Advertisement
پاکستان

ملک بھرکےمثبت شرح والے 16شہروں میں پاک فوج تعینات ہے، آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ملک بھرکےمثبت شرح والے 16شہروں میں پاک فوج تعینات ہے۔صحت عامہ کےتحفظ کیلئےملک بھر ‏میں پاکستان آرمی کو سول اداروں کی معاونت کیلئےطلب کیاگیاہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Apr 27th 2021, 10:48 am
ویب ڈیسک کے ذریعے

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابرافتخار نے پریس کانفرنس  میں کہا ہے کہ ملک بھرمیں570افرادوینٹی لیٹرزپرہیں،4 ہزار300 کی حالت نازک ہے۔ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرکے ہی ہم اس وباسےمحفوظ رہ سکتے ہیں۔ پشاور، مردان، چارسدہ، لاہور، فیصل آباد، کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، آزاد کشمیر، مظفرآباد میں کورونا کے مثبت کیسز کی تعدادانتہائی زیادہ ہے۔ جب کہ 51 شہروں میں کورونا مثبت کیسزکی شرح 5 فیصدسےزیادہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس وقت صحت کا شعبہ شدید دباؤ میں ہے، ملک میں آکسیجن کی کُل پیداوار کا 75 فیصد صحت کے شعبے کے لیے مختص ہے، لیکن اگر کورونا کی صورتحال خراب ہوئی تو صنعتوں کے لیے مختص آکسیجن اسپتالوں کو دینا پڑے گی۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ این سی سی نےکورونا وبا ‏کی تیسری لہر پر قابو پانےکیلئے اہم فیصلےکیے ہیں ،صحت عامہ کےتحفظ کیلئےملک بھر ‏میں پاکستان آرمی کو سول اداروں کی معاونت کیلئےطلب کیاگیاہے پاکستان آرمی نےکسی بھی قسم ‏کا انٹرنل سیکیورٹی الاؤنس کلیم نہ کرنےکافیصلہ کیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر  میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ  ملک بھرکےمثبت شرح والے 16شہروں میں پاک فوج تعینات ہے ‏آج صبح 6 بجے سے تمام اضلاع میں انتظامیہ کی مدد کیلئے پاک فوج کی ٹیمز پہنچ گئی ہیں، جو موجودہ وبائی صورتحال میں عوام کی حفاظت کویقینی بنائیں گے۔ ڈویژن کی سطح پربریگیڈیئراورضلع کی سطح پرلیفٹیننٹ کرنل معاملات دیکھیں گے۔قانون پرعملدرآمدکی بنیادی ‏ذمہ داری سول اداروں کی ہے لیکن قیام امن کیلئے پاک فوج سول اداروں کی بھرپور مدد کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں احساس اور نظم و ضبط کا درس دیتا ہے بحیثیت قوم ہمیں پہلے سے بھی زیادہ احتیاط اورمل کراجتماعی اور انفرادی ذمہ داریوں کو نبھانا ہوگا۔فیس ماسک کااستعمال اورحفاظتی گائیڈلائنز پر عمل کر کے ہی ہم اس وبا ‏سےنمٹ سکتےہیں احساس ذمہ داری کی وجہ سےہمیں اس وبانےدوسرےممالک کی نسبت زیادہ ‏نقصانات سےبچایاہےامیدہےعوام دوبارہ احساس ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنا کردار بھی ادا ‏کریں گے۔

Advertisement
Advertisement