جی این این سوشل

پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ

آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، عمران خان

پر شائع ہوا

کی طرف سے

بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

بانی چئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھنے کا فیصلہ کر لیا، وکلاء کو ہدایات دی ہیں وہ خط تیار کر کے مجھے بتائیں گے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آرمی چیف کو خط اپنی ذات کے لیے نہیں ملک کے لیے لکھوں گا، انہیں بتاؤں گا کہ آزاد کشمیر میں جو ہو رہا ہے اور ملک جہاں جا رہا ہے اس پر ہمیں سوچنا پڑے گا، فوج اور لوگوں کو آمنے سامنے نہیں کیا جاتا۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فارم 47 کے بینیفیشری سے جب کوئی سوال ہوتا ہے تو وہ حملہ آور ہوجاتے ہیں، جھوٹ کو بچانے کے لیے ججز اور میڈیا پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، صدر، وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب جھوٹ پر بیٹھے ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ فارم 47 کا بینیفیشری گورنر خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر ذاتی حملے کررہا ہے، فارم 47 کے بینیفیشری ہی جسٹس بابر ستار پر لفظی حملے کررہے ہیں اور اس وقت سب کوشش کررہے ہیں مصنوعی جمہوریت کو چلایا جاسکے، جمہوریت اخلاقی قوت پر چلائی جاتی ہے۔

بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ہم نے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں ایجنسیوں کے دباؤ سے بچنے کے لیے ختم کیں، نگراں وزیراعظم کے بیان کے بعد اس حکومت کے پاس کیا جواز ہے؟ انوار الحق کاکڑ نے حنیف عباسی کو طعنہ دے کر شہبازشریف کو پیغام بھیجا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس ایک دبنگ آدمی ہیں، چیف جسٹس نے کہا بھٹو کو فئیر ٹرائل نہیں ملا، کیا مجھے فئیر ٹرائل مل رہا ہے؟ ملک جس طرح چلایا جارہا ہے، اس طرح ملکی سلامتی خطرے میں پڑجائے گی، یہ جنگ آمریت کے خلاف جنگ چل رہی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کنٹرولڈ حکومت بنائی جس سے آزادی کی تحریک مزید تیز ہورہی ہے، ہمارا یہ سوال ہے کہ ہماری 9 مئی اور 8 فروری کے حوالے سے پٹیشنز کو کیوں نہیں سنا جا رہا؟ ہمارا ٹرائل بھی نواز شریف، آصف علی زرداری اور یوسف رضا گیلانی کے ٹرائل کی طرز پر چلایا جائے،

عمران خان نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ٹرائل کی کارروائی نارمل انداز میں آگے بڑھائی جائے، سپریم کورٹ میں میری پیشی براہ راست نشر نہیں کی گئی میں سپریم کورٹ سماعت میں بات کرنے کے لیے بے تاب رہا امید کرتا ہوں میری اگلی پیشی کو براہ راست نشر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل میں سب غریب قیدی ہیں، پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی آج تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کریں جیل کے دروازے کھول دیے جائیں گے، ان سے کیا مذاکرات کریں جن کے پاس پاور ہی نہیں۔

بشریٰ بی بی کے میڈیکل ٹیسٹ پر بانی چیئرمین پی ٹی آئی ںے کہا کہ ہم نے یہ مؤقف اپنایا کہ آپ خون کے دو نمونے لیں ایک پمز اور دوسرا شوکت خانم کو بھیجیں، مجھے پمز کی رپورٹس پر اعتماد نہیں ہے، پمز والوں نے پہلے میرے خون سے کوکین نکلنے کی رپورٹ دی تھی جس پر میرا ہرجانے کا کیس چل رہا ہے، بشری بی بی نے بھی کہا کہ خون کے نمونے دونوں لیباٹریوں میں بھیجے جائیں میڈیکل عملے نے انکار کیا جس پر بشری بی بی نے بھی خون کے سیملز نہیں دئیے۔

سابق وزیراعظم عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مس کنڈکٹ پر جج ابو الحسنات اور جج قدرت اللہ کے خلاف ریفرنس فائل کرنے کا کہا ہے۔

جرم

پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ سے ایک ہی گھر سے 8 افراد جاں بحق

فائرنگ سے گھر میں موجود چار خواتین اور چار بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پشاور میں جائیداد کے تنازع پر فائرنگ سے ایک ہی گھر سے 8 افراد جاں بحق

پشاور کے نواحی علاقہ بڈھ بیر میں ملزمان کی گھر میں گھس کر فائرنگ سے بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد جاں بحق جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بڈھ بیر کے مطابق فائرنگ کا واقعہ جائیداد کے تنازعہ کے باعث پیش آیا جس میں مخالف فریق نے گھر میں گھس کر فائرنگ کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے گھر میں موجود چار خواتین اور چار بچے موقع پر جاں بحق ہوگئے جبکہ دو افراد فائرنگ کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔

ڈی ایس پی بڈھ بیر کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد پولیس نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی ہے اور جاں بحق افراد کو پوسٹ مارٹم اور زخمیوں کو علاج کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب متاثرہ خاندان کے رشتہ دار صحافی خالد الرحمان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ سانحہ پولیس کی غفلت کے باعث پیش آیا کیونکہ ان بقول وہ واقعہ کے دوران مسلسل ایک گھنٹہ پولیس کو کال کرتا رہا لیکن پولیس کی جانب سے کوئی جواب نہیں مل جس کی وجہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوگیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

موسم

مون سون کےپہلے اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا، محکمہ موسمیات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مون سون کےپہلے  اسپیل کا جلد پاکستان میں داخل ہونے کا امکان

مون سون کے اسپیل کا آئندہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں داخل ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں بحیرہ عرب اور خلیج بنگال کے راستے مون سون کا اسپیل پاکستان کے مشرقی علاقوں میں داخل ہو گا۔ مون سون کے ممکنہ اسپیل کی بدولت 26 جون تا یکم جولائی تک ملک کے بیشتر حصوں میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 26 جون سے یکم جولائی تک کراچی اور حیدرآباد سمیت سندھ کے اندرونی علاقوں، جبکہ 27 جون تا 30 جون پنجاب کے بالائی اور زیریں علاقوں میں بارشوں کے واضح امکانات ہیں۔ 

محکمہ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین روز سے گرمی کی شدت جاری تھی، لیکن کل سے درجہ حرارت  42 ڈگری پر پہنچا ہے، ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی 4 ڈگری  زیادہ محسوس کی گئی۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ درجہ حرارت تربت میں  49 ڈگری جبکہ سبی، نواب شاہ اور دادو میں 47ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ 

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کا کہنا ہے کہ مون سون کے اسپیل سے قبل  پنجاب بھر کے میدانی علاقوں میں مزید  تین سے چار روز تک زیادہ  گرمی پڑنے کا امکان ہے۔ بھکر، ڈی جی خان اور رحیم یار خان  سمیت جنوبی پنجاب کے دیگر علاقوں میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 سے 50 ڈگری تک بڑھ سکتا ہے

پڑھنا جاری رکھیں

ٹیکنالوجی

گوگل کا جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

جی میل میں اے آئی کی بدولت اب ای میل کی اندرونی چیدہ معلومات بھی با آسانی اخذ کی جا سکتی ہیں، گوگل 

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گوگل کا جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان

گوگل نے جی میل میں بھی اے آئی فیچر متعارف کرانے کا اعلان کر دیا۔ جی میل میں اے آئی کی بدولت اب ای میل کی اندرونی چیدہ معلومات بھی با آسانی اخذ کی جا سکتی ہیں

گوگل کی حالیہ اپڈیٹ کے بعد اب صارفین کو ای میل کی لمبی لائنز اور ان میں سے معلومات اخذ کرنے کی کھپت سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ جیمنائی سسٹم کی اشتراکیت سے اب جی میل کے اندرونی مواد سے بھی باآسانی مطلوبہ معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں۔ 

گوگل کے مطابق جی میل میں شامل کیا گیا اے آئی سسٹم صارفین کو یہاں تک بھی معلومات نکال کے دے سکتا ہے کہ آپ کی کون سی میٹنگ کب ہوئی، آپ کی کمپنی نے اپنے ایونٹ میں کتنا خرچہ برداشت کیا، اور آپ کو بزریعہ ای میل موصول ہوا کوڈ نمبر کیا تھا۔ مزید یہ کہ جیمنائی اے آئی سسٹم ایک تھریڈ میں موجود ای میلز کے کانٹینٹ کے اہم نکات کا خلاصہ نکال کے دینے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔ 

موبائل فون کی جی میل ایپ میں بھی اے آئی فیچر فعال کر دیاگیا ہے۔ ویب کی طرح موبائل ایپ میں بھی اے آئی کے تمام فیچرز سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ ویب میں اے آئی ٹیب سائیڈ پینل کے طور پر موجود ہے، جبکہ موبائل ایپ میں بھی نیچے کی جانب اے آئی کا آپشن فعال ہے۔ 

 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll