غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری


ملک کے مختلف شہروں میں غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 15 فروری سے 19 فروری تک مزید 3 ہزار 396 افغان باشندے اپنے ملک چلے گئے، افغان شہریوں میں 1245 مرد، 1025 خواتین اور 1914 بچے شامل تھے۔ افغانستان روانگی کے لیے 124 گاڑیوں میں 210 خاندانوں کی اپنے وطن واپسی عمل میں لائی گئی ہے۔
یاد رہے کہ حکومت پاکستان کے اعلان سے قبل بھی غیر قانونی افغان باشندوں کی کثیر تعداد گرفتاری کے ڈر سے پاکستان سے واپس افغانستان جاتی رہی ہے تاہم 19 فروری کو سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مجموعی طور پر 4 لاکھ 93 ہزار سے زائد افغان باشندے ملک واپس لوٹ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ملک کے بیشتر شہروں میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی بڑی تعداد موجود تھی، غیر قانونی غیر ملکیوں کی وجہ سے اسمگلنگ اور بھتہ خوری بہت عام تھی تاہم قابل اطمینان امر یہ ہے کہ حکومت پاکستان اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے ملک سے غیر قانونی افراد کا انخلاء جاری ہے۔
معرکہ حق میں ہم نے بھارت کے آٹھ جہاز گرائے: ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس
- a day ago

امریکی صدر کو بڑا جھٹکا،عدالت نے ٹرمپ کا 10 فیصد عالمی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا
- 3 hours ago

کاروباری ہفتے کے آخری روز سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟َ
- 2 hours ago

امریکی حکام کی تحویل سے 11 پاکستانی، 20 ایرانی کارکنوں کی وطن واپسی میں تعاون کی درخواست کی،اسحاق ڈار
- 2 hours ago
حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے اسرائیلی فضائی حملے میں شہید: حماس عہدیدار
- 21 hours ago

معرکہ حق میں پاکستان نے عسکری، سفارتی اور بیانیہ محاذ پر کامیابی حاصل کی،عطا تارڑ
- 3 hours ago

آبنائےہرمز جھڑپوں کے باوجود بھی ایران کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے،ٹرمپ
- 3 hours ago

پاکستان نے مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کی درخواست کی ،ٹرمپ
- 3 hours ago

ٹرمپ کی چہیتی ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیویٹ کے ہاں دوسرے بچے کی پیدائش
- 3 hours ago

روس نے ایران کے خلاف سلامتی کونسل میں مجوزہ امریکی قرارداد کو ویٹو کردیا
- 20 minutes ago
پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلیا کے ساتھ ہونے والی ون ڈے سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا
- 21 hours ago

وزیر اعظم کا قطری ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ،خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال
- 2 hours ago







