پورے ملک میں انتخابات ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں، وفاقی وزیر قانون کی بین الاقوامی میڈیا سے گفت

اسلام آباد۔: وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا 13 رکنی فل کورٹ بینچ تمام معاملات حل کرے، سیاسی جماعتوں اور بارکونسلز کا فل کورٹ کا مطالبہ مسترد کردیا گیا، دوران سماعت سیاسی جماعتوں کا موقف نہیں سنا گیا، عدالت اور حکومت میں ٹکرائو کی صورتحال نہیں ہونی چاہئے۔
اگر پنجاب میں پہلے صوبائی انتخابات کرا دیئے جاتے ہیں تو قومی اسمبلی کے انتخابات متاثر ہوں گے، آئین کے مطابق انتخابات کے شفاف انعقاد کےلئے نگران سیٹ اپ کا ہونا ضروری ہے، امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ماضی میں بھی انتخابات کی تاریخ بدلی جاچکی ہے۔
جمعرات کو بین الاقوامی میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئےوفاقی وزیر قانون نے کہا کہ آئین کے مطابق انتخابات کے شفاف انعقاد کےلئے نگران سیٹ اپ کا ہونا ضروری ہے۔
امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر ماضی میں بھی انتخابات کی تاریخ بدلی جاچکی ہے۔ حکومت سمجھتی ہے کہ اس اہم ترین قومی معاملہ پرفل کورٹ فیصلہ دیتا تو بہتر ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا، وفاقی کابینہ کی رائے تھی کہ اکثریتی فیصلے کو اقلیتی فیصلے میں نہ بدلا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فل کورٹ نہ بنایا گیا تو ملک میں سیاسی اورآئینی بحران شدید ہوجائے گا، عدالت نے کسی سیاسی جماعت کو مقدمے کا فریق نہیں بنایا اورنہ ہی موقف سنا۔تحریک انصاف کی متعلقہ پٹیشن پر سپریم کورٹ سے فل کورٹ کی استدعا کی گئی تھی جسے مسترد کردیا گیا۔
انہوں نے کہاکہ انتخابات کے معاملے میں 184 تھری پر کوٹ آرڈر آیا جسے پہلے سرکلر اور پھر 6 رکنی بینچ نے مسترد کردیا، یکم مارچ کو فیصلہ آیا تو ہمارا موقف تھا کہ 3 کے مقابلے میں 4 سے کیس خارج ہوا۔
4 ججز نے پٹیشن خارج کی ،2 نے کیس سننے سے انکار کیا، رائے دینے والے دونوں جج صاحبان نے بینچ سے علیحدگی اختیارکی۔ از خود نوٹس کے معاملے پر2 جج صاحبان اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرچکے ہیں۔
وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ نے بل کی منظوری دی ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کی ہائی کورٹس میں پٹیشنز زیر سماعت ہیں، گورنر پنجاب نے اسمبلی کی تحلیل کی بھیجی ہوئی سمری پر دستخط نہیں کئے۔
آئین کے مطابق مقررہ وقت کے بعد پنجاب اسمبلی خو د بخود تحلیل ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن با اختیار اور خودمختار ادارہ ہے، آئین کے مطابق عام انتخابات کا طریقہ کار طے ہے۔ پورے ملک میں عام انتخابات ایک وقت پر ہونے چاہئیں۔آئین کے مطابق انتخابات کی شفافیت سے ملک میں سیاسی استحکام آنا چاہئے نہ کہ نئے تنازعات جنم لیں۔

وفاقی حکومت کا کسانوں کو 300ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان
- 25 minutes ago

شوبز حلقوں میں جوش، عون علی خان نئی فیچر فلم "ریڈ لائن" کا حصہ بن گئے
- 40 minutes ago

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- a day ago

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےاحتجاج پرآزاد کشمیرکےعوام کا شدید ردعمل
- 35 minutes ago

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم شقیں سامنے آ گئیں
- 4 hours ago

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- a day ago

خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث پارا چنار بنیاد ی سہولتوں سے محروم
- 32 minutes ago

ملک میں معاشی استحکام آ چکا، حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے،عطا تارڑ
- 2 hours ago

وویمنر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ :بھارت کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- 2 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا پیشرفت پر اطمینان کا اظہار
- 4 hours ago

افغانستان میں موجود دہشت گرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے،دی ڈپلومیٹ
- 4 hours ago

سینیٹ کا اجلاس پیر کو طلب، پانچ نکاتی ایجنڈا جاری
- 2 hours ago









