےجس کے بعد 37337 تک پہنچ گئی۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق شہید ہونے والوں میں سب سے زیادہ فلسطینی بچے اور عورتیں شامل ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ یہ تعداد کل تعداد کا دو تہائی ہو سکتی ہے۔

وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 85229 ہے۔

واضح رہے کہ 7اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ دوسری عید ہے جس میں اسرائیلی فوج نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اتوار یعنی عید الاضحیٰ کے روز بھی اسرائیلی فورسز نے حملہ کرکے 40 فلسطینیوں کو شہید کیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کیلئے کیسز کو آہستہ چلایا جا رہا ہے، علی امین گنڈاپور

ہمارے قائد عمران خان کو جعلی کیسز میں سے جیل میں رکھا گیا ہے، وزیر اعلیٰ کے پی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی پی ٹی آئی کو جیل میں رکھنے کیلئے کیسز کو آہستہ چلایا جا رہا ہے، علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ اس وقت ہمارے قائد عمران خان کو جعلی کیسز میں سے جیل میں رکھا گیا ہے، جعلی کیسز کو آہستہ آہستہ چلایا جارہا ہے تاکہ انہیں لمبے عرصے تک جیل میں رکھا جاسکے،  مینڈیٹ چور حکومت ایک نحوست ہے اور جس نے اسے مسلط کیا اس پر بھی اس کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

علی امین گنڈاپور نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری طرف سے تمام اہل اسلام کو عید قرباں کی مبارکباد، جو صاحب استطاعت لوگ قربانی کر رہے ہیں ان سے اپیل ہے کہ وہ اپنے اردگرد مستحق لوگوں کا خاص خیال رکھیں۔میں آج پوری پاکستانی قوم سے مخاطب ہوں اور کچھ ضروری باتیں کرنا چاہتا ہوں، 

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو لمبے عرصے تک جیل میں رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے نظریے اور تحریک سے پیچھے ہٹ جائے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوگا، عمران خان نے قوم کو جگانے کی تحریک شروع کر رکھی ہے، عدلیہ سے اپیل ہے کہ ان جعلی کیسز کو جلد سے جلد ختم کیا جائے اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔

وزیر اعلیٰ کے پی کا کہنا تھا ک  وفاق میں فارم 47 والی حکومت عوام کا مینڈیٹ چوری کرکے بیٹھی ہوئی ہے، عوام کا مینڈیٹ چوری کروانے والوں کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک کو چلانے کا آپ کا طریقہ کار درست نہیں، عمران خان کی حکومت کو ایک سازش کے تحت ہٹا کر پی ڈی ایم کی ڈمی حکومت بٹھائی گئی، پی ڈی ایم کی حکومت نے اس وقت ملک کا جو حال کیا ہے وہ قوم کے سامنے ہے، ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کرکے آئین کو توڑا گیا، اس کے بعد ملک میں فسطائیت کا ایک دور شروع کیا گیا تاکہ تحریک انصاف کو ختم کیا جائے، وہ دور نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کی تاریخ کا بدترین دور تھا۔

علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ جو مینڈیٹ چور حکومت مسلط کی گئی ہے یہ ایک نحوست ہے، جنہوں نے اس حکومت کو مسلط کیا ہے ان پر بھی اس نحوست کے اثرات پڑ رہے ہیں، قوم ان لوگوں کو یکسر مسترد کرچکی ہے اور ان اداروں سے شکوہ کر رہی ہے جو ان لوگوں کو لے آئے ہیں، یہ سب جانتے ہوئے بھی ان لوگوں کو مسلط کیا گیا کہ ان لوگوں نے اس ملک کو لوٹا ہے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت یا عوام کا عزم کمزور ہوگا تو یہ ان کی بھول ہے، ہمارے حوصلے بلند ہیں اور ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں، یہ حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ ناروا سلوک کر رہی ہے اور بار بار کر رہی ہے، ہم اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنا حق لینے تک لڑتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں قوم کے ساتھ مذاق کیا گیا، یہ جھوٹا اور فراڈ بجٹ ہے، جس طرح یہ خود جھوٹے ہیں اسی طرح جھوٹے اعداد و شمار پر مبنی بجٹ پیش کیا ہے، ہم نے اعلان کیا تھا کہ ملازمین کی تنخواہیں وفاقی حکومت کے حساب سے بڑھائی جائیں گی، ایک دفعہ پھر مطالبہ کرتا ہوں کہ صوبے کے واجبات اور ضم اضلاع کے فنڈز ہمیں ادا کئے جائیں، صوبے میں امن و امان اور بے روزگاری کے مسائل درپیش ہیں، ہم نے لوگوں کو روزگار دینے کے لئے ایک فلاحی بجٹ دیا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے صوبے کی معیشت تباہ ہوئی ہے، صوبے کے نقصانات کا ازالہ ہونا چاہیے، ہمیں ہماری واجبات ملنے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ٹرولنگ کے ذریعے عمران خان اور پارٹی قائدین کے خلاف الزامات لگا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں اس کا فائدہ ہوگا، میں واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، آپ اپنی فیملی اور بچوں سے پوچھیں وہ بھی آپ کی اس پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، جن لوگوں نے ملک کو بار بار لوٹا ہے ان لوگوں کو حکومت میں بٹھا کر بڑا جرم کیا گیا، اس جرم کا ایک ہی ازالہ ہے کہ اللہ تعالٰی اور قوم سے معافی مانگی جائے اور اپنی اصلاح کی جائے، اگر اصلاح نہیں کی جائے گی تو قوم اپنے حق کے لئے نکلے گی، اس وقت مایوسی کا عالم ہے اور قوم اداروں سے مایوس دکھائی دے رہی ہے، قوم اب عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ عدلیہ کب انصاف کرے گی۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ جن لوگوں نے توشہ خانہ سے ممنوعہ چیزیں لی ہوئی ہیں وہ آج ملک کے صدر، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں، جن پارٹیوں نے منی لانڈرنگ کی جس کے ثبوت خود اداروں نے دیے وہ پارٹیاں آج حکومت میں بیٹھی ہیں، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ قوم یہ سب کچھ برداشت کرلے گی تو یہ غلط فہمی ہے، قوم جلد فیصلہ کرنے لگی ہے کہ اگر اصلاح احوال نہ ہوا تو قوم حقیقی آزادی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی، ہم اپنے حقوق کے لئے نکلیں گے تو کشتیاں جلا کر نکلیں گے، ایسے میں نقصان ان عناصر کا ہوگا جو قوم کو غلام بنانا چاہتے ہیں، بہتر ہے اس نقصان سے بچا جائے اور قوم کو بھی بچایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک بھی ہمارا ہے اور ادارے بھی ہمارے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ادارے ان کاموں پر توجہ دیں جن کے لئے انہیں بنایا گیا ہے اور ایسے کاموں سے گریز کیا جائے جو ادارے کے ساتھ ساتھ ملک کی بھی بدنامی کا باعث بنتے ہوں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll