سرکاری سکیم کے تحت 89 ہزار 605 عازمین کے کوٹے کے مقابلے میں 13 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں


سرکاری حج 2024 میں درخواستوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
سرکاری سکیم کے تحت 89 ہزار 605 عازمین کے کوٹے کے مقابلے میں پہلے 10 دنوں میں حج کے لیے صرف چودہ فیصد یعنی 13 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے حکومت کی سکیم کے تحت حج 2024 کی درخواستیں 27 نومبر سے طلب کی ہیں اور یہ سلسلہ 12 دسمبر تک کے لیے جاری رہے گا۔
وزارت مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق سرکاری سکیم کے تحت 10 دنوں میں حج کے لیے اب تک تقریباً 13 ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ وزارت مذہبی امور نے سرکاری سکیم کے تحت حج کی متوقع لاگت 10 لاکھ 75 روپے رکھی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر درخواست دہندگان کے سست ردعمل کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ نومبر میں سال بہ سال کی بنیاد پر مہنگائی میں2.29 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملک کے ادارہ شماریات کے مطابق نومبر میں قیمتوں میں7.2 فیصد اضافہ ہوا جبکہ اس سے پچھلے مہینے میں ایک فیصد اضافہ ہوا تھا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان پچھلے سیزن یعنی 2023 میں اپنا حج کوٹہ پورا کرنے میں ناکام رہا تھا اور8 ہزار عازمین حج کا کوٹہ سعودی عرب کے حوالے کر دیا تھا۔ اس سال، سعودی عرب نے پاکستان کا 1 لاکھ 79 ہزار 210 عازمین حج کا قبل از کرونا وائرس مجموعی حج کوٹہ بحال کیا اور حج کی ادائیگی کے لیے 65 سال کی عمر کی بالائی حد ختم کر دی۔
حکومت کی جانب سے اسپانسر شپ سکیم حج اس سال متعارف کرائی گئی تھی، جس کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حج کے لیے درخواست دینے یا پاکستان میں کسی کو امریکی ڈالر ادا کرکے سفر کے لیے اسپانسر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسے درخواست دہندگان کو بیلٹنگ کے عمل میں حصہ لینے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت درخواست دہندگان کی کم دلچسپی کے پیش نظر حج درخواستوں کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ کر سکتی ہے اور اگر پاکستان مطلوبہ تعداد میں حج درخواستیں وصول کرنے میں ناکام رہا تو اسے ایک بار پھر اپنے عازمین حج کا کوٹہ سعودی عرب کے حوالے کرنا پڑے گا۔

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 13 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 12 گھنٹے قبل

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 13 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 6 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 6 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 10 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 6 گھنٹے قبل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 12 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 12 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 10 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 6 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 11 گھنٹے قبل









