Advertisement
پاکستان

بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی

خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا، اس طرح کی بربریت سے خوارجین کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 months ago پر Feb 24th 2026, 3:07 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے زخمی ایف سی اہلکاروں کو لے جانیوالی ایمبولینس کو آگ لگا دی

کرک: بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج نے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کو آگ لگا کر ان مریضوں کو زندہ جلا دیا،آگ میں جلا کے شہید کیے جانے والے فیڈرل کانسٹیبلری کے تمام اہلکار خیبر پختونخوا کے مقامی تھے۔

تفصیلات کے مطابق  23 فروری 2026 کو کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی پوسٹ پر فتنۃ الخوارج نے کواڈ کاپٹر سے حملہ کیا۔

حملے کے بعد ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینس زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچیں لیکن واپسی پر دونوں ایمبولینس پر فتنہ الخوارج نے حملہ کر دیا جس میں ایک ایمبولینس کو آگ لگا کر مریضوں سمیت جلا دیا گیا جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔آگ لگنے کی وجہ سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا۔

آگ میں جل کے شہید ہونے والے زخمی اہل کاروں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔

سپاہی مراد گل شہید اور سپاہی ایان خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو سے تھا اور لانس نائیک عادل خان شہید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ سے تھا۔

جبکہ دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جو سارے خیبرپختونخوا کے مقامی پختون ہیں جنہیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

خوارج نے اس واقعے کی پوری فلم بندی کر کے اُس کو سوشل میڈیا پر ڈال دیا، اس طرح کی بربریت سے خوارجین کا ایک ہی مقصد ہے کہ عوام میں خوف و دہشت پھیلائی جا سکے، رمضان کے مقدس مہینے میں خوارج کی جانب سے ایک سافٹ ٹارگٹ کو چنا جانا اور زخمیوں کے ساتھ ظلم ایک کھلی بربریت اور اسلام کے منافی عمل ہے۔

یاد رہے اسلام میں جنگ کے دوران بھی زخمیوں پر حملہ کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے، مگر فتنہ الخوارج نے مقامی پختونوں کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ ان عناصر کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ جھنم کے کتے ہیں جن کا انسانیت اور مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں، بے گناہوں اور زخمیوں کو نشانہ بنانا ظلم اور کھلی بربریت ہے، جس کی اسلام میں کوئی اجازت نہیں۔

Advertisement