Advertisement

عالمی عدالت کے جنگ بندی کے حکم کی پاسداری کریں گے، حماس

حماس کی طرف سے حکم کی پاسداری تب تک کی جائے گی جب تک کہ دشمن بھی ایسا ہی کرے گا

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 years ago پر Jan 26th 2024, 8:10 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عالمی عدالت کے جنگ بندی کے حکم کی پاسداری کریں گے، حماس

فلسطینی گروپ حماس نے کہا ہے کہ اگر عالمی عدالت نے جنگ بندی کا حکم دیا تو اس فیصلے کی پاسداری کی جائے گی۔غزہ میں مبینہ نسل کشی پر جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل کے دائر مقدمے میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف جمعے کو اپنا تاریخی فیصلہ سنانے والی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اگر ہیگ میں قائم آئی سی جے جنگ بندی کا حکم جاری کرے تو حماس تحریک اس وقت تک اس کی پاسداری کرے گی جب تک کہ دشمن بھی ایسا ہی کرے گا

جنوبی افریقہ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس پر 1948 میں دنیا کے ہولوکاسٹ کے ردِعمل کے طور پر دستخط کیے گئے تھے۔پریٹوریا چاہتا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو کنونشن کی ممکنہ خلاف ورزیوں سے بچانے کے لیے آئی سی جے نام نہاد عارضی اقدامات پر مبنی ہنگامی احکامات جاری کرے۔

آئی سی جے کے احکامات جو ممالک کے درمیان تنازعات پر فیصلہ دیتے ہیں، ان پر عمل کرنے کی قانوناً پابندی ہوتی ہے اور ان پر اپیل نہیں کی جا سکتی البتہ عدالت کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کا بہت کم اختیار ہے - مثلاً یوکرین پر حملہ ہونے کے ایک ماہ بعد اس نے روس کو حکم دیا کہ وہ حملہ روک دے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ خود کو آئی سی جے کے کسی حکم کا پابند محسوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے 14 جنوری کو لبنان، شام، عراق اور یمن میں ایران کے ساتھ منسلک محورِ مزاحمت گروپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی نہیں روکے گا - نہ دی ہیگ، نہ بدی کا محور اور نہ کوئی اور۔

حماس نے غزہ کی پٹی جس پر وہ حکمرانی کرتا ہے، کی جاری اسرائیلی ناکہ بندی کو ختم کرنے اور اس علاقے میں انسانی امداد اور تعمیر ِنو کے سامان کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

 

Advertisement
Advertisement