لاہور ہائی کورٹ کی پنجاب اسمبلی کی بحالی کےلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت
معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،اس کے لیے مناسب فورم سپریم کورٹ ہے،عدالت

.jpg&w=3840&q=75)
لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی کی بحالی کے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سماعت کی۔ درخواست گزار شفقت علی کے وکیل محمد عادل چٹھہ نے سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی۔ درخواست میں پنجاب حکومت، سابق وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی اور گورنر پنجاب کو فرق بنایا گیا ہے۔
عادل چھٹہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سنگل بینچ نے ان کے خلاف متاثرہ فریق نہ ہونے پر درخواست خارج کی۔عدالت نے استفسار کیا کہ آپ متاثرہ فریق کیسے ہیں؟،جس پر عادل چھٹہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اعلیٰ عدالتوں کے متعدد فیصلے موجود ہیں جن میں متاثرہ فریق ہونا ضروری نہیں،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ قرار دے چکی ہیں کہ اسمبلی تحلیل مفاد عامہ کا معاملہ ہے،لاہور ہائیکورٹ نے سیاسی ورکر کی درخواست پر اسمبلی تحلیل کے معاملے کو پرکھا ہے۔
سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنگل بینچ نے حقائق کے منافی فیصلے جاری کیا، سنگل بینچ فیصلے کے مطابق درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہے،مفاد عامہ کے مقدمے میں براہ راست متاثرہ فریق ہونا ضروری نہیں،پنجاب اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی و غیر آئینی تھی،لاہور ہائیکورٹ نے 1988 میں اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی قرار دیا تھا۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کرتی،ایک لائن کی تجویز میں اسمبلی تحلیل کرنے کی وجوہات کا ذکر نہیں،اختیارات کا اس قسم کا استعمال آئین اور عدالتی فیصلوں کے منافی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ پنجاب اسمبلی تحلیل ایڈوائس کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے، عدالت پنجاب اسمبلی کو بحال کرنے کا حکم دے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،اس کے لیے مناسب فورم سپریم کورٹ ہے،آپ سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔عدالت نے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد
- 3 گھنٹے قبل

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف
- 6 گھنٹے قبل

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا
- 3 گھنٹے قبل

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے
- 6 گھنٹے قبل

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- 6 گھنٹے قبل

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی
- 6 گھنٹے قبل

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان
- 7 منٹ قبل

ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ
- 6 گھنٹے قبل

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 3 گھنٹے قبل

لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور
- ایک گھنٹہ قبل

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 گھنٹے قبل

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا
- 3 گھنٹے قبل










