Advertisement
پاکستان

جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف دائر نظرثانی درخواست خارج

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے دیے گئے فیصلوں پرنظرثانی یا انہیں کالعدم قراردینے کا پورااختیار ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jul 22nd 2023, 3:52 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف دائر نظرثانی درخواست خارج

10 اپریل کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف کیو ریٹیو ریویو واپس لینے کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں ہوئی تھی۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے چیمبر میں پیش ہوئے تھے  اور انہوں نے درخواست واپس لینے سے متعلق وفاقی حکومت کے مؤقف سے آگاہ کیا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومت کی دوبارہ نظرثانی واپس لینے کی درخواست منظور کرلی اور کیوریٹو ریویو واپس لینے کی بنیاد پر درخواست نمٹا دی۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں کیوریٹیو ریویو پٹیشن کے خلاف 18 درخواستیں دائرکی گئیں تھیں ، اکثریتی فیصلے سے ایف بی آر اور سپریم جوڈیشل کونسل کی جاری ہدایات کالعدم قراردی گئیں، درخواست گزار نے رجسٹرار آفس کے اعتراضات کےخلاف چیمبراپیل دائرکی، حکومت کی جانب سےاٹارنی جنرل اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کو اپنے دیے گئے فیصلوں پرنظرثانی کا اختیار ہے، سپریم کورٹ کو یہ اختیار 184 تھری کےتحت ازخود نوٹس لےکر آرٹیکل187 اور 188 کے تحت حاصل ہے۔

سابق حکومت نے 25 مئی 2021 کو جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹوریویو داخل کی تھی تاہم رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا تھا کہ قانون میں دوبارہ نظرثانی کی گنجائش نہیں۔

یاد رہے کہ موجودہ حکومت نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست دی تھی۔

سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس خارج کردیا تھا، 10 رکنی بینچ نے 3-7 کی بنیاد پر معاملہ ایف بی آر کو تحقیقات کےلیے بھجوایا تھا۔

 

موجودہ وفاقی کابینہ نے 27جولائی 2022 کو کیوریٹو ریویو واپس لینے کی منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر کیوریٹو ریویو واپس لینے کی منظوری دی۔

31 مارچ 2023 کو کیوریٹو ریویو واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔

Advertisement
Advertisement