فضل الرحمٰن والے تماشے کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے،چیئرمین پاکستان تحریک انصاف


پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں حکومت خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن بیٹھی ہے۔اب لندن پلان کھل کر سامنے آچکا ہے۔
اپنے ٹویٹ میں عمران خان کا کہنا تحا کہ ان کا منصوبہ اب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو زندان میں ڈال کر مجھے اذیّت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لیکر مجھےآئندہ دس برس کیلئےقیدکر دیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی بچی کھُچی قیادت اور کارکنان کو بھی پوری طرح جکڑ لیں گے۔
چنانچہ اب لندن پلان تو کھل کر سامنے آچکا ہے۔ میں قید میں تھا تو تشدد کی آڑ میں یہ خود ہی جج، جیوری اور جلاد بن بیٹھے ہیں! منصوبہ اب یہ ہے کہ بشریٰ بیگم کو زندان میں ڈال کر مجھے اذیّت پہنچائیں اور بغاوت کے کسی قانون کی آڑ لیکر مجھےآئندہ دس برس کیلئےقیدکر دیں۔ اس کے بعد تحریک انصاف…
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) May 15, 2023
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ یہ یقینی بنانے کیلئے کہ عوام کی جانب سے کوئی ردّعمل نہ آئے، انہوں نے دو کام کئے ہیں، ایک تو محض تحریک انصاف کے کارکنان ہی کو خوفزدہ نہیں کیا جارہا بلکہ عام شہریوں کے دلوں میں بھی خوف بٹھایا جارہا ہے اور دوسران میڈیا پر پوری طرح قابو پایا جا چکا ہے اور بزورِ جبر اس کی آواز دبائی جاچکی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ آج سے پہلے اس ملک میں چادر و چاردیواری کا تقدس کبھی یوں پامال نہ ہوا جیسا کہ یہ مجرم کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کے باہر فضل الرحمٰن والے تماشے کا واحد مقصد بھی چیف جسٹس آف پاکستان کو مرعوب کرنا ہے تاکہ وہ آئینِ پاکستان کےمطابق کوئی فیصلہ صادر کرنے سے باز رہیں۔پاکستان پہلے ہی 1997 میں نون لیگی غنڈوں کو نہایت ڈھٹائی سے سپریم کورٹ پر عملاً حملہ آور ہوتے دیکھ چکا ہے جس کے نتیجے میں ایک نہایت محترم چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو ہٹایا گیا۔
عوامِ پاکستان کو میرا پیغام ہے کہ؛ میں اپنے خون کے آخری قطرے تک حقیقی آزادی کیلئے لڑوں گا کیونکہ مجرموں کے اس گروہ کی غلامی سے موت میرے لئے مقدّم ہے۔ میں اپنے لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے کلمہ لَاِ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کی صورت میں یہ عہد باندھ رکھا ہے کہ ہم ربّ ذوالجلال کے علاوہ ہرگز کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ اگر آج ہم خوف کے بت کے آگے سجدہ ریز ہوگئے تو ذلت اور شکست و ریخت ہماری آئندہ نسلوں کا مقدّر ٹھہرے گی۔ وہ ملک جہاں ناانصافی اور جنگل کے قانون کا دَور دَورہ ہو وہ زیادہ دیر تک صفحۂ ہستی پر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتے۔

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 4 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 4 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 8 گھنٹے قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 10 گھنٹے قبل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 9 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 8 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 4 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 10 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 8 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 4 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 9 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 10 گھنٹے قبل









