کراچی میں دو فروری کو صبح تقریباً پونے پانچ بجے گارڈن کے علاقے میں انکل سریا اسپتال کے قریب نائن ایم ایم پستول سے نامعلوم حملہ آوروں نے ایک کارمیں بیٹھے چارافراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

رپورٹ : عبدالرحمان فاروقی
ان میں ٹک ٹاکر لڑکی رقیہ جو ٹک ٹاک پر مسکان شیخ کےنام سے معروف تھی ۔ اس کے دوست عامر، صدام آفریدی اورریحان شاہ شامل تھے۔ اندھیرے میں ہونے والی واردات کی اطلاع پرپولیس موقع پر پہنچی توخاتون مسکان کی لاش کار کے اندر پڑی تھی اور اس کے ساتھی قریب ہی مختلف مقامات پرپڑے آخری سانسیں گن رہے تھے۔ انہیں سول اسپتال لے جایا گیا مگر تینوں دم توڑ گئے ۔ پولیس کے مطابق قاتلوں کی کار پرفائرنگ سے مسکان نےموقع پر ہی دم توڑا اس کے ساتھیوں نے کار سے نکل کر بھاگنے کی کوشش کی لیکن انہیں بھی چن چن کر گولیاں ماردی گئیں ۔
قتولہ مسکان کا آبائی تعلق ہزارہ ڈویژن سے تھا جب کہ وہ کراچی میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی کی رہائشی تھی ۔ اس کی پہلی شادی طلاق پر ختم ہوئی تھی اور اس کا ایک پانچ سالہ بیٹا بھی تھا جبکہ اس کے دوست عامر ۔ صدام اور ریحان بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی تھے ۔ تفتیش شروع ہوئی تو شک کی سوئی مسکان کے ایک اور ٹک ٹوکر دوست رحمان علی خان پرجا کر رکی ۔ جس کا چند ماہ قبل مسکان اورعامر سے جھگڑا بھی ہوا تھا اوراس دوران رحمان نے انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی ۔
رحمان علی خان عرف شیرافغانی سے متعلق پولیس کی چھان بین سے پتہ چلا کہ وہ افغان باشندہ ہے اور لانڈھی کے بدنام زمانہ منشیات فروش آصف تنولی کا برادر نسبتی ہے ۔ وہ مسکان کو پسند کرتا تھا اور اسے مہنگے تحفے تحائف بھی دیا کرتا تھا ۔ جن میں حال ہی میں آئی فون کے نئے ماڈلا کا موبائل شامل ہے ۔ وہ مسکان کو اپنے ساتھ آئس کی سپلائی میں بھی استعمال کرتا تھا۔ مسکان کی نازیبا حرکات اور غلط صحبت کی وجہ سے اس کے گھر والوں نے بھی اس سے رابطے توڑ رکھے تھے اور مسکان مکمل طور پر رحمان کے دست نگر بن کر رہ گئی تھی ۔۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ رقئیہ عرف مسکان جس مکان میں رہائش پذیرتھی ۔ اس کا کرایہ بھی رحمان خان ہی دیتا تھا ۔
رحمان علی خان اور مسکان کا تنازع اس وقت شروع ہوا جب کہانی میں بلدیہ ٹاؤن کے رہائشی عامر ۔ صدام اور ریحان کی انٹری ہوئی ۔ مسکان ان کے ساتھ ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے لگی ۔ اس دوران اس کی عامر سے قربت بڑھتی چلی گئی ۔ یہی سبب تھا رحمان ۔ مسکان اور عامر کے درمیان جھگڑے کا ۔۔ جو رحمان کے ہی دوستوں اور رشتہ داروں کی مداخلت پر رفع دفع ہوا تھا ۔ مسکان کی بے اعتنائی پررحمان نے اس کے گھر میں گھس کر ہنگامہ بھی کیا تھا اور اس کے بیٹے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی تھیں ۔ جس کی ایف آئی آر مسکان نے قائد آباد تھانے میں رحمان علی خان اور قیصر تنولی کے خلاف درج کرائی تھی ۔
دوسری طرف اگرعامر ۔ صدام اور ریحان کے کرداروں کا جائزہ لیا جائے تو وہ بھی کوئی دودھ کے دھلے نہیں تھے ۔ مشکوک اور قابل گرفت حرکتوں کے باوجود مسکان اور عامر کا اب تک کوئی مجرمانہ ریکارڈ منظر عام پر نہیں آیا تاہم صدام اور ریحان کے خلاف مختلف مقدمات کا ریکارڈ مل گیا ہے ۔ صدام آفریدی کےخلاف منشیات فروشی ، جوا سٹہ اور ہوائی فائرنگ کے مقدمات درج ہیں جبکہ ریحان شاہ کے خلاف منشیات، اور ہوائی فائرنگ کے ساتھ ساتھ اقدام قتل کا بھی ایک مقدمہ درج ہے ۔ دونوں ضمانت پر رہا تھے ۔
وقوعے کی رات مسکان ، عامر ، صدام اور ریحان نے ملنے اور باہر کھانے کا پروگرام بنایا تھا ۔ مسکان ساری رات اپنے دوستوں کے مصروف تھی ۔ وہ اپنے گھر سے رکشہ میں گارڈن پہنچی جہاں عامر اپنے ایک دوست شاہد کی کار میں اسے لینے پہنچا تھا ۔ وہ دونوں اپنے دوست صدام کے ڈیرے پرگئے جہاں مسکان، عامر، صدام اور ریحان نے ٹک ٹاک وڈیوزبنائی اور پھرکھانا کھانے کیلئے روانہ ہوئے تھے ۔ کھانے کے بعد تینوں دوست مسکان کو اس کے گھر چھوڑنے جارہے تھے مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ گارڈن انکل سریا اسپتال کے قریب نامعلوم افراد موت بن کر گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔
پولیس نے چاروں کے قتل کا مقدمہ صدام کے بھائی بھی مدعیت میں مقدمہ درج کرلیا۔ جس کے بعد پولیس نے مبینہ ملزم رحمان کی گرفتاری کیلئے رات گئے لانڈھی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے لیکن کوئی خاطرخواہ کامیابی حاصل نا ہوسکی ۔ ذرائع کے مطابق واقع کے بعد سے رحمان علی خان اس کے رشتہ دارصنم تنولی اور قیصر تنولی غائب ہیں۔ رحمان کی آخری موبائل فون لوکیشن کوئٹہ سے ملی ہے ۔
گزشتہ دنوں حکومت نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی اور اسی شرط پر پابندی ہٹائی تھی کہ اس ایپلی کیشن کو کنٹرول مواد کے ساتھ اجازت دی جائے گی ۔ ٹک ٹاک کھل گیا مگر حکومت کے دیگر وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی پورا نہیں ہوا ۔ غیر اخلاقی مواد کے ساتھ ٹک ٹاک کا پاکستان میں استعمال جاری ہے ۔ چند روز قبل ایک نوجوان ٹک ٹاک بناتے ہوئے ٹرین کی ٹکر سے جاں بحق ہوا تھا ۔ مگر نہ حکومت کو ہوش آیا اور نہ ہی پیسوں کے لالچ میں ٹک ٹاک استعمال کرنے والے افراد نے ہوش کے ناخن لیے ۔

مذاکرات میں شرکت کیلئے آنے والے ایرانی وفد کی پرواز ’میناب 168‘ شہید بچوں سے منسوب
- 7 hours ago

پاکستانی کسان اور موسمیاتی تبدیلی:سیلاب اور بے موسمی بارشوں کے اثرات
- an hour ago

وزیر اعظم سے ایرانی وفد کی ملاقات،عالمی و علاقائی امن کی صورتحال اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 2 hours ago

ایران سے مذاکرات میں شرکت کیلئے جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 7 hours ago

مذاکرات میں اگر ہمارا سامنا اسرائیل فرسٹ کے نمائندوں سے ہوا تو کوئی معاہدہ نہیں ہوگا،ایرانی نائب صدر
- 6 hours ago

ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے اچھی ٹیم پاکستان بھیجی ہے، امید کرتے ہیں اسکے مثبت نتائج نکلیں گے،ٹرمپ
- 6 hours ago

جے ڈی وینس کی وفد کے ہمراہ وزیر اعظم سےملاقات،دو طرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر تبادلہ خیال
- 5 hours ago

امریکہ سے مذاکرات میں شرکت کیلئے محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایرانی وفد اسلام آباد پہنچ گیا
- 7 hours ago

وزیر اعظم شہباز شریف کا جون میں دورہ روس کا امکان، پیوٹن سے ملاقات متوقع
- 3 hours ago

پاکستان ویمنز ٹیم کی ترکس اینڈ کیکوس آئی لینڈز کو ہراکر فیفا سیریز میں تاریخی کامیابی سمیٹ لی
- a day ago

ایک دن کے اضافے کے بعد سوناپھر سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 6 hours ago

حکومت سستی اور وافر مقدار میں کھاد کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے ، رانا تنویر
- a day ago



.jpg&w=3840&q=75)







.jpg&w=3840&q=75)

