جی این این سوشل

پاکستان

سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ٹرائل روکنے کےحکم میں ایک دن کی توسیع

سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی گئی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سائفر کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کی ٹرائل روکنے کےحکم میں ایک دن کی توسیع
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے سائفر کیس میں جیل ٹرائل پر حکم امتناع میں کل تک توسیع کر دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ثمن رفعت پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی جیل ٹرائل اور جج تعیناتی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کے حکم میں بھی ایک دن کی توسیع کر دی۔

عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے عدالت میں دلائل دیئے کہ 12 نومبر سے پہلے کے نوٹی فکیشن میں کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، وفاقی کابینہ کی منظوری سے پہلے ہونے والا ٹرائل خلاف قانون ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو سکیورٹی خدشات سے متعلق رپورٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی عدالت کے جج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن کل طلب کر لیا۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نوٹیفائی کرنے کا نوٹیفکیشن کل پیش کر دیں، اٹارنی جنرل عدالت کو مطمئن کریں کہ جیل ٹرائل کیوں ضروری ہے۔

بعدازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس کے جیل ٹرائل کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل 11 بجے تک ملتوی کر دی۔

پاکستان

وزیراعظم کا ملک میں جاری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس، اجلاس طلب

گرمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی بندش بھی عروج پر ہے اور مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک جا پہنچا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم کا ملک میں جاری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس، اجلاس طلب

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں جاری غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس آج ہو گا، وزیراعظم کو بجلی کی طلب ورسد اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔

اجلاس میں بجلی چوری کیخلاف جاری کاررائیوں پر پیشرفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا جبکہ اجلاس میں صوبوں میں بجلی کے حوالے سے درپیش مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ 

ملک میں گرمی کے ساتھ ساتھ بجلی کی بندش بھی عروج پر ہے اور مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 14 گھنٹے تک جا پہنچا۔

پشاور میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف لوگوں نے احتجاج کیا جس میں مظاہرین نے ایم ون موٹروے بلاک کر دی جس سے سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

مظاہرین نے حکام کے مذاکرات کے لیے آنے تک سڑک کھولنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں بجلی کی طویل بندش سے عوام پریشان ہیں، کراچی کے بعض علاقوں میں آدھی رات کے بعد بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

جبکہ کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ آٹھ سے بڑھا کر دس گھنٹے کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں تربت، سبی، نصیر آباد اور جعفرآباد سمیت ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں 12 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا

28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا

28مئی یوم تسخیر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔

28 مئی 1998 کو پاکستان نے انڈیا کے مقابلے میں ایٹمی دھماکے کئے یہ یقینا ایک قاابل فخر دن ہے۔ یہ ایک قومی دن ہے۔ نواز شریف اس وقت وزیر اعظم تھے اور ان سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا نہیں جا سکتا، لیکن کیا دوسروں سے ان کے حصے کا کریڈٹ چھینا جا سکتا ہے، بھٹو سے، ضیا الحق سے، ڈاکٹر اے کیو خان اور ان کے رفقا سے؟ کئی ہیرو تو وہ ہوں گے جو گم نام ہوں گے اور کیا عجب کہ حقیقی ہیرو وہی ہوں۔

عبدالقدیر خان 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے تھے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان ہجرت کی تھی۔کراچی میں ابتدائی تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے وہ یورپ گئے اور 15 برس قیام کے دوران انہوں نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی، ہالینڈ کی یونیورسٹی آف ڈیلفٹ اور بیلجیئم کی یونیورسٹی آف لیوین سے تعلیم حاصل کی۔

1974 میں پاکستانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر رابطوں کے بعد 1976 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان واپس پاکستان آئے اور 31 مئی 1976 کو انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز کی بنیاد رکھی۔

اس ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاء الحق نے تبدیل کرکے ان کے نام پر " ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز" رکھ دیا تھا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے ایک کتابچے میں خود لکھا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا اور بعد میں آنے والے حکمرانوں نے اسے پروان چڑھایا۔ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک اس پروگرام کے سربراہ رہے۔

ڈاکٹر اے کیو خان کے انسٹی ٹیوٹ نے ان کی سربراہی میں نا صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کیلئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت چھوٹی اور درمیانی رینج تک مار کرنے والے متعدد میزائیل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ محسن پاکستان نے ہالینڈ میں رہائش کے دوران ہنی خان نامی خاتون سے شادی کی تھی جن سے ان کی دو بیٹیاں بھی ہیں جو شادی شدہ ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا جب کہ آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی تحریر کیے۔ 1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی جبکہ 14 اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا اور پھر 1989 میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔
پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سیچٹ sachet نامی ایک این جی او بھی بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت کا سولر سسٹم کےحوالے سے عوام کو بڑا ریلیف

تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی اور ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین رجسٹریشن کرا سکیں گے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کا سولر سسٹم کےحوالے سے عوام کو بڑا ریلیف

پنجاب میں مستحق افراد کے لئے حکومت پنجاب نے مفت سولر سسٹم فراہم کرنے کے حوالے سے طریقہ کار طے کر لیا۔

ذرائع کے مطابق ماہانہ 100 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے 50 ہزار گھرانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کیا جائےگا۔ تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی اور ایس ایم ایس کے ذریعے صارفین رجسٹریشن کرا سکیں گے۔

سولرسسٹم اور انسٹالیشن کا 100فیصد خرچہ پنجاب حکومت برداشت کریگی، منصوبے پر 10 ارب روپے لاگت آئے گی، بجلی چوری، میٹر ٹیمپرننگ ریکارڈ یا کسی بھی دوسری اسکیم سے مستفید گھرانے اہل نہیں ہوں گے۔

دستاویزات کے مطابق اہل صارفین بل ریفرنس نمبر اور شناختی کارڈ نمبر 8800 پر بھیج کر اپنی رجسٹریشن کروا سکیں گے، سو یونٹس سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا ڈیٹا نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کو مہیا کیا جائے گا۔

این ٹی سی تصدیق کے بعد اہل صارفین کا ڈیٹا پی آئی ٹی بی کو بھی فراہم کرے گا، پی آئی ٹی بی سے جاری حتمی لسٹیں ضلعی انتظامیہ کو بھیجی جائیں گی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کےلیے محکمہ توانائی کو پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی منظوری بھی مل گئی، منصوبے کو نئے مالی سال کا حصہ بنا کر یکم جولائی سے عملدرآمد کا آغاز کیا جائے گا۔

دوسری جانب سندھ حکومت نے عالمی بینک کے اشتراک سے صرف 7 ہزار روپے کے عوض پورا سولر سسٹم عوام کو فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ بھر میں دو لاکھ گھرانوں کو صرف 7 ہزار روپے میں پورا سولر سسٹم فراہم کیا جائے گا، کراچی کے 50 ہزار گھرانے بھی شامل ہیں۔ عالمی بینک کے اشتراک سے مجوزہ فراہم کردہ سولر سسٹم سے ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکیں گے۔

ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی کے مطابق ہر صوبے کے ہر ضلع میں 6 ہزار 656 سولر سسٹم دیئے جائیں گے، منصوبے کا آغاز رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔ سسٹم میں سولر پینلز، چارج کنٹرولر اور بیٹری بھی شامل ہے، جیسے ہی خریداری ہوجائے گی تو اکتوبر میں تقسیم شروع ہوجائے گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll