جی این این سوشل

پاکستان

سپریم کورٹ کا ریٹائر جا مستعفیٰ ججز کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ

جب سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ  یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سپریم کورٹ کا ریٹائر جا مستعفیٰ ججز کے خلاف  کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سپریم کورٹ نے ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری رکھنے یا نہ رکھنے سے متعلق کیس کا مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ریٹائر جا مستعفیٰ ججز کے خلاف سپریم کونسل کی کارروائی جاری رہے گی۔جسٹس امین الدین کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جب سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی شروع کردے تو استعفیٰ  یا ریٹائرمنٹ پر کارروائی ختم نہیں ہوسکتی، استعفیٰ دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی۔مستعفی جج کے خلاف کارروائی جاری رکھنا جوڈیشل کونسل کا اختیار ہوگا۔ ریٹائرڈ ججز کے خلاف زیرالتوا شکایات پر کارروائی کرنا یا نہ کرنا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ چار ایک کی اکثریت سے سنایا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اکثریتی فیصلہ سے مخالفت کی، جسٹس حسن اظہر رضوی نے اپیل زائدالمیعاد ہونے کی حد تک فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی اپیل جزوی طور پر منظور کی جاتی ہے۔

پاکستان

پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا نا چاہتے ہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پولیس کی وردی پہنےپاسنگ آئوٹ پریڈ میں شرکت

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا نا چاہتے ہیں، مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ ہم پولیس کے شعبے میں خواتین کی تعداد بڑھاناچاہتے ہیں۔ 
چوہنگ پولیس ٹریننگ کالج میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کرنا باعث فخر ہے، پولیس کےشعبے میں خواتین کی تعداد بڑھا کر نصف کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پولیس کی وردی پہنے پولیس ٹریننگ سینٹر کالج چوہنگ پہنچیں جہاں انہوں نے پاس آؤٹ ہونے والی خواتین پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو سلام پیش کرتی ہوں، مجھے خوشی ہوئی کہ پہلی سوارڈ آف آنر ایک خواتین پولیس افسر کو ملی، مجھے آپ سب پر فخر ہے، جب سے میں نے وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تب سے میں اس تقریب کا انتظار کر رہی تھی۔
مریم نواز نے کہا کہ خوشی ہوئی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں 530 خواتین شریک ہیں، پولیس میں خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹی پر دیکھ کر خوشی ہوئی، آج پہلی بار یونیفارم پہنا تو اندازہ ہوا یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے، پولیس کے شعبے میں خدمات انجام دینے والی خواتین پر فخر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مظلوم کی داد رسی کریں اور ظالم کو اس کے انجام تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 7 ہزار خواتین پولیس اہلکار ہیں، پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں، لیڈی پولیس اہلکار سپر ہیومن ہیں، خواتین نرم دل ہوتی ہیں اس لئے معاف کر دیتی ہیں، ظالم کیلئے آپ کے دل میں کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے۔
وزیراعلیٰ پنجاب  کا کہنا تھا کہ میرے دل میں انتقام کا کوئی جذبہ نہیں، وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر کسی کے خلاف فیصلہ کرنا ہو تو دل پر پتھر رکھ کر کرتی ہوں، وزیراعلیٰ کی کرسی میرے لئے آسان نہیں تھی، مجھے یہاں آگ کا دریا عبور کر کے پہنچنا پڑا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی بے نقاب

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کالعدم ٹی ٹی پی کی بزدلی اور موقع پرستی  بے نقاب

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے رہنما دوغلے، موقع پرست، بزدل اور دھوکے باز ہیں۔ وہ ان خصلتوں کو پاکستان میں اپنے ناپاک عزائم کے لیے معصوم لوگوں کو پیادوں کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ٹی ٹی پی کے رہنما دوغلے ہیں کیونکہ وہ اپنے نام نہاد مقصد کا پرچار تو کرتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی اپنے جنگجوؤں کی آگے سے قیادت نہیں کرتے، ان کی  مکمل قیادت جن میں مفتی نور ولی محسود، منگل باغ، محمد خراسانی، فقیر محمد شامل ہیں ، سبافغانستان میں مقیم ہے جبکہ ان کے جنگجو پاکستان میں ایک لاحاصل جنگ لڑ رہے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے کئی کمانڈر افغانستان کے اندر مارے جا چکے ہیں۔ مثال کے طور پر عمر خالد خراسانی، مفتی حسن سواتی، حافظ دولت خان، ملا فضل اللہ، عتیق الرحمان عرف ٹیپو گل مروت اور عمر منصور افغانستان میں نامعلوم حملہ آوروں کےہاتھوں قتل ہوئے۔ اپنے جنگجوؤں کی قیادت کرنےسے گریز کرتےریے اور بالآخر اقتدار اور پیسے کی خاطر اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں افغانستان کےاندر محفوظ اور آرام دہ ٹھکانوں میں مارے گئے۔

وہ موقع پرست اور چالاک ہیں کیونکہ وہ افغانستان میں آرام دہ زندگی گزارتے ہیں، لیکن اپنے بہکائے ہوئے ہرکاروں کو پاکستان میں سخت اور خوفناک حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جہاں بالآخر ان دہشت گردوں کو سکیورٹی فورسز نے ختم کر دیا ہے۔

پاکستان کی حکومت کے ساتھ حالیہ مفاہمتی عمل بھی اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے رہنماؤں نے مفاہمتی عمل کی آڑ میں پاکستان میں اپنے قدم بڑھا کر موقع پرستی کا مظاہرہ کیا۔

شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کے فتویٰ کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان میں نام نہاد جہاد کے لیے غریب افغان شہریوں کو نشانہ بنانے اور آمادہ کرنے کے ذریعے ان کی ہیرا پھیری اور فریب کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی تازہ مثال افغانستان کے صوبہ پکتیکا کا رہنے والا دہشت گرد ملک الدین مصباح ہے جو حال ہی میں شمالی وزیرستان کے غلام خان بارڈر سے پاکستان میں دراندازی کے دوران مارے گئے 7 حملہ آوروں میں شامل تھا۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے غیر ملکی آقاؤں سے مدد حاصل کرتے ہیں اور پاکستان میں اپنے مسلمان بھائیوں کا خون بہانے کے لیے ان کی کٹھ پتلیوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ پیسے کی خاطر وہ مسلمان ہونے کی مذہبی، اخلاقی اور اخلاقی اقدار کو بھول چکے ہیں اور وحشیوں کا روپ دھار رہے ہیں جو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف وحشیانہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کے ارکان اور ان کے خاندانوں کو طالبان سے باقاعدہ امداد ملتی ہے اور یہ کہ افغان حکام مبینہ طور پر ٹی ٹی پی رہنما نور ولی محسود کو ماہانہ $50,500 ڈالر فراہم کرتے تھے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما اپنے ان بہکائے ہوئے دہشتگرد ہرکاروں کااستحصال کرتے ہیں جنہیں ٹشو پیپرز کے طور پر استعمال کرنے کے بعد ضائع یا پھینک دیا جاتا ہے۔

غریب اور معصوم لوگوں کو خودکش حملوں کے لیے برین واش کیا جاتا ہے لیکن خود لیڈران اور ان کے رشتہ دار کبھی بھی لڑائی/خودکش حملوں میں حصہ نہیں لیتے۔

ٹی ٹی پی کے رہنما پاکستان کے مذہبی، اخلاقی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار سے پوری طرح غافل ہیں اور مذہبی جوڑ توڑ، جبر، دھمکی اور خوف کے ہتھکنڈوں کے ذریعے معصوم لوگوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ پاکستانی عوام ٹی ٹی پی کے خود غرضانہ مقاصد اور ان کے "فسادی ایجنڈے" سے بخوبی واقف ہیں۔

پاکستانی عوام کی حمایت سے سیکیورٹی فورسز اپنی لگن اور عزم کے ذریعے پاکستان سے دہشت گردی کی لعنت کو ختم کر دیں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

عدالت نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا، اسلام آباد ہائیکورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عدالت نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ روٹی کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت 6 مئی تک معطل رہے گا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں پنجاب میں 120 گرام کی روٹی25 روپے میں ہے۔ ضلعی حکومت کے نمائندے بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ وہ دوسری صوبائی حکومت ہے، آٹا یہاں مہنگا ہے اور اسلام آباد میں کرائے بھی زیادہ ہیں، متعلقہ افسر موجود نہیں، پیراوائز کمنٹس دے دیتے ہیں، مناسب وقت دے دیں۔ 

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ تندور والوں سے پوچھا آٹا کتنے کا آرہا ہے یا لوگوں کو خوش کرنے کو آرڈر جاری کر دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 6 مئی تک متلوی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر فریقین تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرائیں۔

یاد رہے نان بائی ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر نے نان اور روٹی کی قیمتوں میں کمی کو چیلنج کیا تھا۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll