Advertisement
پاکستان

بجلی چوری کے معاملے پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جائے، علی امین گنڈاپور

ہمیں بتایا جائے بجلی کی مد میں ہمارے صوبے کا خسارہ کتنا ہے،ہم اپنے واجبات سے کٹوتی کرواکے اپنے لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، وزیر اعلی کے پی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Apr 27th 2024, 12:53 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
بجلی چوری کے معاملے پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جائے، علی امین گنڈاپور

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ،بجلی صارفین کے خلاف آئی آرز درج کی جارہی ہیں،بہتر ہوگا کہ اس معاملے پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کلائمیٹ چینج کونسل کا اجلاس ہوا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شرکت کی۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے وفاق کی طرف سےصوبے کیساتھ زیادتیوں پر احتجاج کیا ، علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت صوبے کے کاربن کریڈٹ پر قبضہ کرنا چاہتی ہے،کاربن کریڈٹ صوبے کا حق اور اثاثہ ہے اس پر قبضہ قابل قبول نہیں۔

بجلی کے معاملے پر خیبر پختونخوا میں چھاپے مارے جارہے ہیں ،بجلی صارفین کے خلاف آئی آرز درج کی جارہی ہیں،بہتر ہوگا کہ اس معاملے پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کی جائے۔

وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے بجلی کی مد میں ہمارے صوبے کا خسارہ کتنا ہے،ہم اپنے واجبات سے کٹوتی کرواکے اپنے لوگوں کو ریلیف دینا چاہتے ہیں،اس کے بدلے صوبے میں لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور لوگوں پر ظلم بند کیا جائے۔

علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ صوبے کی تمباکو کی پیداوار پر وفاقی حکومت سالانہ 300 ارب روپے ٹیکس وصول کرتی ہے،یہ ٹیکس صوبے کا حق ہے اور صوبے کو ملنا چاہیے،وفاق کا جو بھی شیئر بنے گا وہ ہم وفاق کو دیں گے لیکن عوام کا پیسہ ہڑپ نہیں کرنے دیں گے۔

ہم ہر قیمت پر صوبے کے حقوق، وسائل اور لوگوں کا تحفظ کریں گے،ملک کے جنگلات کا 45 فیصد حصہ خیبر پختونخوا میں ہے ،ملک کے مجموعی کاربن کریڈٹ کا 50 فیصد خیبر پختونخوا پیدا کرتا ہے،یہ کاربن کریڈٹ صوبے کے لوگوں کا حق ہے اس پر کسی کا قبضہ کبھی قبول نہیں۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ صوبے میں 80 فیصد جنگلات نجی ملکیت ہیں، نئے چیف سیکریٹری تعیناتی کے معاملے پر وفاقی حکومت نےہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا۔

علی امین گنڈاپور نے مطالبہ کیا صوبے کے آئینی حقوق کے معاملے پر بات چیت کے ذریعے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے۔

Advertisement
Advertisement