Advertisement
پاکستان

گریٹر ڈائیلاگ ناگزیر ہے ،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

ملک اس وقت افراتفری اور انارکی کے دہانے پر کھڑا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Mar 30th 2023, 10:47 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
گریٹر ڈائیلاگ ناگزیر ہے ،وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ قانون سازی کرنا پارلیمان کا اختیار ہے اس کے لئے کسی سے اجازت درکار نہیں ہوتی، اب معاملات کو حل کرنے کے لئے گریٹر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔

حکومت، اپوزیشن، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ملکر میثاق جمہوریت، امن اور معیشت کے لئے بات کریں اسکے بعد ملک ترقی ،معیشت بہتری اور لوگوں کی مشکلات حل ہوسکتی ہیں ۔

وہ جمعرات کو سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ ملک اس وقت افراتفری اور انارکی کے دہانے پر کھڑا ہے ،اس کے لئے عمران خان نے 10 سال محنت کی ہے، جب حکومت میں رہے تو ملک کی معیشت کا بھٹہ بیٹھا دیا۔

انہوں نے کہاکہ اب معاملات کو حل کرنے کے لئے گریٹر ڈیبٹ اور ڈائیلاگ کی ضرورت ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں مل بیٹھ کر چارٹر آف ڈیموکریسی، معیشت اور امن ہو اسی سے ملک بہتری کی طرف اور ملک مشکلات سے نکل سکتا ہے اور ملک کا سیاسی ٹمپریچر کم ہوسکتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ اور معزز بینچ کی رائے کی قدر کرتے ہیں اس کے لئے وہ لائحہ اختیار کرنا چاہیے جس سے ملک میں بہتری آسکے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی قابو سے باہر نہیں ہوئی، ہماری مسلح افواج میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنائیں اس کے لئے وہ جانوں کا قربانیاں دے رہے ہیں اس وقت ملک کا ایک انچ بھی ایسا نہیں ہے جہاں ریاست کی رٹ برقرار نہ ہو ۔

انہوں نے کہاکہ ایک فریق پچھلے 10 سال سے اپنے مخالفین کے وجود کو ختم کرنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے ، وہ کہتا ہے کہ اپوزیشن سے ہاتھ بھی نہیں ملانا جب تک یہ رویہ ختم نہیں ہوتا بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر الیکشن کی تاریخ دیدی جائے تو پھر مذاکرات کس چیز کے لئے ہونگے ، پہلے معیشت پر بات ہوگی اسکے بعد سیاسی ٹمپریچر کو کم کریں گے پھر الیکشن کی طرف جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جب مل بیٹھے گے تو اس میں تمام امور پر بات ہوگی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے اس کے لئے کسی سے اجازت نہیں لینی ہوتی ۔

Advertisement
معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے

  • 11 گھنٹے قبل
ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد

  • 8 گھنٹے قبل
ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟

  • 7 گھنٹے قبل
آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا

  • 8 گھنٹے قبل
پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف

  • 11 گھنٹے قبل
آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

  • 11 گھنٹے قبل
مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان

  • 5 گھنٹے قبل
نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا

  • 8 گھنٹے قبل
معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی

  • 10 گھنٹے قبل
ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا 

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا 

  • 8 گھنٹے قبل
 ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ

 ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ

  • 11 گھنٹے قبل
لاہور میں ویب کون 2026  کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور

لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور

  • 6 گھنٹے قبل
Advertisement