جی این این سوشل

پاکستان

عمران خان مینارِ پاکستان میں فارن فنڈنگ، توشہ خانہ چوری اور ٹیریان کو اپنانے پربھی روشنی ڈالیں، مریم اورنگزیب

جس نے ملک کو تباہی اور تقسیم کی دلدل میں خود ڈالا ہو وہ نکال نہیں سکتا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

عمران خان مینارِ پاکستان میں فارن فنڈنگ، توشہ خانہ چوری اور ٹیریان کو اپنانے پربھی روشنی ڈالیں، مریم اورنگزیب
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عمران خان مینارِ پاکستان میں فارن فنڈنگ، توشہ خانہ چوری اور ٹیریان کو اپنانے پر بھی روشنی ڈالیں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم کو بتائیں کہ چار سال مہنگائی، بے روزگاری اور تباہی کی دلدل میں پاکستان کو کیسے دھنسایا اور ملک کو کیسے لوٹا، فتنے فسادی دہشت گرد سے قوم کو حقیقی آزادی دلوانے کا وقت آ گیا ہے۔

ہفتہ کو عمران خان کے ٹویٹ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹویٹس میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جس نے ملک کو تباہی اور تقسیم کی دلدل میں خود ڈالا ہو وہ نکال نہیں سکتا بلکہ وہ صرف فراڈیا اور دہشت گرد ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ کی حقیقی آزادی جانور، نیوٹرل ، جنرل باجوہ کی تاحیات ایکسٹینشن سے لے کر شہباز شریف سے ہوتی ہوئی محسن نقوی اور امریکا سے معافیوں تک پہنچی جو آج حقیقی طور پر دفن ہو چکی ہے جس کا جنازہ آج رات مینارِ پاکستان میں پڑھا جائے گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ فتنے فسادی دہشت گرد سے قوم کو حقیقی آزادی دلوانے کا وقت آ گیا ہے۔

 

پاکستان

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا

احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ افراد کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل تجویز کی تھی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا

اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ افراد کے کیسز میں لارجر بنچ تشکیل دے دیا ۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے سربراہی میں لارجر بنچ تشکیل دیا گیاجسٹس طارق محمور جہانگیری اور جسٹس ارباب محمد طاہر بھی لارجر بنچ کا حصہ ہوں گے،لارجر بنچ 30 جولائی سے لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کرے گا۔

احمد فرہاد کیس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتہ افراد کیسز کے لیے لارجر بنچ کی تشکیل تجویز کی تھی،چیف جسٹس لاپتہ کیسز کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں شامل نہیں ہیں ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پنجاب حکومت کا سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کا  سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب حکومت نے سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی پراسیکیوٹر جنرل کے توسط دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فہرست میں موجود ملزمان کو نوٹس جاری کئے جائیں اور ان کی ضمانت مسترد کی جائے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی فہرست میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید احمد سمیت 57 ملزمان کے نام شامل ہیں ۔ ان ملزمان کی ضمانت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے منظور کی۔

پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کردیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر


لاہور:  جرمن سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے پاکستان اور جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارت میں توسیع، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے آپشنز کی نشاندہی کے لیے کاروباری وفود کے دوطرفہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) لاہور کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ہے۔ ان کے ساتھ جنین روہور، فرسٹ سیکرٹری اکنامک اینڈ پولیٹیکل اور ڈاکٹر سیبسٹین پاسٹ، ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن بھی تھیں۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

جرمن سفیرنے کہا کہ حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو جرمنی میں سپلائی چین کے ضوابط کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ان کے مطابق جرمن ترقیاتی تعاون پاکستان میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرے گا۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے مکمل لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ اپٹما لاہور کے احاطے کی پیشکش کی۔ جرمنی کے ویزوں کے اجراء میں تاخیر کے حوالے سے سفیر نے کاروباری ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کی تفصیل سے وضاحت کی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگر درخواست دہندگان کی طرف سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کاروباری مقاصد کے لیے ویزے دو ہفتے کے وقت کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین اپٹما نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس میں مزید 10 سال کی توسیع سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور شفافیت وغیرہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں پاکستان اور جرمنی کے درمیان 45 ملین یورو کے تکنیکی تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی ضروریات کے بارے میں تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اپٹما کے اراکین کو ویزوں کے فوری اجراء کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق،جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات تک رسائی کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنے حریفوں جیسے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ سے مقابلہ کر سکیں، جس سے پاکستان یورپی یونین میں اپنی 4 مصنوعات میں سے 78 فیصد ڈیوٹی فری برآمد کرنے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سہولت نے 2013 سے 2024 تک یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 73 فیصد اور جرمنی کو 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔انہوں نےجرمن سفیر کو بتایا کہ اپٹما کے اراکین جی ایس پی پلس کے 27 کنونشنز کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور نئے کنونشنز کی تعمیل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت نے ترجیحی ریشوں جیسے آرگینک، بی سی آئی کاٹن اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور فضلہ اور پانی کی صفائی کے پلانٹ لگانے، سبز ماحول اور سماجی طور پر ذمہ دار صنعت کو مغربی دنیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے قابل بنانا ہے۔

اپٹما کے سابق چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے جی ایس پی پلس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا پلس قرار دیتے ہوئے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll