Advertisement
پاکستان

پی ٹی آئی کے سوا کسی پارٹی نے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، بیرسٹر گوہر

ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مسائل کا حل ڈھونڈیں گے، چیئرمین پی ٹی آئی

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Apr 30th 2024, 8:58 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پی ٹی آئی کے سوا کسی پارٹی نے آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان میں 175 سیاسی جماعتیں ہیں لیکن کسی نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرح صاف شفاف اور آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاکستان میں 175 سیاسی جماعتیں ہیں لیکن کسی نے بھی پاکستان تحریک انصاف کی طرح صاف شفاف اور آئین کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے،  ہم نے اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر الیکشن میں حصہ لینے والوں کیلئے شیڈول دیا،ہم نے اپنی ووٹر لسٹ بھی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر دی، ہمارا انٹراپارٹی الیکشن صاف شفاف ہوا ہے۔ اب تو ضمنی انتخابات بھی ہو چکے ہیں،چاہتے ہیں ہمیں بلے کا انتخابی نشان واپس ملے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کےلئے ہم نے تین چیزوں کو مد نظر رکھا سب سے پہلے الیکشن کمشن کے 23 نومبر 2023 کے آرڈر کا جس میں انہوں نے ہمیں 20 دن کا وقت دیا تھا کہ ہم انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں۔

الیکشن کمیشن نے اس آرڈر میں جن تحفظات کا ذکر کیا گیا تھا ہم نے وہ مد نظر رکھا، پھر الیکشن کرانے کے بعد الیکشن کمیشن کا جو آرڈر آیا ہم نے اس کو بھی مد نظر رکھا، پھر آخر میں سپریم کورٹ نے 13 جنوری کو جو آرڈر جاری کیا ہم نے اس کو بھی مد نظر رکھا۔

بیرسٹر گوہر نے کہ پی ٹی آئی انٹر اپارٹی الیکشن پر آج مختصر سماعت ہوئی ، 3 مارچ کے الیکشن سے متعلق ہمیں نوٹس موصول ہوا تھا،جس میں صرف سماعت کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے ڈاکیو منٹ سے متعلق نوٹس بھیجا تھا، الیکشن کمیشن نے نوٹس میں کہا کہ انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات ہیں۔ہمارے پاس اعتراضات آئے تو اس کا جواب دیں گے

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے انٹرا پارٹی انتخابات پر نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا، پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بھی واپس ملنا چاہیے، ہمارے ساتھ  انصاف ہونا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اسمبلیوں سے استعفیٰ  کی تجویز پر واضح جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ہم پارلیمنٹ میں رہیں گے اور مسائل کا حل ڈھونڈیں گے۔ جنرل الیکشن میں ہم ثابت قدم رہے اور دو تہائی اکثریت حاصل کی، الیکشن سے قبل ہم سے بلے کا نشان چھین لیا گیا اور پارٹی لیڈرز کو جیل میں رکھا۔ فل الحال کسی بھی سطح پر مذاکرات نہیں ہو رہے۔

Advertisement
Advertisement