پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے، ملک اداروں پر چلتا ہے، آج پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ توشہ خانہ کیس میں ان سب کی چوری سامنے لائیں گے۔ قوم تیار ہو جائے ، الیکشن نہیں کرائے تو سڑکوں پر ہوں گے۔
اپنی حکومت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے پر عوام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا چاہتے تھے، انہیں ڈرتھا مجھے جیل میں ڈالا تو میری مقبولیت میں اضافہ ہو جائیگا، پی ڈی ایم کے تمام لوگ سازش میں شامل تھے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سے ایک سال پہلے میں اپنی ڈائری اٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکلا، مجھے نکالنے کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش تھی، میرے خلاف سازش نکالنے سے ایک سال پہلے شروع ہوئی، میں مڈل ایسٹ کے ایک سربراہ کو مل رہا تھا تو اس نے مجھے سازش کے بارے بتایا، اس نے بتایا تمہارا آرمی چیف تمہارے خلاف سازش کر رہا ہے۔ میں بڑا حیران ہوا کہ ہم تو ایک پیج پر ہیں، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا کر سکتے ہیں، جب میں نے جائزہ لیا تو پھر پتا چلا کہ کس طرح کی سازش ہوئی، ایک کردار جو ماسٹر مائنڈ تھا اس کی آہستہ آہستہ سمجھ آئی، یہ میری جگہ شہباز شریف کو لانا چاہتے تھے، باجوہ کی ڈیل ہو چکی تھی، شہباز شریف کو کیسز میں سزا ہونے والی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کو ایک سال میں اتنے بحران نہیں ملے جتنے ہمیں ملےتھے، اس حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے، یہ لوگ کو رونا کے وقت حکومت میں ہوتے تو کیا کرتے؟ پاکستان ان ممالک میں تھا جنہوں نے کورونا میں بہترین کام کیا، پی ڈی ایم حکومت صرف اپنے کرپشن کیسز ختم کرنے آئی۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم انتشار کیوں پھیلائیں گے ہم تو الیکشن چاہتےہیں، مجھ پر 144 کیسز بنائے گئے ہیں،غداری کا مقدمہ بھی بنایا گیا ہے، 144 میں سے 40 مقدمے دہشت گردی کے بنائے گئے ہیں، اعظم سواتی پر پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا کہ آج ہم نے وائٹ پیپر جاری کیا ہے، وائٹ پیپر دکھانے کا مقصد ایک سال میں ہونے والی تباہی بیان کرنا ہے، ایک بند کمرے میں تھوڑے سے لوگوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا، ایک سال پہلے پاکستان کہاں کھڑا تھا اور آج کہاں کھڑا ہے، 2018 میں حکومت سنبھالی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، ہمیں دو سال کورونا سے نمٹنے میں لگ گئے، ہم نے جیسے کورونا سے نمٹا دنیا نے اس کو تسلیم کیا۔ ہم ٹیرارزم سے ٹورازم پر آگئے تھے لیکن حالات دوبارہ خراب ہو گئے، شکر ہے ان کو تب حکومت نہیں ملی ورنہ آج ملک بالکل تباہ ہو چکا ہوتا، انہوں نے آتے ہی پہلے نیب پھر ایف آئی اے کو تباہ کیا، توشہ خانہ کیس الٹا ان پر پڑ جائے گا، انہوں نے جو گاڑیاں چوری کی ہیں وہ سامنے لے کر آئیں گے، ہمیں میڈیا سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا، یہ کہتے ہیں کہ ہم نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کردی
- ایک دن قبل
شوہر کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نیا انکشاف
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزارں روپے کا مزید اضافہ
- ایک دن قبل

سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی
- 9 گھنٹے قبل

بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈی جے کراچی میں سروں سے بھری شام سجانےکو تیار
- ایک دن قبل
دوسری شادی کیوں کی؟ سینئر اداکار نےوجہ بتادی
- 10 گھنٹے قبل

پنجاب کے مختلف شہروں میں تھیٹرز کے خلاف بڑا ایکشن، 8 اداکاراؤں پر پابندی
- ایک دن قبل
ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کا معمہ حل، والد اوربھائی نےقتل کیا
- 3 دن قبل
پرائیویٹ حج اسکیم کی بکنگ کے حوالے سے وزارت کا نیا بیان سامنے آگیا
- 9 گھنٹے قبل

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقات
- ایک دن قبل
ملک میں سونے کی قیمتوں پھر بڑا اضافہ ریکارڈ
- 3 دن قبل
وزیراعظم اور ملائیشین ہم منصب کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ، دوطرفہ تعاون پر گفتگو
- 3 دن قبل


