کیا حکومت عوام کو ریلیف دے گی یا مزید سختی بھگتنی پڑے گی؟ نئے مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا


اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 24-2023 کا بجٹ پیش کریں گے، اتحادی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دوسرا بجٹ ہوگا۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جی ڈی پی کے 7.7 فیصد مالیاتی خسارے کیساتھ تیار کیا گیا ہے۔
بجٹ میں 7 سو ارب سے زائد کے نئے ٹیکسز لگائے جانے، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح مزید بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت تجاویز دی گئی ہیں، ٹیکس ریٹرن تاخیر سے فائل کرنے پر جرمانہ لگانے کی سفارش کی گئی ہے جس میں سیکشن 165 کے تحت ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹ فائل نہ کرنے پر 2 ہزار روپے جرمانے کی تجویز کی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تقریباً 80 فیصد قرض اور سود کی ادائیگیوں میں چلا جائے گا، قرض اور سود کی ادائیگیوں کے لیے 7300 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے۔
بالی وڈ اسٹارمادھوری ڈکشت 24 سال بعد ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہوں گی
- 3 دن قبل

نادرانے مشین متعارف کر وا دی، عوام کو کیا فائدہ ہو گیا؟
- 3 دن قبل

انمول پنکی کو بڑا ریلیف، 3 مقدمات میں بری
- 2 دن قبل
ایک اور لڑاکا طیارہ گر کر تباہ
- 3 دن قبل
79واں جشنِ آزادی: پنجاب پولیس کا امن و سلامتی کے عزم کا اعادہ
- 14 گھنٹے قبل
امریکی فوجی ہیلی کاپٹر تباہ
- 2 دن قبل
ناروے کے وزیر خارجہ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات، علاقائی سلامتی اور دفاعی تعلقات پر تبادلہ خیال
- 2 دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
- 2 دن قبل

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی پہلی قومی یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کا اجرا کر دیا
- 3 دن قبل
گوگل جیمنائی کے صارفین کی تعداد کتنی ہو گئی؟
- 3 دن قبل

قوم کل یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منائے گی
- 2 دن قبل

شادی سے انکار یا بلیک میلنگ؟ نوجوان پر تیزاب پھینکنے کے بعد فائرنگ
- 2 دن قبل
