جی این این سوشل

پاکستان

نگران وفاقی وزیر وزرائے ثقافت کی 12ویں کانفرنس میں شرکت کے لیے قطر روانہ

نگران وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

نگران وفاقی وزیر وزرائے ثقافت کی 12ویں کانفرنس میں شرکت کے لیے  قطر روانہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نگران وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ 25 سے 26 ستمبر تک قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہونے والی اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے ثقافت کی 12ویں کانفرنس میں شرکت کے لیے اتوار کو قطر روانہ ہوگئے۔

قطر کے وزیر مملکت برائے ثقافت اور اسلامی عالمی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم او آئی سی کے ڈائریکٹر جنرل نے مشترکہ طور پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ اور ثقافت کو مدعو کیا ہے۔

نگران وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے جو ثقافتی امور پر توجہ مرکوز کرے گا تاکہ ثقافتی منصوبہ بندی اور ترقی کے اشاریوں کے شعبوں میں مشترکہ ثقافتی عمل کو بڑھایا جائے اور ثقافتی املاک کی غیر قانونی اسمگلنگ وغیرہ سے نمٹا جاسکے۔

 

علاقائی

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 4.7 ریکارڈ

زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے ، شدت 4.7 ریکارڈ

سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے ضلع سوات اور گردونواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔

زلزلے کے باعث لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے باہر نکل آئے تاہم اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں۔

زلزہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 4.7 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کی زیر زمین گہرائی 205 کلو میٹر تھی جبکہ مرکز ہندوکش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔

یاد رہے کہ 18 جولائی کو بھی مانسہرہ، ایبٹ آباد اور سوات سمیت خیبر پختونخوا کے کئی شہروں اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے گی ، ترجمان پاک فوج

خوارج اور ڈیجیٹل دہشت گردی دونوں کا ٹارگٹ فوج ہے، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے گی ، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ 9 مئی پر کہا گیا کہ حملے ہو رہے تھے تو فوج کہا تھی، روکا کیوں نہیں، 9 مئی کے سہولت کاروں اور منصوبہ سازوں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا تو فاشزم مزید پھیلے کی، امن و امان کی صورتحال قابو کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے فوج کی نہیں،۔خوارج اور ڈیجیٹل دہشت گردی دونوں کا ٹارگٹ فوج ہے، ڈیجیٹل دہشت گردی کو قانوں اور مانیٹرنگ سے روکنا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری  نے نیوزکانفرنس کرتے ہوئے کہا  کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد بعض اہم امور پر افواج کا مؤقف واضح کرنا ہے، جیسا کہ علم میں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں مسلح افواج کے خلاف منظم پروپیگنڈا، جھوٹ، غلط معلومات کے پھیلاؤ اور ان سے منسوب من گھڑت خبروں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اس لیے ان معاملات پر بات کرنا ضروری ہے۔ 

انہوں  نے کہا کہ عزم استحکام آپریشن کاؤنٹر ٹیررازم کے حوالے سے ہمہ گیر اور منظم مہم ہے، یہ ملٹری آپریشن نہیں ،  22جون کو عزم استحکام آپریشن پر ایک اجلاس ہوا، اجلاس میں متعلقہ وزرا، وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز موجود تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 22جون کو اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری ہوتا ہے، ایپکس کمیٹی نے 2021کے نظر ثانی شدہ نیشنل ایکشن پلان میں پیشرفت کاجائزہ لیا، ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں سول اور ملٹری افسران بھی شریک تھے، اعلامیہ کے مطابق ایپکس کمیٹی میں ماضی میں کیے گئے آپریشنز کا موازنہ کیا گیا، اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی اتفاق رائے سے کاؤنٹر ٹیررازم  مہم شروع کی جائے، ایک بیانیہ بنایا گیا کہ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں، یہ قومی بقا کا ایشو ہے جس کو مذاق بنایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ  اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ دہشت گردی کے خلاف مہم کو عزم استحکام کے نام سے منظم کیا جائے گا، اعلامیہ میں لکھا گیا کہ ایک قومی دھارے کے تحت اتفاق رائے پیدا کیا جائے گا، یہ قومی وحدت کا معاملہ ہے اس کو بھی سیاست کی نذر کیا جاتا ہے،  کیوں ایک مافیا، سیاسی مافیا اور غیرقانونی مافیا کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا اس کو ہم نے ہونے نہیں دینا، یہ سیاسی مافیا چاہتا ہے کہ عزم استحکام کو متنازع بنایا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ پاکستان میں کوئی نوگو ایریا نہیں ، عزم استحکام سے متعلق 24 جون کو وزیرِ اعظم آفس سے ایک بیان جاری کیا گیا، عزم استحکام فوجی آپریشن نہیں، اس کو متنازع کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ایک مضبوط لابی ہے جو چاہتی ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے اغراض ومقاصد پورے نہ ہوں۔

 ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن کا ایک مقصد دہشتگردوں اور کرمنل مافیا کے رابطے کو بریک کرنا ہے ، کاؤنٹر ٹیررازم کی مد میں اس سال سکیورٹی فورسز نے مجموعی طور پر اب تک 22 ہزار 409 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے، اس دوران 398 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا، دہشتگردی کے ناسور سے نمٹنے کے لیے روزانہ 112 سے زائد آپریشن افواج پاکستان، پولیس، انٹیلیجنس ایجنسی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے انجام دے رہے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کے دوران انتہائی مطلوب 31 دہشتگردوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، رواں سال 137 افسر اور جوانوں نے ان آپریشن میں جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ان بہادروں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے قیمتی جانیں ملک کے  امن و سلامتی پر قربان کی ہیں۔

 لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہاکہ ہم ہر گھنٹے میں 4سے 5انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کررہے ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سب سے زیادہ دہشتگردی ہے، خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کے 537فیلڈ آپریٹر ہیں ، 2014سے سنتے آرہے ہیں کہ مدارس کو ریگولرائزڈ کرنا ہے، 50فیصد سے زیادہ مدارس کا پتہ ہی نہیں کہ کون چلا رہا ہے، 16 ہزار مدارس رجسٹرڈ ہیں، اب بھی 50 فیصد مدارس رجسٹرڈ نہیں، کیا یہ فوج نے کرنا ہے؟ ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اینٹی ٹیررایسٹ کورٹ بنائے گئے، نیکٹا کے مطابق کے پی میں اے ٹی سی کورٹس 13 اور بلوچستان میں 9 ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ سال 23-2022 میں برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

ایک سال کے دوران ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں، سال 23-2022 میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق جون میں غذائی اجناس کی برآمدات میں سالانہ 41.51 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جون میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 54 کروڑ 39 لاکھ ڈالر رہا، گزشتہ سال جون میں غذائی اجناس کی برآمدات 35 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تھیں۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں غذائی اجناس کی برآمدات میں چاول سر فہرست رہے، ایک سال کے دوران چاول کی برآمدات میں 82.94 فیصد اضافہ ریکارڈ، 60 لاکھ 18 ہزار میٹرک ٹن چاول کی برآمدات کی گئیں، مالی سال 24-2023 میں چاول کی برآمدات کا حجم 3 ارب 93 کروڑ ڈالر رہا۔

اسی طرح جون میں چاول کی برآمدات میں 106.19 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن چاول بیرون ملک برآمد کیے گئے، جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 30 کروڑ 37 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 14 کروڑ 73 لاکھ ڈالر تھا۔

ایک سال کے دوران 9 لاکھ 35 ہزار ٹن پھل برآمدات کیے گئے، مالی سال 24-2023 میں پھلوں کی برآمدات میں 21.31 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ 24-2023 میں 12 لاکھ 61 ہزار میٹرک ٹن سبزیاں بھی ایکسپورٹ کی گئیں، سبزیوں کی برآمدات میں 43.20 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران 33 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی برآمد کی گئی، پاکستان نے ایک سال میں 2 لاکھ 48 ہزار ٹن خشک میوہ جات برآمدات کیا، مالی سال 24-2023 میں خشک میوہ جات کی برآمدات میں 117.18 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll