اسرائیلی حکام سے باضابطہ اجازت کے باوجود کارکنوں کو بمباری و گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، ہیومن رائٹس واچ


اسرائیلی فوج نے غزہ جنگ کے دوران مسلسل انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے امدادی اداروں کے کارکنوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ واضح کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے کارکنوں کو اس کے باوجود اپنی بمباری و گولہ باری کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے غزہ میں کام کرنے سے پہلے اسرائیلی حکام سے باضابطہ کوآرڈینیشن کی تھی اور اجازت لے رکھی تھی۔ نیز اسرائیلی حکام نے انہیں ان کے تحفظ کی ضمانت دے رکھی تھی۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق اس کی طرف سے اب تک ایسے 8 واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں امدادی کارکنوں کے قافلوں اور امدادی کارکنوں کے دفاتر یا مراکز کو اسرائیلی فوج نے ٹارگٹ کر کے نشانہ بنایا ہے۔
ان واقعات میں کم از کم 15 امدادی کارکن جاں بحق ہوگئے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے اسرائیلی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے یہ امدادی کارکن ان 250 امدادی کارکنوں کے علاوہ ہیں جن کی ہلاکتیں اس سے پہلے اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار میں کی جا چکی ہیں۔
خیال رہے خود اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے مراکز پر اسرائیلی فوج حملے کرتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی پہلے سے موجود رپورٹ کے مطابق اب تک 250 امدادی کارکنوں کی ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے ان مسلسل واقعات کے ہونے کے باعث یہ چیز ثابت ہوتی ہے کہ اسرائیل کے ہاں امدادی کارکنوں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے نظام میں کافی کمزوریاں ہیں۔ جن پر وقت کے ساتھ ساتھ امدادی کارکنوں اور ان کی تنظیموں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے۔
عالمی ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ غزہ کی جنگ انسانی خون بہانے کے حوالے سے ایک بدترین جنگ ہے۔ جس میں اب تک 35 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی فوج امدادی کارکنوں پر بمباری کرتی ہے۔ تو دوسری طرف انسانی بنیادوں پر زندگیاں بچانے والی ادویات سمیت کھانے پینے کی بنیادی اشیاء تک کو غزہ کے لوگوں تک پہنچنے سے روک رکھا ہے۔

ایران معاہدے کو تسلیم کرتا ہے تو معاملہ ختم ہو جائے گا، نہیں تو بمباری کی جائے گی،ٹرمپ کی دھمکی
- 8 گھنٹے قبل

پاکستان کی دعوت پر امریکا ایران کا ایک پلیٹ فارم پر آنا عالمی سطح پر اعتماد کا واضح ثبوت ہے، شہباز شریف
- 12 گھنٹے قبل
اگرایران نےامریکی شرائط کو تسلیم نہ کیا تو فوجی کارروائی پہلے سے زیادہ شدید اور سخت ہو گی،ٹرمپ
- 12 گھنٹے قبل

معرکۂ حق پاکستان کی فیصلہ کن عسکری برتری اور فولادی قومی اتحاد کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے،خواجہ آصف
- 10 گھنٹے قبل

پولینڈ میں آگ بجھانے کے دوران طیارہ گرکرتباہ، پائلٹ جاں بحق
- 9 گھنٹے قبل

دشمن بحری ناکہ بندی کے ذریعے اقتصادی دباؤ ڈالنےکی کوشش کر رہا ہے،باقر قالیباف
- 8 گھنٹے قبل

سرچ فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،نوجوانوں کی بھرپور شرکت
- 11 گھنٹے قبل

امریکا کی 14 نکاتی امن تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، ایرانی وزرات خارجہ
- 14 گھنٹے قبل

لیفٹیننٹ کرنل خالد حسین شہید کی نماز جنازہ چکلالہ میں ادا ، وزیراعظم، فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ قیادت کی شرکت
- 8 گھنٹے قبل

عراقچی کی وانگ یی سے ملاقات ،چین نے ایران کے خلاف امریکا و اسرائیلی جنگ کو غیر قانونی قرار دے دیا
- 12 گھنٹے قبل

سری لنکا نے پاکستان میں ہونے والی سہ ملکی ون ڈے سیریز میں شرکت کی تصدیق کر دی
- 8 گھنٹے قبل

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی خطے کی بحری سلامتی کیلئے بڑا چیلنج ہے،نیول چیف
- 9 گھنٹے قبل


