جی این این سوشل

دنیا

سلوواکیہ کے وزیر اعظم ایک تقریب کے دوران فائرنگ میں زخمی

59 سالہ رابرٹ فیکوکے پیٹ میں گولیاں لگیں

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سلوواکیہ کے وزیر اعظم  ایک تقریب کے دوران فائرنگ میں زخمی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سلوواکیہ کے وزیر اعظم رابرٹ فیکو ایک تقریب کے دوران فائرنگ میں زخمی ہو گئے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 59 سالہ فیکو کے پیٹ میں اس وقت چوٹ لگی جب دارالحکومت سے تقریباً 150 کلومیٹر شمال مشرق میں ہینڈلووا قصبے میں ہاؤس آف کلچر کے باہر رہنماؤں سے ملاقات کر رہے تھے۔

پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے کر جائے وقوعہ کو سیل کر دیا۔

پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر لوبوس بلاہا نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اس واقعے کی تصدیق کی اور اسے اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا۔

صدر زوزانا کیپوٹووا نے وزیر اعظم پر وحشیانہ اور بے رحم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم رابرٹ فیکو کو اس نازک لمحے میں بہت زیادہ طاقت اور اس حملے سے جلد صحت یابی کے خواہش مند ہیں۔

دنیا

بھارتی فوج کے ایک میجر نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

میجر مبارک سنگھ پڈا نے جموں کے علاقے میں قائم فوجی بیس کے اپنے کمرے میں خود کو بند کرکے سرکاری رائفل سے خودکشی کرلی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارتی فوج کے ایک میجر نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا

مقبوضہ کشمیر میں جموں کی سرحد پر تعینات بھارتی فوج کے ایک میجر نے اپنا کمرہ اندر سے بند کر کے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اہل خانہ کا کہنا ہے کہ میجر مبارک سنگھ پڈا نے جموں کے علاقے میں قائم فوجی بیس کے اپنے کمرے میں خود کو بند کرکے سرکاری رائفل سے خودکشی کرلی۔

اہل خانہ کے بقول میجر مبارک سنگھ پڈا کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ اُن کے کمرے سے کوئی خودکشی نوٹ نہیں ملا اور نہ ہی انھیں کوئی ذہنی مسائل تھے۔

بھارتی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی جو پندرہ روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی پابند ہوگی۔

تاہم ماضی میں ایسی کسی انکوائری کی کوئی رپورٹ کبھی منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔

میجرمبارک سنگھ پڈا کا تعلق جالندھر سے تھا۔ ان کی لاش ضروری کارروائی کے بعد آبائی علاقے روانہ کردی گئی۔

خیال رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پست ہمتی اور ذہنی دباؤ کے باعث بھارتی فوجیوں میں خودکشی کے واقعات عام ہیں۔ 2007 سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ایسے واقعات کی تعداد 600 سے تجاوز کرگئی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید

سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں، وزیر خارجہ اسحاق ڈار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت کی بشکیک واقعہ میں کسی بھی پاکستانی طالبعلم کے جاں بحق ہونے کی تردید

نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم خود معاملے کو دیکھ رہے ہیں، ہمارے بچے تعلیم حاصل کرنے گئے، آزاد تحقیقات کیلئے وفد کرغزستان بھیجیں گے۔ واقعہ میں کوئی بھی پاکستانی طالب علم جاں بحق نہیں ہوا۔

لاہور میں وفاقی وزیر عطا تارڑ اور امیر مقام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ طالبعلموں کے درمیان تصادم کے بعد حالات کشیدہ ہوئے، ہوئے، تشدد تمام غیر ملکی طالبعلموں پر کیا گیا، واقعہ صرف پاکستانیوں سے متعلق نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ 4 سے 5 پاکستانی طالبعلم زخمی ہوئے ہیں، مجموطی طور پر 15 سے 16 طالبعلم زخمی ہوئے، گزشتہ روز 130 پاکستانی طالبعلم واپس وطن پہنچے، آج مزید 540 طالبعلم پاکستان پہنچیں گے، ایئرفورس ایئربس کے ذریعے طلبہ کو پاکستان لائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 طلبا نے سفارتخانے میں اندراج کروایا ہے، کرغز حکومت مسلسل معاملات کی مانیٹرنگ کر رہی ہے، جمعہ کے بعد کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا، معاملہ کسی غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے، کرغزستان کے سکیورٹی ادارے مکمل طور پر فعال ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ وزارت خارجہ میں ایمرجنسی یونٹ کو فعال کیا گیا ہے، کرغزستان کے وزیر خارجہ سے تفصیلی بات ہوئی ہے اور رابطےمیں ہیں، کسی ایک بھی پاکستانی طالبعلم کی ہلاکت نہیں ہوئی، سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔2 دن سےامن ہے، کچھ طالبعلم وطن واپس آنا نہیں چاہتے۔

کرغزستان کا آج کا دورہ منسوخ ہونے کی وجہ بتاتے ہوئے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کرغز حکومت نے آج دورہ نہ کرنےکی درخواست کی، جس پر دورہ منسوخ ہوا۔

بعدازاں وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ واقعہ کی خبر ملتے ہی وزیراعظم اور وزارت خارجہ نے فوری طور پر ایکشن لیا، وزیراعظم اور وزیر خارجہ پچھلے دو دنوں سے مسلسل صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام واقعات پاکستان کے خلاف کوئی ٹارگٹڈ چیز نہیں تھی، جب کوئی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو کافی لوگ زد میں آتے ہیں، ہمارے کرغزستان سے بہت اچھے سفارتی تعلقات ہیں، کرغزستان میں حالات معمول کے مطابق چل رہے ہیں، ہلاکتوں کی جعلی تصاویر پھیلانے والے اللہ سے ڈریں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ میرا خود طلباء  سے رابطہ ہوا ہے، وہاں حالات بہتر ہیں، ایک مخصوص سیاسی جماعت والدین کے ذہنوں میں منفی باتیں ڈال رہی ہے، نائب وزیر اعظم مسلسل کرغز حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، یہ پروپیگنڈا پھیلایا گیا کہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، ان معاملات میں نہ کوئی طالبعلم جاں بحق ہوا نہ کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

عطاء تارڑ نے کہا کہ ہم کسی پاکستانی کو غیر محفوظ نہیں ہونے دیں گے، کچھ لوگ کمرشل فلائٹ سے آ رہے ہیں، جو ہماری سپیشل فلائٹ کیلئے رابطہ کرسکتے ہیں وہ ضرور کریں، خواتین طالبات کی ریپ والی خبریں بالکل جھوٹ کی بنیاد پر پھیلائی گئیں۔

اس موقع پر وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس واقعے کے بعد سمجھا کہ اسحاق ڈار خود وہاں جائیں، ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ جو وہاں پڑھ رہے ہیں ان کے کافی پیسے خرچ ہوئے ہیں۔

امیر مقام نے مزید کہا کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے طلبا وہاں سے پڑھیں اور ڈگری لے کر آئیں، وزارت خارجہ کے دفتر میں ہیلپ لائن موجود ہے، جو طلبہ واپس آنا چاہتے ہیں وہ ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم کی کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے کیلئے سفیر کوہدایت

شہباز شریف کا کرغزستان کے سفیر سے ٹیلی فونک رابطہ، خصوصی طیارے کے حوالے سے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم کی  کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے کیلئے سفیر کوہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے کرغزستان میں پاکستان کے سفیر حسن علی ضیغم سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے کرغزستان سے پاکستانی طلباء کو واپس لانے والے خصوصی طیارے کے حوالے سے ضروری انتظامات کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی طیارے کے تمام تر اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔

وزیراعظم کی ہدایت پر یہ خصوصی طیارہ آج اتوار کی شام بشکیک کرغزستان کے لئے روانہ ہو گا اور رات کو 130 پاکستانی طلباء کو لے کر پاکستان پہنچے گا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر خصوصی طیارے کے تمام تر اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گی۔

وزیراعظم نے پاکستانی سفیر کو ہدایت کی کہ کرغزستان میں موجو تمام پاکستانی طلباء اور ان کے خاندانوں کے ساتھ رابطے میں رہا جائے ، زخمی پاکستانی طلباء کو ترجیحی بنیادوں پر پاکستان لایا جائے، ایسے طلباء جن کے ساتھ ان کے خاندان کے افراد کرغزستان میں مقیم ہیں ان کی وطن واپسی کا انتظام بھی ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔

پاکستانی سفیر نے وزیراعظم کو کرغز نائب وزیر خارجہ امنگازیف المازسے ہوئی اپنی ملاقات بارے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرغز حکومت نے بتایا ہے کہ حالات پر مکمل طور قابو پا لیا گیا ہے، کل رات اور آج تشدد کا کوئی نیا واقعہ نہیں ہوا ، سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے،

پاکستانی اور دیگر غیر ملکی طلباء بالکل محفوظ ہیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حالات معمول پر آنے کے باوجود اگر کوئی پاکستانی طالب علم وطن واپس چاہتا ہے تو اسے ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ پاکستانی طلباء آج دو کمرشل پروازوں کے ذریعے بھی کرغزستان سے پاکستان پہنچیں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll