Advertisement
پاکستان

عدالت کا کم عمر لڑکی کی شادی کرانے پر نکاح خواں کیخلاف قانونی کارروائی کرنے کا حکم

جسٹس انوار الحق پنوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ نکاح خواں کیخلاف استغاثہ دائر کریں

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر May 14th 2024, 7:12 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
عدالت کا  کم عمر لڑکی کی شادی کرانے پر نکاح خواں کیخلاف قانونی  کارروائی کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے کم عمر لڑکی کی شادی کرانے پر نکاح خواں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے حمیرا بی بی کم عمر لڑکی کی شادی کیخلاف درخواست پر سماعت کی۔

پولیس نے دارالامان سے کم عمر بچی کو عدالت میں پیش کیا۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر 15 سال ہے جس کی زبردستی شادی کروائی گئی ہے، بچی کے اغواء کا مقدمہ شاہدرہ میں درج ہے۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے لڑکی سے استفسار کیا کہ بیٹا آپ نے شادی اپنی مرضی سے کی ہے؟۔ حمیرا نے جواب دیا کہ جی میں نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کی عمر کتنی ہے؟ ۔ حمیرا نے جواب دیا کہ میری عمر 15 سے 16 سال ہے۔

عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کو مقدمہ پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس انوار الحق پنوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ نکاح خواں کیخلاف استغاثہ دائر کریں کہ کیسے کم عمر بچی کی شادی کروائی۔

Advertisement