جی این این سوشل

پاکستان

چور حکومت کے سارے کیسز ختم کرانے تک آئین و قانون کوڈیپ فریزر میں ڈال دیں، شیخ رشید

اللہ اور عدلیہ ملک کو سیاسی جہنم سے نکال سکتی ہے،سربراہ عوامی مسلم لیگ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

چور حکومت کے سارے کیسز ختم  کرانے تک  آئین و قانون کوڈیپ فریزر میں ڈال دیں، شیخ رشید
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ آئین و قانون کو اس وقت تک ڈیپ فریزر میں لگا دیں جب تک چور حکومت اپنے سارے کیس ختم نہیں کروا لیتی اور مفرور بھگوڑے مجرم مسلط نہیں ہوجاتے

دنیا

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے، امریکی صدر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز اوول آفس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردار ہوئے، جب کہ اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 81 سالہ امریکی صدر نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے اس دفتر کا بے حد احترام ہے لیکن میں اپنے ملک سے زیادہ پیار کرتا ہوں، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ عوام جمہوریت کو اپنائیں اور نفرت سے بچیں۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے جو اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہے، لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ آگے بڑھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ مشعل کو نئی نسل کے حوالے کیا جائے اور یہی قوم کو متحد کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹس رہنماؤں کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 21 جولائی کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوگئے تھے۔

 بائیڈن نے کہا ’وہ بطور امیدوار دستبردار ہورہے ہیں لیکن جنوری 2025 میں اپنی مدت ختم ہونے تک صدر اور کمانڈر ان چیف کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

انتخاب سے دستبرداری کے اعلان کے بعد قوم سے اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی صدر نے اپنی نائب 59 سالہ کاملا ہیریس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کاملا ہیرس تجربہ کار ہونے کے ساتھ قابل بھی ہیں۔

ایک سروے کے مطابق ڈیموکریٹک کی نئی صدارتی امیدوار اور نائب صدر کاملا ہیرس کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر 2 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

خیال رہے کہ جوبائیڈن امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں بعد میں انتخابی دوڑ سے تاخیر سے دستبردار ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مباحثے کے دوران بدترین کارکردگی کے بعد بائیڈن کو اپنی عمر کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور گزشتہ دو ہفتوں سے انہیں اپنے ہی پارٹی ارکان کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا۔

بعد ازاں، کورونا کا شکار ہونے کے بعد امریکی صدر کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے، انہوں نے کہا ’نئی

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

 نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے، درخواست میں موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

شہر ملک ناجی اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست شہری ملک ناجی اللہ کے وکیل اظہر صدیق نے جمع کروائی۔درخواست میں سیکرٹری کابینہ، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں ریمانڈ کا دورانیہ 14 سے بڑھا کر 40 دن کردیا گیا، نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اب یہ نیا ترمیمی آرڈیننس آگیا ہے جسے پارلیمنٹ میں بھی پیش نہیں کیا گیا، 14 دن سے زائد ریمانڈ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بدنیتی پر مبنی جھوٹا مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا صرف 2 سال کیوں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز کے ملزمان 14، 14 سال سزائیں بھگتتے ہیں، یہ ایک ظالمانہ قانون ہے، ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے، چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا تھا کہ آرڈیننس کے ذریعے ایک شخص کی رائے پوری قوم پر مسلط کردی جاتی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ جمہوریت کے خلاف نہیں؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ کیا یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ صدر آرڈیننس جاری کرتے ہوئے وضاحت بھی دے، یہ آرڈیننس بھی پارلیمنٹ لے جائے بغیر پاس کیا گیا، یہ قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی احتساب آرڈیننس 2024 کو آئین کی شقوں کے برخلاف قرار دیا جائے اور قومی احتساب آرڈیننس 2024 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید اپیل کی کہ فریقین کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ 27 مئی کو قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی منظوری سے 2 آرڈیننس جاری کردیے گئے تھے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2 اہم ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت نیب کے ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کردی گئی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق مقدمے میں بدنیتی ثابت ہونے پر نیب افسران کی سزا 5 سال سے کم کرکے 2 سال کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی ،عمران خان کا 12 مقدمات میں  جسمانی  ریمانڈ کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ نے 9 مئی کے 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا جسمانی ریمانڈ کالعدم قراردے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کی ویڈیو لنک پر حاضری کا نوٹی فکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس انوار الحق نے دریافت کیا کہ درخواست گزار کتنے مقدمات میں نامزد ہیں؟ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 3 مقدمات میں نامزد ملزم ہیں، کیسز کی 2 کیٹگری ہیں، ایک جس میں نامزد ہیں دوسری جس میں ضمنی کے ذریعے نامزد کیا گیا ہے۔

سلمان صفدر نے کہا کہ ان کیسز سے پولیس کی نا اہلی، سستی ظاہر ہوتی ہے، 9 مئی کے 9 کیسز میں پولیس 425 دن تک سوئی رہی، پولیس نے اتنی دیر بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کیوں نہیں ڈالی۔ پراسیکیوشن بدنیتی سے جان نہیں چھڑوا سکتی، ایک وقت بانی پی ٹی آئی عبوری ضمانت پر بھی تھے، تو ان کو شامل تفتیش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

جسٹس انوارا الحق پنوں نے ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار کو امید ہوئی کہ وہ جیل سے باہر آ جائے گا تب آپ نے ان مقدمات میں گرفتاری ڈال دی، قانون تو یہ ہے کہ جیسے ہی آپ کو ملزم کا پتا چلے آپ اسے گرفتار کریں، آپ نے پہلے کیوں گرفتار نہیں کیا؟

پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ ملزم تب عبوری ضمانت پر تھے، گرفتار نہیں کر سکتے تھے، جسٹس انوارالحق پنوں نے دریافت کیا کہ آپ نے اس سے پہلے تفتیش کرنے کی کوشش کی؟ پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ میں آپ کو ریکارڈ سے بتا سکتا ہوں عمران خان نے ہمیں لکھ کہ دے دیا ہے کہ وہ تفتیش میں شامل نہیں ہوں گے۔

بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کالعدم قرار دے دیا۔

یاد رہے کہ 24 جولائی لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی 9 مئی کے 12 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے خلاف درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہوئے عمران خان پر درج مقدمات سے متعلق پراسیکیوٹر جنرل سے تفصیلی رپورٹ کرلی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll