سپریم کورٹ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا


نیب ترامیم کیس میں پیشی کے موقع پر سپریم کورٹ انتظامیہ نے عمران خان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی تحقیقات شروع کردیں۔
نیب ترامیم کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر پیشی ہوئی جس کی تصویر سوشل میڈیا پر سامنے آئی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ انتظامیہ نے تصویر وائرل ہونے پر تحقیقات شروع کردی ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے دیکھ کر تصویر وائرل کرنے والے کی نشاندہی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ تصویر کورٹ روم رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لی گئی ہے اور پولیس تصویر کو وائرل کرنے والے کے خلاف ایکشن لے گی۔ عمران خان کی تصویر کمرہ عدالت کے بائیں جانب بیٹھے افراد میں سے کسی نے بنائی۔
ذرائع نے بتایا کہ تصویر وائرل ہونے کے بعد عدالت میں بانی پی ٹی آئی کی ویڈیو کا سائز کم کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی آج ویڈیو لنک کے ذریعے نیب ترامیم کالعدم کیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کو اعلیٰ تحقیقاتی ادارہ بنانے کی ہدایت
- 21 گھنٹے قبل

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات ذخائر تسلی بخش قرار،وزیراعظم کی سپلائی چین مزید بہتر بنانے کی ہدایت
- 20 گھنٹے قبل

علی لاریجانی کا ہاتھ سے لکھا بیان ایرانی میڈیا پر آ گیا، امریکی حملوں میں شہید فوجیوں کو خراج عقیدت
- 20 گھنٹے قبل

عید کی خوشیاں دوبالا کرنے کیلئے لالی وڈ کی تین فلمیں سینما گھروں کی زینت بنیں گی
- ایک دن قبل

کفایت شعاری مہم:حکومت کا یوم پاکستان کی پریڈ اور تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ
- 18 گھنٹے قبل

ابوظبی میں ایرانی میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک اور پاکستانی جاں بحق ہوگیا
- 21 گھنٹے قبل

مسلسل کئی روز کی کمی کے سونا ایک دفعہ پھر مہنگا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 21 گھنٹے قبل
کراچی :میں سی ٹی ڈی کی کامیاب کارروائی، بی ایل اے کا اہم کمانڈر سہیل بلوچ جہنم واصل
- 21 گھنٹے قبل

امن کا وقت نہیں اپنے دشمنوں کو عبرتناک شکست دیں گے، سپریم لیڈر نے امریکا سے مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی
- ایک دن قبل

وزیراعظم شہبازشریف کا قازق صدرسے ٹیلیفونک رابطہ،قازقستان کے آئینی ریفرنڈم کی کامیابی پر مبارکباددی
- 16 گھنٹے قبل

تجارت کیلئے مکمل سہولت فراہم کرنے پرایران کے شکر گزار ہیں،پاکستانی سفیر
- ایک دن قبل

فٹبال ورلڈ کپ:کشیدگی کے باعث ایران کا اپنے میچز امریکا سے منتقل کرنے کے لیے فیفا سے رابطہ
- ایک دن قبل











