ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے، رہنما پاکستان تحریک انصاف


پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کہتے ہیں کہ انتخابی عمل کے آغاز کے باوجود پی ٹی آئی کے خلاف ریاستی انتقامی کاروائیوں میں نرمی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
ایک انٹر ویو میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مقتدر حلقوں کو ادراک ہونا چاہئے کہ اب بہت ہوگیا، ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔اگر سرکار، عدلیہ اور الیکشن کمیشن آسانی پیدا کریں گے تو آگے بڑھ سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں الیکشن میں حصہ لینے دیں۔ عمران خان نے صرف اور صرف بلے کو بچانے کی خاطر چئیرمین شپ سے استعفا دیا، اور ہمیں کہا کہ آپ جا کر الیکشن کروائیں تاکہ کسی کو کوئی بہانہ نہ ملے۔ لیکن ہم موجوں سے نبرد آزما ہیں، ہمیں ہروایا گیا ہے ہم ہارے نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی دائر کرنے کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ قانونی طور پر آرٹیکل 188 کے مطابق ہمارے پاس 30 دن کا وقت ہے، سپریم کورٹ نے ابھی تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا، 30 دن کے اندر اندر اگر تفصیلی فیصلہ آجاتا ہے تو ہم نظر ثانی دائر کریں گے۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ ہماری پٹیشن کو تین کے بجائے پانج ججز کو سننا چاہیے تھا۔مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اب سیز فائر ہونا چاہیے، مستقبل کی طرف بڑھنا چاہیے۔
براہ راست یا پس پردہ رابطوں پر انہوں نے کہا کہ نہ میں نے کیا ہے نہ مجھ سے کوئی رابطہ ہوا ہے، میں نے کوئی رابطہ نہیں کیا، مجھ سے کوئی کانٹیکٹ نہیں ہوا، جب سے میں چئیرمین بنا ہوں یا پارٹی میں رہا ہوں، نہ مجھے کسی نے ڈرایا یا دھمکایا ہے، نہ کوئی پریشر کیس ہے، میرے گھر پر حالیہ حملہ ہوا ہے، لیکن مجھے کسی نے پروچ نہیں کیا۔
فوج سے بات کرنے کے مینڈیٹ پر بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ نہ میرے پاس مینڈیٹ ہے نہ میں بات کرتا ہوں، نہ میرے پاس کوئی اپروچ ہے، میں سمجھتا ہوں ذاتی طور پر بھی اور پارٹی بھی سمجھتی ہے، ہم نے کئی مرتبہ بیانات بھی دیئے، خان صاحب کی طرف سے بھی اسٹیٹمنٹ آئی ہے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کرانے کیلئے ہم سب سے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے فوج کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کیا، یہ ایک غلط فہمی ہے جو ہم دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ سولو فلائٹ لے گی، بلکہ ہماری کوشش یہی ہے کہ سب کے ساتھ مل کر ملک کی بہتری کیلئے سوچیں گے۔ ہم اگر کسی کے ساتھ بیٹھیں گے تو اپنے بیانیے کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کریں گے، نہ کے ان کی وکٹ پر کھیلیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 860 حلقوں میں سے 815 پر ہمارے امیدوار ہیں، ہم انتخابات میں کسی کے ساتھ اتحاد کیے بغیر آگے بڑھیں گے۔ ہم نے سبق سیکھ لیا کہ یہ چھوڑتے نہیں اور ہم ہار مانتے نہیں اور جو ہار نہیں مانتے جیت انہی کی ہوتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اللہ کے فضل اور عوام کی طاقت سے ہم جیتیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی صورت مائنس نہیں ہوسکتے، ’عمران احمد خان نیازی صاحب چئیرمین تھے، چئیرمین ہیں اور چئیرمین رہیں گے‘۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش
- 9 گھنٹے قبل
وہ بھاڑ میں جائے جو کہتا ہے پاکستان بھاڑ میں جائے، علامہ طاہر اشرفی
- 14 گھنٹے قبل

مفاہمتی یاداشت پر اتفاق ہونے کے بعدامریکا نے ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت دی دی
- ایک دن قبل

گلوکار طارق طافو منوں مٹی تلے جا سوئے
- 12 گھنٹے قبل
پیپلزپارٹی کے امجد حسین بلامقابلہ گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ منتخب ہوگئے
- ایک دن قبل

ایرانی صدرمسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- 12 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کی علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کی تعریف
- 7 گھنٹے قبل

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ منظور کر لیا
- 13 گھنٹے قبل
لتھوانیا کی وزیر اعظم نے بھی اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
- 13 گھنٹے قبل

تعبیر فاؤنڈیشن اور کِٹاس کالج کے درمیان مستحق اور ذہین طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف کی فراہمی کا معاہدہ
- 9 گھنٹے قبل

گلگت بلتستان اسمبلی میں اسپیکر پیپلز پارٹی اور ڈپٹی اسپیکر (ن) لیگ سے منتخب
- ایک دن قبل

مصر نے 92 سال بعد فیفا ورلڈ کپ کا میچ جیت لیا، نیوزی لینڈ کو 3-1 سے شکست
- ایک دن قبل







