Advertisement

امریکا کا افغانستان، لیبیا اور عراق کی طرح غزہ میں بھی منصوبہ ناکام ہو گا، روسی وزیر خارجہ

دنیا کو افراتفری میں ڈالنے کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی سازشیں ہیں، سرگئی لاوروف

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Dec 28th 2023, 7:33 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
امریکا کا افغانستان، لیبیا اور عراق کی طرح غزہ  میں بھی منصوبہ ناکام ہو گا، روسی وزیر خارجہ

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ دنیا کو افراتفری میں ڈالنے کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی سازشیں ہیں مگر مغرب کی بالادستی کم ہو رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک انٹرویو میں لاوروف نے خبردار کیا کہ دنیا میں کوئی بھی 2024 میں مغربی سازشوں سے بچ نکلنے کا یقین نہیں کر سکتا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ امریکا غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے اپنے طریقے مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن کا بین الاقوامی قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

روی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا اس سے قبل کئی ممالک میں اپنے منصوبے مسلط کرنے کی ناکام کوشش کرچکا ہے جن میں افغانستان، عراق، لیبیا اور تباہ ہونے والے دیگر ممالک اور خطے شامل ہیں۔ واشنگٹن کی مہم جوئی کی وجہ سے یہ ممالک تباہ ہوگئے مگر امریکی وژن کامیاب نہیں ہوسکا۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ہم بنیادی طور پر خود فلسطینیوں کی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقائی شراکت داروں کی رائے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ فلسطینیوں کو اپنی ریاست قائم کرنے کا حق ہے، جس میں مغربی کنارہ، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی سمیت تمام دیگر علاقے شامل ہیں۔

لاوروف نے وضاحت کی کہ روس کا مؤقف سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور عرب امن اقدام پر مبنی ہے اور مستقل امن کے قیام کا فارمولہ معروف ہے۔ ہمارا موقف 1967ء کی سرحدوں کے اندر مشرقی یروشلم کےدارالحکومت پر مشتمل ایک آزاد ریاست کا قیام کے مطالبے پر مبنی ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے اعتراف کیا کہ یہ آسان نہیں ہے، مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ اس کا متبادل خونریزی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی کشیدگی نئی نہیں بلکہ 75 سال سے جاری ہے۔دنیا میں طوفان بدستور جاری ہیں اور اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مغرب کے حکمران حلقے اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور بحرانوں کو ہوا دے رہے ہیں، تاکہ اپنے مسائل کو دوسرے لوگوں کی قیمت پر حل کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ماسکو نہ صرف یوکرین کی جنگ کا ذمہ دار مغرب کو ٹھہراتا ہے بلکہ اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا آغاز طویل عرصے سے امریکی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔

Advertisement