عمران خان کی درخواست ضمانت اور اخراج مقدمہ پر سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ کر لیا


سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت پر سماعت مکمل ہونے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا ۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیر کو سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست ضمانت اور اخراج مقدمہ پر سماعت مکمل ہونے کے بعد چیف جسٹس عامر فاروق نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل سلمان صفدر اور سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی روسٹرم پر آ گئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اپنے دلائل مکمل کر لیے تھے جبکہ گزشتہ سماعت پر راجہ رضوان عباسی کے دلائل مکمل نہیں ہو سکے تھے۔
سپیشل پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے مقدمہ اخراج کی درخواست پر بھی دلائل کا آغاز ساتھ ہی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن فائیو کی درست تعریف یا تشریح نہیں کی، عمران خان نے سائفر کی معلومات پبلک تک پہنچائیں جس کے وہ مجاز نہیں تھے۔
اس موقع پر چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سائفر آنے کے رولز آف پریکٹس ہوں گے، کچھ ایس او پیز بنائے ہوں گے؟
وکیل استغاثہ نے جواب دیا کہ ’سائفر کی دو کیٹگریز ہوتی ہیں جن میں سے ایک کی کمیونی کیشن کی جا سکتی ہے مگر دوسری کیٹگری کی نہیں، یہ سائفر دوسری کیٹگری کا سیکرٹ ڈاکیومنٹ تھا جس کی معلومات پبلک نہیں کی جا سکتی تھیں۔ سائفر کوڈڈ کیوں ہوتا ہے؟
اس لیے تاکہ وہ کسی اور کے ہاتھ نہ لگ سکے، ڈی کوڈڈ سائفر کو پبلک کر دیا گیا، کوڈز تین ماہ بعد تبدیل ہوتے ہیں۔ اس جرم کی سزا 14 سال قید یا سزائے موت بنتی ہے۔ لہذا سیکرٹ ڈاکومنٹ پبلک کرنے پر بطور وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت استثنیٰ حاصل نہیں۔
اس بات پر عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ’مجھے اس بات پر اعتراض ہے، سپیشل پراسیکیوٹر سائفر اسسٹنٹ نعمان کا بیان پڑھ کر سنا رہے ہیں جو اس کیس کے گواہ بھی ہیں۔
بعد ازاں عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے مقدمہ اخراج درخواست پر جوابی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کہا گیا ہے کہ سائفر کی معلومات پبلک کرنے کا اعتراف کر لیا، میں قطعا کسی بات کا اعتراف نہیں کر رہا، عمران خان نے پبلک کو کوئی سائفر نہیں دکھایا بلکہ انہوں نے تو علامتی طور پر ایک کاغذ لہرایا تھا، ڈی کوڈ ہونے والا سائفر تو آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی، شہباز شریف اور خواجہ آصف کے پاس بھی گیا، اس پر تو سفارتی سطح پر شدید احتجاج بھی کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا اور متوقع ہے کہ کچھ دیر بعد فیصلہ سنایا جائے گا۔

اسحا ق ڈار کا مصری وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- 12 گھنٹے قبل

شہباز شریف سے قطر کے وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا
- 7 گھنٹے قبل

حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے،وزیر خزانہ
- 12 گھنٹے قبل

لاہور چیمبر میں برآمدات کے فروغ سمیت ایکسپورٹرز کے مسائل کے حل کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد
- 9 گھنٹے قبل

ایران،امریکا امن معاہدہ 24 گھنٹوں میں حتمی شکل اختیار کرلے گا،وزیراعظم
- 11 گھنٹے قبل

برصغیر کےعظیم گلوکار، شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو مداحوں سے بچھڑے14 برس بیت گئے
- 8 گھنٹے قبل

اسلام آباد ڈیکلریشن سے عالمی امن قائم ہو رہا ہے، پاکستان نے تیسری عالمی جنگ روکی یہ اعزاز کی بات ہے،طاہر اشرفی
- 12 گھنٹے قبل

سونا مسلسل دوسرے روز ہزاروں روپے مہنگا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 9 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- 7 گھنٹے قبل

آسام میں بھارتی فضائیہ کا ایک او ر جنگی طیارہ گر کر تباہ،ائیر فورس کی تصدیق
- 12 گھنٹے قبل

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- 7 گھنٹے قبل

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کا اعلان ہو گیا،تقریبات 6 روز تک جاری رہیں گی
- 8 گھنٹے قبل








.webp&w=3840&q=75)

.jpg&w=3840&q=75)