سائفر ایک حقیقت ہےجس پر ملک کی سول اور ملٹری لیڈر شپ نے اتفاق کیا،شاہ محمود قریشی
شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل سکیورٹی کے اجلاس میں سائفر کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا،وائس چیئرمین پی ٹی آئی


پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے ک سائفر ایک حقیقت تھی اور ایک حقیت ہے اور اس پر ملک کی سول اور ملٹری لیڈر شپ نے اتفاق کیا جس سے اس وقت کی اپوزیشن کی نفی ہو گئی۔
تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اسلام آباد میں ایف آئی اے کے ہیڈ کوارٹر پہنچے جہاں وہ سائفر اور آڈیو لیک کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سائفر تو آئے دن آتے ہیں لیکن یہ سائفر معمولی نوعیت کا نہیں تھا کیونکہ اس کی حساسیت اس نوعیت کی تھی کہ اس سائفر ہو نیشنل سکیورٹی کونسل کا دو بار اجلاس طلب کیا گیا اور چیئرمین پی ٹی آئی کی صدارت میں ہوا اور دوسرا موجودہ حکومت میں طلب کیا گیا۔ دونوں اجلاسوں میں سائفر کی حقیقت اور حساسیت کو تسلیم کیا گیا اور ساتھ کی اس کا بھی اعتراف کیا گیا کہ سائفر میں جو سفارتی زبان استعمال کی جاتی ہے یہ اس کے برعکس ہے اور یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مداخلت کی گئی ہے۔
کیا چیئرمین پی ٹی آئی کو سائفر کے معاملے پر خاموش رہنا چایئے تھا؟
— GNN (@gnnhdofficial) July 24, 2023
شاہ محمود قریشی کاپیشی کے بعد تہلکہ خیز بیان سامنے آگیا pic.twitter.com/czs7Kspm4w
وائس چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جس اجلاس کی صدارت شہباز شریف نے کی تھی اس میں بھی سائفر کو جھٹلایا نہیں گیا۔اس معاملے کی تحقیقات کے لئے چیئرمین پی ٹی آئی نے دیانتداری سے بحیثیت وزیر اعظم نے کوشش کی اور ایک مناسب تجویز دی کہ سپریم کورٹ کی سربراہی میں ایک آزاد تحقیقات کرا لی جائے تاکہ دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے، اگر ایسا ہو جاتا تو جتنی قیاس آرائیاں ہوئیں اور جتنی اس پر بیان بازی ہوئی اس کی نوبت ہی نہ آتی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تحریک انصاف یا چیئرمین پی ٹی آئی سائفر کو سیاسی مقاصد کےلئے استعمال کرنا چاہ رہے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت کے برعکس ہے کیونکہ اگر ہماری ایسی کو نیت ہوتی تو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ہم اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہ کرتے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمانی کمیٹی اور نیشنل سکیورٹی کا اجلاس بلایا گیا جس میں پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں کے سربراہان کو دعوت دی گئی کہ وہ آئیں اور بریفنگ لیں، انہیں پورے حقائق سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ پوری قوم یکجا ہو جائے لیکن بدقسمتی سے اس وقت کی اپوزیشن نے اس اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی اماراتی بندرگاہ خوروفکان پر حملے شدید مذمت،فریقین سے تحمل کی اپیل
- ایک دن قبل

لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، حالیہ فضائی حملوں میں مزید 11شہری شہید
- ایک دن قبل

توانائی بچت اورکفایت اشعاری اقدمات کے تحت ملک بھر میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
- 18 گھنٹے قبل

پیٹرول اور ڈیزل کی وافر مقدار موجود ہے، ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کےخلاف سخت ایکشن ہو گا،وزیر خزانہ
- 18 گھنٹے قبل

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- ایک دن قبل

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ غیر معینہ مدت کیلئے پی ایس ایل سے باہر،مگر کیوں ؟
- ایک دن قبل

ایران نے پاکستان کےمجوزہ ’’اسلام آباداکارڈ‘‘ پر اپنے ردعمل سے آگاہ کردیا
- 18 گھنٹے قبل

شہباز شریف سے حنیف عباسی کی ملاقات، ریلویز کی مجموعی کارکردگی، اصلاحات تفصیلی تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

امریکی و اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف شہید،ایران کی تصدیق
- ایک دن قبل

بنوں: نادرا آفس پر دہشت گردوں کے حملےمیں 2پولیس اہلکار شہید
- 19 گھنٹے قبل

زرمبادلہ ذخائر کی بچت کیلئے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا،شہباز شریف
- 21 گھنٹے قبل

اسحاق ڈار کا جاپان اور پرتگال کے وزرائے خارجہ سے رابطہ، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- 21 گھنٹے قبل









