جی این این سوشل

پاکستان

ایرانی وزیرِ خارجہ کی پاکستان میں انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد

ایرانی وزیر خارجہ نے پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر نگراں حکومت کو مبارکباد پیش کی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایرانی وزیرِ خارجہ کی پاکستان میں انتخابات کے انعقاد پر مبارکباد
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان اور ایران نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اس عزم کا اظہار آج وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی اور ان کے ہم منصب ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر  کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو میں کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے پارلیمانی انتخابات کے کامیاب انعقاد پر نگراں حکومت کو مبارکباد پیش کی اور جلیل عباس جیلانی نے ایران کے برادر عوام کی جانب سے نیک خواہشات کو دل کی گہرائیوں سے سراہا۔

رواں ماہ کے اوائل میں ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد سے دونوں ممالک نے سرکاری مصروفیات کو مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔

صحت

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت

میڈیکل اسٹورز میں انسولین سمیت 27 ضروری ادویات دستیاب نہیں ہیں، ڈرگ انسپکٹر سندھ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت

ملک بھر میں ایک بار پھر جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہوگئی ہے، میڈیکل اسٹورز میں انسولین سمیت 27 ضروری ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

ڈرگ انسپکٹر سندھ نے بتایا کہ کراچی کے میڈیکل اسٹورز پر انسولین سمیت 27 اہم ادویات دستیاب نہیں ہیں۔

سیکریٹری پراونشل ڈرگ کوالٹی کنٹرول بورڈ سندھ سید عدنان رضوی نے خط لکھ کر پورے صوبے کے ڈرگ انسپکٹرز کو غیر دستیاب ادویات کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔

حکام کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس کے گردونواح میں بھی 30 اہم ادویات مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

حکام نے بتایا کہ عدم  دستیاب ادویات میں اینٹی بائیوٹکس، نفسیاتی اور دمہ کی دوائیں شامل ہیں جبکہ تشنج کے انجیکشن اور مختلف قسم کے انہیلر کی بھی شدید قلت ہے۔

دوسری جانب ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں ادویات کی کوئی کمی نہیں، سپلائی چین کے مسائل ہوسکتے ہیں۔

ڈریپ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں ہفتہ وار بنیادوں پر ادویات کی دستیابی کا سروے کرتے ہیں، مریض کو انسولین وافر مقدار میں دستیاب ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو گرفتاری سے بھی روک دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت کی قصور میں درج مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

 جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شیر افضل مروت کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے شیر افضل مروت کی دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو گرفتاری سے بھی روک دیا۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا کہ شیر افضل مروت صاحب کوئی علاقہ چھوڑا ہے جہاں آپ پر پرچہ نہیں ہوا، جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ مائی لارڈ پورے ملک میں پرچے ہو رہے ہیں۔

عدالت نے شیر افضل مروت سے استفسار کیا کہ یہ قصور میں پرچہ درج ہوا تھا جس پر شیر افضل مروت نے کہا کہ جی قصور میں جلسہ کیا تھا تو پولیس نے مقدمہ درج کر لیا تھا۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیر افضل مروت کی 10 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض دو ہفتوں کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی اور انہیں دو ہفتوں میں متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

داعش سے تعلق رکھنے والے 11 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

عراق میں سزائے موت 2003 کو معطل کر دی گئی تھی لیکن اگست 2004 سے اسے بحال کر دیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

داعش سے تعلق رکھنے والے 11 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی

عراق میں داعش سے تعلق رکھنے والے 11 مجرموں کو پھانسی دے دی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عراق کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ عراقی حکام نے 11 مجرموں کو پھانسی دے دی جن پر داعش کے رکن ہونے کا الزام ہے۔
جیل کے ایک افسر نے بتایا کہ 11 مجرموں کو منگل کے روز عراقی دارالحکومت بغداد سے 350 کلومیٹر جنوب میں واقع ناصریہ شہر کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔
ذرائع نے بتایا کہ عراقی وزارت انصاف کی ایک ٹیم نے عراقی صدر کی توثیق سمیت تمام قانونی طریقہ کار مکمل کرنے کے بعد سزائے موت پر عمل درآمد کی نگرانی کی۔2017 کے اواخر میں عراقی فورسز کی جانب سے عراق میں داعش کو شکست دینے کے بعد داعش کے سیکڑوں حامی مارے گئے یا پکڑے گئے، جب کہ بہت سے دیگر اب بھی عراق میں یا بیرون ملک خفیہ ٹھکانوں میں مفرور ہیں۔
واضح رہے عراق میں سزائے موت 10 جون 2003 کو معطل کر دی گئی تھی لیکن اگست 2004 سے اسے بحال کر دیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll