جی این این سوشل

پاکستان

کے پی حکومت کا کرغزستان میں پھنسے طلبہ کی واپسی کے لیے خصوصی پروازیں بھیجنے کا فیصلہ

کرغزستان کی خصوصی پروازوں کے لیے 6 کروڑ روپے جاری کر دیئے، مشیر خزانہ کے پی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

کے پی  حکومت  کا  کرغزستان میں پھنسے  طلبہ کی  واپسی کے لیے خصوصی پروازیں بھیجنے کا فیصلہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

خیبر پختونخوا حکومت نے کرغزستان میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس لانے کے لیے آج سے مفت خصوصی پروازیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بشکیک میں پھنسے پاکستانی 03433333049 اور 03440955550 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ طالب علم مفت ائیر سروس پہلے آئیے اور پہلے پائیے کی بنیاد پر حاصل کر سکتے ہیں جبکہ پاکستانیوں کے اہلخانہ معلومات کے لیے ٹال فری نمبر 1700 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔

دریں اثناء خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ کرغزستان کی خصوصی پروازوں کے لیے 6 کروڑ روپے جاری کر دیئے۔ 6 کروڑ روپے 2 پروازوں کے لیے جاری کر دیئے گئے ہیں، طلبہ کی مزید رجسٹریشن پر مزید فنڈز جاری کیے جائیں گے۔

 

 

دنیا

گرمی کا قہر،سعودی عرب میں دوران حج جاں بحق افراد کی تعدادایک ہزار سے تجاوز کر گئی

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے دوران حج 35 شہریوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گرمی کا قہر،سعودی عرب میں دوران حج جاں بحق افراد کی تعدادایک ہزار سے تجاوز کر گئی

گرمی کا قہر،سعودی عرب میں دوران حج جاں بحق افراد کی تعداد 1000 سے زائد ہو گئی جس میں 58 پاکستانی بھی شامل ہیں۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق زیادہ تر اموات گرمی کی شدت یا گرمی سے ہوئی پیچیدگیوں کے باعث ہوئیں، جاں بحق ہونے والوں میں سے 658 افراد کا تعلق مصر سے اور 68 کا تعلق بھارت سے ہے۔ اردن، انڈونیشیا، ایران، سینیگال، تیونس اور کردستان ریجن کے شہریوں کی اموات کی بھی تصدیق ہوئی۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ دوران حج انتقال کر جانے والے بیشتر افراد حج ویزے پر نہیں بلکہ سیاحتی یا وزٹ ویزا پر تھے۔

سعودی عرب نے اموات سے متعلق معلومات نہیں دیں تاہم اتوار کو کہا گیا تھا کہ گرمی کی وجہ سے 2700 افراد تھکن میں مبتلا ہوئے تھے۔

پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے دوران حج 35 شہریوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے حجاجِ کرام کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے پاکستانی سفارت خانے کے حکام کو حجاج کرام کو تمام سہولتیں دینے کی ہدایت کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال 18 لاکھ افراد نے حج کا فریضہ انجام دیا، حج کے دوران درجہ حرارت 51.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، وکیل عمران خان

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

دورانِ عدت نکاح کیس، خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا مسترد

دورانِ عدت نکاح کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے دوران خاور مانیکا کے وکیل نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کر دی۔

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں عدت میں نکاح کیس میں اپیلوں پر سماعت ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ، بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گِل اور خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز میں خاور مانیکا کے وکیل زاہد آصف نے سماعت کے بغیر کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ جس پر جج افضل مجوکا نے وکیل سے کہا کہ اس کیس کی سماعت ملتوی نہیں ہو سکتی، 25 جون کو مرکزی اپیلوں پر سماعت ہے، تب تک لازمی دلائل فائنل کرنا ہیں۔

بعد ازاں جج افضل مجوکا نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل سے استفسار کیا کہ دو سوالوں کے جواب دے دیں، اس کیس میں سزا مختصر نہیں ہے ، اس لیے مختصر دورانیے کی سزا سے متعلق عدالت کی معاونت کریں، سپریم کورٹ کی دو ججمنٹس ہیں ان میں سے ایک آپ کے حق میں ہے اور ایک آپ کے خلاف تو آپ کس ججمنٹ کو فالو کریں گے ؟

اس پر عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہماری مخالفت میں کوئی بھی ججمنٹ موجود نہیں ہے، جج افضل مجوکا کا کہنا تھا کہ آپ کے خلاف ایک ججمنٹ موجود ہے، وکیل نے بتایا کہ جو اعلیٰ عدلیہ سے بعد میں فیصلہ آیا اس پر عدالت عمل کرے گی، 1985 کی آئینی ترمیم کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے اپنے دلائل جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شریعت کورٹ کے دائرہ اختیار میں دیا گیا فیصلہ فائنل اتھارٹی ہے ، شریعت کورٹ کے قیام سے پہلے کے فیصلوں کا حوالہ نہیں دیا جاسکتا ، یہ نہیں ہوسکتا کہ تقی عثمانی نے فیصلہ لکھا ہے تو اسے سائڈ پر رکھ دیں ، اسلام میں ایک اصول ہے کہ عورت کی ذاتی زندگی میں نہیں جھانکنا، خاتون کے بیان کو حتمی مانا جائے گا، عدت کے 39 دن گزر گئے تو اس کے بعد میں ہم نہیں جھانکیں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے میں عورت پر کوئی بھی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ، اعلیٰ عدلیہ نے سارا قصور پراسیکیوشن پر ڈالا کہ انہوں نے عورت کا بیان نہیں لیا، عدالت نے اس بنیاد پر مقدمہ خارج کردیا تھا کہ عدت کے 39 دن گزر گئے۔

اس پر جج افضل مجوکا نے کہا کہ اس عدالت کی جانب سے سپریم کورٹ کا فیصلہ غلط نہیں کہا جا سکتا ہے، وکیل عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم فیملی لاء میں عدت کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ، چیئرمین یونین کونسل کو طلاق کا نوٹس جانے کے بعد 90 دن گزرنے چاہئیں ، اس کیس میں ہر کوئی مان رہا کہ طلاق تو بہرحال ہوگئی ہے، عدت کا تصور شرعی ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ فراڈ کون کررہا ہے؟ کس کے ساتھ کررہا؟ دو فریقین موجود ہیں جن میں سے ایک فراڈ ہوگا، جج افضل مجوکا نے دریافت کیا کہ 496 بی میں تو سزا نہیں ہوئی؟

سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ 496بی ختم کردیا گیا تھا، سزا کی بات نہیں، فردجرم بھی 496 بی میں عائد نہیں ہوا، 496 بی میں دو گواہان ہونے لازم ہیں جو سامنے نہیں آئے، خاور مانیکا کے مطابق 14 نومبر 2017 میں تین بار تحریری طلاق دی گئی، ہمارے مطابق اپریل 2017 میں بشریٰ بی بی، خاور مانیکا کی طلاق ہوئی، بشریٰ بی بی طلاق کے بعد اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں، چار ماہ وہاں رہیں، بشریٰ بی بی کو دوران ٹرائل اپنا مؤقف سامنے نہیں رکھنے دیا گیا۔

عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ پورا مقدمہ شادی کے ایونٹ پر بنایا گیا ہے، اگر سیکشن 7 کی خلاف ورزی ہوتی بھی تب بھی کرمنل کیس نہیں چلایا جا سکتا ہے، جب چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوا تو طلاق کا آئیڈیا نہیں لگایا جا سکتا کہ کب ہوئی، ان کے مطابق 14 نومبر 2017 کو ہوئی اور ہمارا مؤقف ہے کہ طلاق اپریل 2017 کو ہوئی، ایک لمحے کے لیے کہانی 14 نومبر سے شروع کر لیتے ہیں ، 14 نومبر کو اگر دی ہے طلاق تو 90 دن والا تعلق ختم ہوتا ہے کیونکہ چیئرمین یونین کونسل کو نوٹس نہیں ہوئے، فیملی لا کے سیکشن 7 میں عدت کا کوئی ذکر نہیں ہے ، سپریم کورٹ نے 90 دنوں کا شادی سے تعلق ختم کردیا، نوٹس کا جواز ہی نہیں، عدالت نے دیکھنا ہے اسلامی شریعت عدت کے حوالے سے کیا کہتی ہے؟ شہنشاہ عالمگیر کے دور کے فتوے کو شریعت عدالت نے اپنا حصہ بنایا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنا ہو تو سزا معطلی پر فیصلہ نہ بھی کریں تو مسئلہ نہیں ہوتا، اس کیس میں ہائی کورٹ نے ڈائریکشن دی ہے کہ سزا معطلی اور مرکزی اپیلوں پر ٹائم فریم کے مطابق فیصلہ دینا ہے، شوہر کی وفات کے بعد عورت کو وراثت کی محرومی سے بچانے کے لیے عدالت نے عدت کا دورانیہ 90 دن ثابت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ قانون کا مقصد عورت کو سہارا دینا ہے، میں سزا معطلی کے ساتھ ساتھ اپیل پر بھی معاونت کرنا چاہوں گا، مجھے معلوم ہے آئندہ پندرہ روز میں عدالت نے سزا معطلی کی اپیل پر فیصلہ کرناہے۔بعد ازاں سلمان اکرم راجا نے مفتی سعید کے انٹرویو کی کاپی بذریعہ یو ایس بی عدالت میں جمع کروا دی۔

وکیل نے کہا کہ مفتی سعید نے اقرار کیا کہ نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیا، یکم فروری کو گواہی شروع ہوئی، دو فروری کو ٹرائل کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

جج افضل مجوکا نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 2 روز میں فیصلہ دے دیا؟ وکیل نے بتایا کہ ہم 14، 14 گھنٹے دو روز کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ نے کہا آج ہی سب کریں، ٹرائل کورٹ نے کہا گواہ، دلائل، سب آج کریں، فیصلہ سنانا ہے، رات 12 بجے تک اڈیالہ جیل میں کھڑے رہے، ٹرائل کورٹ کا اعلان جنگ تھاکہ 3 فروری کو ہی فیصلہ سنانا ہے۔

وکیل سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ آپ نے کبھی کسی وکیل کو کہا ہےکہ رات 11 بجے دلائل دیں؟

اس کے بعد خاور مانیکا کا انٹرویو کو کمرہ عدالت میں چلایا گیا۔عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ انٹرویو میں اینکر نے بھی سابقہ کا لفظ استعمال کیا، خاور مانیکا نے بھی سابقہ اہلیہ کہا، ٹرائل کورٹ میں خاورمانیکا نے جھوٹ بولاکہ انٹرویو دیتے وقت بشریٰ بی بی سابقہ اہلیہ نہیں تھیں، خاورمانیکا ایک جھوٹا شخص ہے، عدالت میں جھوٹ بولا۔

اس پر وکیل شکایت کنندہ زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ خاورمانیکا کے ساتھ ذاتیات پر نہ اتریں، خاورمانیکا کہیں جھوٹے ثابت نہیں ہوئے ہیں۔

وکیل عمران خان نے بتایا کہ خاورمانیکا نے انٹرویو میں بانی پی ٹی آئی کو دعائیں دیں اور کہا روحانی تعلق تھا، شکایت دائر کرنے سے قبل خاورمانیکا 5 سال 11 ماہ خاموش رہے، خاور مانیکا کو گرفتار کیا گیا، 4 ماہ جیل رہے، 14 نومبر کو جیل سے باہر آئے، 25 نومبر کو شکایت دائر کی، جو لوگ چِلے پر جاتے ہیں ہمیں معلوم ہے ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے، میں مفتی سعید کا جھوٹ بھی عدالت کے سامنے لانا چاہتا ہوں، مفتی سعید کے لیے میرے پاس جھوٹ کے علاوہ اور کوئی شائستہ لفظ نہیں۔

بعد ازاں بشریٰ بی بی کے وکیل عثمان گل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ میں نے اڈیالہ جیل جانا ہے، سماعت سوموار تک ملتوی کرنی ہے تو میں سوموار کو دلائل دوں گا، آج سلمان اکرم راجا اپنے دلائل دے رہے ہیں۔

اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ سوموار کو سماعت کرنا ممکن نہیں ہے، منگل کو سماعت کریں گے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران وزیر اعظم میاں شہبازشریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ملکی سیاسی صورتحال اور صوبے کے مسائل بارے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا ۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے صوبہ خیبر پختونخوا سے متعلق امور پر بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد اور وسائل فراہم کرے گی۔

واضح رہے گزشتہ ماہ 30مئی کو بھی وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے گورنر خیبر پختونخوا کی ملاقات ہوئی تھی اور فیصل کریم کنڈی نے حکومت کی کاروبار و سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت ملک میں بڑھتی ہوئی بیرونی سرمایہ کاری پر وزیر اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll