جی این این سوشل

دنیا

مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے، چینی وزیر خارجہ

چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے، وانگ ای

پر شائع ہوا

کی طرف سے

مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے  کوششیں جاری رکھیں گے، چینی وزیر خارجہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقصد کی بھرپور حمایت کی ہے ،چین نے ہمیشہ فوری جنگ بندی، عام شہریوں کے تحفظ، انسانی صورتحال کی بہتری اور دو ریاستی حل کے نفاذ کی وکالت کی ہے اور فلسطین کے مسئلے کے جلد، جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے انتھک کوششیں جاری رکھے گا۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی کے ساتھ ملاقات کے دوان وانگ ای نے کہا کہ 35 سال قبل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ہمیشہ صحت مند اور مستحکم انداز میں استوار رہےہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی گہری ہوئی ہے۔ رواں سال جون میں دونوں سربراہان مملکت نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے قیام کا اعلان کیا تھا جس میں دو طرفہ تعلقات کی ترقی کی سمت کی نشاندہی کی گئی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں وزیر خارجہ ریاض المالکی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہوں تاکہ دونوں سربراہان مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے اور فلسطین چین اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئی سطح پر لے جایا جا سکے۔

اس موقع پر فلسطینی وزیر کارجہ نے کہا کہ فلسطین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، گلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سیکیورٹی انیشی ایٹو اور صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور ون چائنا پالیسی پر سختی سے کاربند رہے گا۔ فلسطین غزہ تنازعہ پر چین کے منصفانہ موقف اور فلسطینی عوام کے منصفانہ مقصد کے لئے اس کی حمایت کو انتہائی سراہتا ہے۔

 

تجارت

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں جبکہ سال 23-2022 میں برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا ریکارڈ اضافہ

ایک سال کے دوران ملکی غذائی اجناس کی برآمدات میں 46.77 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 24-2023 میں غذائی اجناس کی برآمدات 7 ارب 37 کروڑ ڈالر رہیں، سال 23-2022 میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 5 ارب ڈالر سے زائد تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق جون میں غذائی اجناس کی برآمدات میں سالانہ 41.51 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، جون میں غذائی اجناس کی برآمدات کا حجم 54 کروڑ 39 لاکھ ڈالر رہا، گزشتہ سال جون میں غذائی اجناس کی برآمدات 35 کروڑ 92 لاکھ ڈالر تھیں۔

ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال میں غذائی اجناس کی برآمدات میں چاول سر فہرست رہے، ایک سال کے دوران چاول کی برآمدات میں 82.94 فیصد اضافہ ریکارڈ، 60 لاکھ 18 ہزار میٹرک ٹن چاول کی برآمدات کی گئیں، مالی سال 24-2023 میں چاول کی برآمدات کا حجم 3 ارب 93 کروڑ ڈالر رہا۔

اسی طرح جون میں چاول کی برآمدات میں 106.19 فیصد کا اضافہ ریکارڈ ہوا، 4 لاکھ 25 ہزار میٹرک ٹن چاول بیرون ملک برآمد کیے گئے، جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 30 کروڑ 37 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ سال جون میں چاول کی برآمدات کا حجم 14 کروڑ 73 لاکھ ڈالر تھا۔

ایک سال کے دوران 9 لاکھ 35 ہزار ٹن پھل برآمدات کیے گئے، مالی سال 24-2023 میں پھلوں کی برآمدات میں 21.31 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جبکہ 24-2023 میں 12 لاکھ 61 ہزار میٹرک ٹن سبزیاں بھی ایکسپورٹ کی گئیں، سبزیوں کی برآمدات میں 43.20 فیصد اضافہ ہوا۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک سال کے دوران 33 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی برآمد کی گئی، پاکستان نے ایک سال میں 2 لاکھ 48 ہزار ٹن خشک میوہ جات برآمدات کیا، مالی سال 24-2023 میں خشک میوہ جات کی برآمدات میں 117.18 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔

حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔

حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔

چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔

افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔

4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔

چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔

وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عمران خان کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

انی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، حکم نامہ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عمران خان کی  وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس ، تحریری حکم نامہ جاری

عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹوں کے خلاف کیس میں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اور سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وارننگ جاری کردی گئی۔

عدالت نے حکم نامہ میں قرار دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے مشاورت کے حق میں رکاوٹوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا، دوبارہ ایسا واقعہ رپورٹ ہوا تو عدالت فوری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرے گی۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ ایسے واقعے کی صورت میں آج کے آرڈر کو ہی توہینِ عدالت کا باقاعدہ نوٹس قرار دیا جائے گا، سپرنٹنڈنٹ جیل نے بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں کی فہرست جمع کرائی، عدالت کو بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں، عدالت کو بتایا گیا کہ وکلاء کو جیل پہنچنے کیلئے میلوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔۔

تحریری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے درمیان شیشے کی رکاوٹ اور گفتگو سُننے کیلئے پولیس اہلکار کھڑے کرنے سے متعلق بتایا گیا، عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی وکلاء سے ملاقات میں رکاوٹوں پر حیرت کا اظہار کیا، عدالت جیل حکام کے ایس او پیز پر عم لدرآمد کے موقف سے اتفاق کرتی ہے، وکلاء اور دیگر ملاقات کرنے والوں کی ملاقاتوں کو تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے ملاقاتوں کی فہرست دیکھنے کیلئے وقت مانگا، کیس کی سماعت 13 ستمبر تک ملتوی کی جاتی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll