عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ اوربزنس وومن ریحانہ نے بھی بھارتی کسانوں کےحق میں آوازاٹھا دی ۔

تفصیلات کے مطابق امریکی گلوکارہ ریحانہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارت میں کسانوں پر تشددسے متعلق مضمون کو ٹویٹ کرتے ہوئے نے لکھا کہ " ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کر رہے؟" ۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے کسانوں کے احتجاج کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ۔ 32سالہ گلوکارہ نے اپنی ٹویٹ میں دنیا کی توجہ بھارت میں جاری اس احتجاج اور اس میں موجود مظاہرین کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کیے جانے کی طرف دلوائی ہے۔
why aren’t we talking about this?! #FarmersProtest https://t.co/obmIlXhK9S
— Rihanna (@rihanna) February 2, 2021
امریکی گلوکارہ کے ٹویٹ کے بعدالاقوامی سطح پر معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھونبرگ بھی کسانوں کی حمایت کرتی نظر آئیں اور انہوں نے بھی پیغام شئیر کیا ۔
We stand in solidarity with the #FarmersProtest in India.
— Greta Thunberg (@GretaThunberg) February 2, 2021
https://t.co/tqvR0oHgo0
واضح رہے کہ ریحانہ کے ٹوئٹر پر 10 کروڑ سے زیادہ فالورز ہیں اور امریکی گلوکارہ ریحانہ کی جانب سے بھارت میں جاری کسانوں کے احتجاج سے متعلق یہ ٹویٹ نہ صرف ٹرینڈ کررہی ہے بلکہ دنیا بھر سے صارفین کی جانب سے بھارتی پالیسیوں پرردعمل کابھی اظہار کیا جارہا ہے ۔
31جنوری کو بھارت نے نئی دہلی کے تین سرحدی علاقوں میں انٹرنیٹ سروسزمعطل کردی تھیں، کسان مظاہرین نے ایک روزہ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے دوران جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے تھے ۔
اس سے قبل بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر دہلی کی سرحد پر ہزاروں ناراض کسانوں نے احتجاج ریکارڈ کروایا تھا ۔ بھارتی یوم جمہوریہ کے دن پرتشدد احتجاج کے دوران کچھ عناصر نے لال قلعے پر خالصتان تحریک کا پرچم لہرا دیا تھا جہاں ان جھڑپوں میں ایک شخص ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔
خیال رہے کہ مودی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف کسان دو ماہ سے زائد عرصے سے احتجاج کر رہے ہیں۔ مسئلے کے حل کے لیے کسان رہنماؤں اور حکومت کے درمیان مذاکرات تاحال11ادوار ناکام ہو چکے ہیں، حکومت نے ان قوانین کو 18 ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون میں تبدیلی سے کم کسی بھی چیز پر احتجاج ختم نہیں کریں گے۔
واضح رہے کہ بھارت میں زرعی اصلاحات کے قانون کی ستمبر میں منظوری دی گئی اور اس وقت سے کسان دہلی کی سرحدوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں ۔مودی سرکار نے کسانوں کا جلوس روکنے کے لیے سپریم کورٹ سے بھی رابطہ کیا، لیکن بھارتی چیف جسٹس بینچ نے اسے پولیس معاملہ قرار دےدیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس متنازع قانون کو زراعت کے شعبے میں لاکھوں کسانوں کوبااختیار بنانے کے لیے ضروری سرمایہ کاری اور جدت پسندی کی حوصلہ افزائی قرار دے چکے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعت کانگریس کسانوں کی حمایت کرتی نظر آتی ہے ۔

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 9 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 3 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 7 گھنٹے قبل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 8 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 3 گھنٹے قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 9 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 3 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 7 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 9 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 3 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 7 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 8 گھنٹے قبل














