جی این این سوشل

پاکستان

انوار الحق کاکڑ کا سارک کے مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ

نگران وزیر اعظم پاکستان نے سارک کے انتالیس ویں یوم منشور پر اپنے پیغام میں یقین ظاہر کیا کہ تنظیم کو فعال بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

انوار الحق کاکڑ کا  سارک کے مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سارک کے مقاصد کے حصول کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔انہوں نے سارک کے انتالیس ویں یوم منشور پر اپنے پیغام میں یقین ظاہر کیا کہ تنظیم کو فعال بنانے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں گی تاکہ رکن ممالک کو مفید باہمی علاقائی تعاون کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔

سارک کیا ہے ؟ 

جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم یا سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک کی ایک اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے۔ یہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم ہے جو تقریباً 1 اعشاریہ 47 ارب لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ تنظیم 8 دسمبر 1985ء کو بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ اور بھوٹان نے قائم کی تھی۔ 

انہوں نے کہا پاکستان خطے کی ترقی کیلئے علاقائی تعاون کے استحکام اور امکانات پر یقین رکھتا ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سارک کے منشور کے مطابق نتیجہ خیز علاقائی تعاون، مساوی خود مختاری اور باہمی افہام و تفہیم کے سنہری اصولوں پر عمل سے ہی ممکن ہے۔وزیراعظم نے جنوبی ایشیا اور دنیا بھر کے فائدے کیلئے خطے کی حقیقی صلاحیت کو بروئے کار لانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستان

توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری کا امکان

میڈیا ذرائع کے مطابق بشری بی بی کی اب توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ، ان کو گرفتار کرنے کیلئے نیب کی ٹیم اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی کی گرفتاری کا امکان

بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری کیلئے نیب ٹیم اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی ۔ 

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے 28 صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کیا اور اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے بشریٰ بی بی اور عمران خان کو عدت کیس میں بری کرتے ہوئے احکامات جاری کیے کہ اگر کسی اور کسی میں مطلوب نہیں تو ان کو رہا کردیا جائے ۔ 

میڈیا ذرائع کے مطابق بشری بی بی کی اب توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ، ان کو گرفتار کرنے کیلئے نیب کی ٹیم اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ گئی ہے ۔ 

 

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

ٹرمپ حملے پر جو بائیڈن سمیت مختلف رہنماؤں کی مذمت

 ٹرمپ اس قاتلانہ حملے میں محفوظ کا سن کر خوشی ہوئی ، امریکا میں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے، جوبائیڈن کی مذمت

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ٹرمپ حملے پر جو بائیڈن سمیت مختلف رہنماؤں کی مذمت

پنسلواینا میں انتخابی مہم کے دوران سابق امریکی صدر اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونیوالے قاتلانہ حملے پر امریکی صدرجوبائیڈن سمیت مختلف رہنمائوں میں سخت مذمت کی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ٹرمپ اس قاتلانہ حملے میں محفوظ کا سن کر خوشی ہوئی ، امریکا میں ایسے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعات کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔

سابق امریکی صدر بش نے ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کو بزدلانہ فعل قرار دے دیا۔

اس حوالے سے سابق صدر بارک اوباما نے بھی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جمہوریت میں سیاسی تشدد کی قطعاً کوئی جگہ نہیں ہے۔

پنسلوانیا کے گورنر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ کے واقعہ کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر پر تشدد ناقابل قبول ہے۔

سپیکر اسمبلی نینسی پلوسی نے کہا ہے شکر ہے ڈونلڈ ٹرمپ حملے میں محفوظ رہے، ڈیموکریٹک سینیٹر چک شمر نے ٹرمپ پر حملے کو خطرناک واقعہ قرار دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

جنگلی ہاتھی کا جنگل میں رحم دلی کا مظاہرہ ، ہاتھی  شیرنی کے بچوں پر حملہ کرنے سے گریزاں 

ہاتھی کو دیکھ کر شیرنی نے بدحواسی میں اپنے چھوٹےبچوں سمیت  بھاگنا شروع کیا، مگر بدقسمتی سے شیرنی کے بچے پیچھے رہ گئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جنگلی ہاتھی کا جنگل میں رحم دلی کا مظاہرہ ، ہاتھی  شیرنی کے بچوں پر حملہ کرنے سے گریزاں 

ایک جنگلی ہاتھی نے جنگل کے قانون میں انسانیت کی شق متعارف کروا دی۔  شیرنی کے بچوں کو تنہا دیکھتے ہوئے ایک جنگلی ہاتھی  حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا۔   
تفصیلات کےمطابق ایک سوشل میڈیا صارف نے ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں ایک شیرنی اپنے بچوں کے ساتھ جنگل میں چہل قدمی کر رہی تھی۔ اچانک ایک بڑے ہاتھی نے شیرنی کو اس کے بچوں سمیت  دیکھ لیا۔ ہاتھی، شیرنی کو دیکھ کر شیرنی کی جانب لپکا۔ ہاتھی کے اچانک حملے سے شیرنی بدحواس ہو گئی۔ 
ہاتھی کو دیکھ کر شیرنی نے بدحواسی میں اپنے چھوٹےبچوں سمیت  بھاگنا شروع کیا، مگر بدقسمتی سے شیرنی کے بچے پیچھے رہ گئے۔ 
ہاتھی نے شیرنی کا تعاقب کیا، مگر شیرنی تب تک دور جا چکی تھی۔ 
شیرنی تو ہاتھی کی پہنچ سے دور نکل گئی، مگر شیرنی کے بچے ہاتھی کی دسترس میں آگئے۔ 
عین اسی لمحے ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ ہاتھی نے شیرنی کے تنہا بچوں پر حملہ نہیں کیا اور واپس پلٹ گیا۔ 
جنگل کے ایک جنگلی جانور نے چھوٹے بچوں پر حملہ نہ کر کے  انسانیت کا اعلیٰ درس دے دیا۔ انسانی معاشرے کے لیے اس واقعے میں ایک بڑا درس ہے۔ انسانی معاشرے میں بچوں کے ساتھ انسانیت سوز واقعات اکثر رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔   

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll