پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات، پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روک دیا
جس نے پارٹی انتخابات جیلنچ کئے وہ پارٹی کا حصہ ہی نہیں ہے، بیرسٹر گوہر

.jpg&w=3840&q=75)
پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن، پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کے خلاف دائر درخواست پر الیکشن کمیشن کو حتمی فیصلے سے روک دیا اور ان سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس شکیل احمد پرمشتمل دو رکنی بنچ نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے چئیرمین بیرسٹر گوہر علی، قاضی محمد انور، شاہ فیصل اتمان خیل، محمد نعمان کاکاخیل سمیت دیگر وکلا عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
دوران سماعت بیرسٹر گوہرعلی نے عدالت کوبتایا کہ جس نے پارٹی انتخابات جیلنچ کئے وہ پارٹی کا حصہ ہی نہیں ہے،پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن 2 دسمبر کو پشاور میں ہوئے جس میں پارٹی چئیرمین بلا مقابلہ منتخب ہوا اس الیکشن کے خلاف اکبر ایس بابر نے ایک درخواست دائر کی حالانکہ وہ پارٹی کا رکن بھی نہیں ہے۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208 اور 209 کے تحت انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کیا گیا جو کہ ہر پانچ سال بعد کیا جاتا ہے اور یہ الیکشن سیاسی جماعت کے اندر پارٹی کے اپنے آئین کے تحت منعقد کیا جاتا ہے تاہم ان انتخابات کے خلاف ایک درخواست الیکشن کمیشن میں دائر کی گئی جو کہ ناقابل سماعت ہے اور الیکشن کمیشن کے پاس یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ اس درخواست پر سماعت کرے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس کے باوجود آج منگل کے روز فل بنچ نے اس درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اگر پی ٹی ائی کی جانب سے کوئی پیش نہیں ہوا تو ان کی غیر موجودگی میں بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
پی ٹی آئی کے چئیرمین نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں الیکشن کمیشن کا کردار پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے یک طرفہ رہا ہے خواہ وہ فارن فنڈنگ کیس ہو یا جیل ٹرائل یا کوئی دوسرا مسئلہ، جہاں بھی پاکستان تحریک انصاف کی بات آتی ہے تو الیکشن کمیشن اس میں جانب داری دکھاتا ہے اور انہیں شدید تحفظات ہیں۔
اس موقع پر جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ جس نے یہ شکایت دائر کی ہے کہ وہ اب پارٹی ممبر ہے جس پر بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ نہیں اس کی ممبر شب 10 سال سے زائد ہوئے ہیں ختم کردی گئی ہے اب وہ پارٹی ممبر نہیں رہا اور جو الیکشن ہوئے ہیں وہ 13 ستمبر 2023ء کے الیکشن کمیشن کے احکامات کی روشنی میں ہوئے ہیں تو کس طرح اس الیکشن کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انتخاب کے بعد انہوں نے باقاعدہ کاغذات کے ساتھ تمام لوازمات الیکشن کمیشن کے پاس جمع کیے ہیں تاکہ اس کو الیکشن کمیشن گزٹ میں نوٹیفائی کرے مگر نوٹی فکیشن نوٹیفائی کرنے کے بجائے ان کے خلاف درخواست دائر کی گئی اور انہیں چیلنج کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان کی تاریخ میں ابھی تک کسی پارٹی کے انٹر پارٹی الیکشن کو چیلنج نہیں کیا گیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن نے اس ضمن میں کوئی نوٹس جاری کیا مگر پاکستان تحریک انصاف کی بات جب آجاتی ہے تو وہ ہر چیز میں حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ قانون میں اس طرح کی کوئی شق موجود ہی نہیں کہ الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی الیکشن سے متعلق سماعت کرسکے مگر اب صرف توشہ خانہ کیس اور دیگر کیسز میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف کے خلاف ہرحد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
بیرسٹر گوہر نے عدالت کوبتایا کہ پاکستان تحریک انصاف پاکستان کے 70 فیصد عوام کی نمائندگی کررہی ہے ابھی تک پاکستان تحریک انصاف کا انٹر پارٹی الیکشن سے متعلق سرٹیفیکیٹ شائع نہیں ہوا جو کہ ایک قانونی تقاضا ہے لہذا عدالت انہیں حکم دے کہ مذکورہ سرٹیفیکیٹ کو شائع کرے تاکہ انٹرا پارٹی الیکشن کو آئینی تحفظ حاصل ہو اور اس ضمن میں تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں باقاعدہ طور پر کمیشن مقرر کیا گیا جنہون نے انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کیا اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر انٹر پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے تو اس سے اگلے ہی روز الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول کا اعلان کرے گا اور اگر یہ نوٹیفائی نہیں ہوتا تو پھر اس طرح کے یہ مسائل پیدا ہونگے۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد الیکشن کمیشن کو مذکورہ درخواست پر حتمی فیصلے سے روک دیا اور ان سے 7 روز میں جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو مذکورہ رٹ درخواست پر وائس کمنٹس بھی جمع کرنے کا حکم دے دیا۔
بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی اور بلے کا نشان 70 فیصد عوام کی نمائندگی کررہی ہیں اور یہ ایک دوسرے کے لئے لازم اور ملزوم ہیں، ہمیں خدشہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف سے بیٹ کا انتخابی نشان چھینے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے خلاف انہوں نے پشاور ہائیکورٹ میں رٹ دائر کی ہے اور جس پر انہیں ریلیف بھی مل گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن پاکستان تحریک انصاف کے خلاف حد سے تجاوز کررہی ہے اور ایسے فیصلے دے رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی، عمران خان پی ٹی آئی کے تاحیات چیئرمین ہیں وہ ایک جمہوریت شخصیت ہیں، پی ٹی آئی آئندہ انتخابات سے بائیکاٹ نہیں کرے گی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اگر ہم ہائی کورٹ میں کیس دائر نہ کرتے تو الیکشن کمیشن بیٹ کا نشان تبدیل کرتا جو کسی صورت قابل برداشت نہیں ہمیں الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے، عدلیہ سے اچھے کی امیدیں وابستہ ہے۔

خسارے کا شکار ریاستی ملکیتی اداروں کی نجکاری حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم
- 20 گھنٹے قبل

وینزویلا سے 5 کروڑ بیرل اعلی معیاری تیل امریکہ منتقل کیا جائے گا،ڈونلڈ ٹرمپ
- 4 گھنٹے قبل

گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے حلف اٹھالیا
- ایک دن قبل

نجی یونیورسٹی میں طالبہ نے خودکشی کی کوشش کیوں کی؟ اصل وجوہات سامنے آگئیں
- 3 گھنٹے قبل

چکوال:مسافر بس کھائی میں گرنے سے 5 مسافر جاں بحق، 7 خواتین سمیت 27 زخمی
- 3 گھنٹے قبل

سابق وزیر اعلی علی امین گنڈاپور اشتہاری قرار، وارنٹ گرفتاری جاری
- ایک گھنٹہ قبل

معرکہ حق کے بعد اتنے آرڈرمل رہے ہیںکہ جلد آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہنے کی پوزیشن میں ہونگے،خواجہ آصف
- ایک گھنٹہ قبل

اسٹاک ایکسچینج کا ایک اور سنگ میل،انڈیکس ایک لاکھ 86 ہزارپوائنٹس کی بلند ترین سطح عبور کر گیا
- ایک گھنٹہ قبل

ملک کے بیشتر اضلاع میں شدید سردی کی لہر برقرار ، میدانی علاقوں میں شدید دھندکا راج
- ایک گھنٹہ قبل

کسانوں کو جدید زرعی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے قرضوں کی فراہمی میں ترجیح دی جائے، وزیر اعظم
- 4 گھنٹے قبل
.jpg&w=3840&q=75)
مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمت میں کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 گھنٹے قبل

وزیراعظم نےپی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے سپیکر ایاز صادق کو گرین سگنل دے دیا
- 4 گھنٹے قبل








.jpg&w=3840&q=75)

