جی این این سوشل

دنیا

سعودی عرب ، اردن اور پولینڈ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم

مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حامی ہیں، پولینڈ/فلسطین کو تسلیم کرنادو ریاستی حل کی جانب اہم قدم ہے،اردن

پر شائع ہوا

کی طرف سے

سعودی عرب ، اردن اور پولینڈ کا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم
سعودی عرب ، اردن اور پولینڈ کا کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اقدام کا خیر مقدم

آئر لینڈ ،ناروے اور سپین کی طرف سے فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد دیگر ملکوں کے بیانات سامنے آگئے۔

سعودی عرب ، اردن اور ن اور پولینڈ نے کہا ہے کہ ناروے، سپین اور آئرلینڈ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ’مثبت‘ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کے مطابق سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس فیصلے کی تعریف کرتے ہیں جس سے بین الاقوامی اتفاق رائے کی تصدیق ہوتی ہے کہ فلسطینی عوام کو حق خودارادیت کا موروثی حق حاصل ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت نے دیگر ممالک کو بھی جلد از جلد یہ مؤقف اختیار کرنے کا کہا ہےجو قابل اعتماد اور ناقابل واپسی راستے کی تلاش میں معاون ثابت ہوگا تاکہ منصفانہ اور دیرپا امن کا حصول ممکن بنایا جائے جو فلسطینی عوام کو ان کے حقوق دے۔

دوسری جانب اردن نے آئرلینڈ، ناروے اور سپین کی طرف سے فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے ایک مربوط اقدام کو فلسطینی ریاست کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم قرار دے دیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اردن کے وزیرِ خارجہ ایمن الصفدی نے عمان میں اپنے ہنگری کے ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہاکہ ہم دوست یورپی ممالک کی طرف سے آج کے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہم اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اسے دو ریاستی حل کی جانب ایک اہم اور ضروری قدم سمجھتے ہیں جو جون 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست تشکیل دے۔

اردن یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات کا محافظ ہے اور ماضی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

اردن کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ فیصلے ایک وسیع تحریک کا حصہ ہوں گے جو دنیا اور خطے کے تمام ممالک کو ایک منصفانہ اور جامع امن کی طرف جانے والے ایک واضح راستے پر گامزن کریں گے جو فلسطین، اسرائیل اور خطے کے لیے سلامتی اور استحکام کا واحد ضامن ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنے کا عمل اسرائیلی حکومت کے اقدامات کے جواب میں ایک اہم اور ضروری قدم کی نشاندہی کرتا ہے جو نہ صرف دو ریاستی حل کو مسترد کرتے ہیں بلکہ زمینی سطح پر ایسے عملی اقدامات کے حوالے سے بھی یہ خطے میں امن کے حصول کے امکانات کو ختم کر دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے کچھ حصوں میں محدود اختیارات کی حامل فلسطینی اتھارٹی کے مطابق اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 142 پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں۔

امریکہ سمیت بیشتر مغربی حکومتیں کہتی ہیں کہ وہ ایک دن فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں  لیکن اس سے پہلے اس کی حتمی سرحدوں اور یروشلم کی حیثیت جیسے کانٹے دار مسائل پر معاہدہ طے پانا ضروری ہے۔

علاوہ ازیں آئرلینڈ، اسپین اور ناروے کے فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد ایک اور یورپی ملک پولینڈ نے بھی مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی حمایت کردی ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پولینڈ کے وزیرخارجہ ریڈوسلا سیکروسکی کا کہنا تھا کہ ہم یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے کی کوششوں اور جو ممالک مستقل، پائیدار حل کو ضروری سمجھتے ہیں، ان کی حمایت کریں گے۔

پولینڈ کی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس طرح کا مستحکم، پائیدار حل دو ریاستوں کی بنیاد پر ہوگا۔پولینڈ نے آزاد فلسطینی ریاست کا وجود 1988 میں تسلیم کرلیا تھا۔

پاکستان

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد  میں دھرنا دیں گے ، نائب امیر جماعت اسلامی

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ 26 جولائی کو مہنگائی کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا ہو گا۔
نائب امیرجماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکمران جماعتیں عوام سے جینے کا حق چھین رہی ہیں۔

سیاناسی جماعتیں پاور پالیٹکس میں لگی ہیں، جبکہ عوام کو مہنگائی کے سامنے مرنے کیلئے چھوڑ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام سیاست جمہوریت اور پارلیمان سے مایوس ہو گئے، بجلی،گیس اور پٹرول ٹیکسز کے انبار نے عوام کو برباد کر دیا ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کسی صورت بھی دیوالیہ نہیں ہونا چاہیے، موجودہ حکومت نے دیوالیہ سے بھی آگے ملک کو پہنچا دیا ہے، آئی پی پیز سے معاہدوں سے قومی معیشت کو پھندہ ڈال دیا گیا ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں فارم 47 طرز کی حکمرانی مسلط کی گئی، طلبا سڑکوں پر نکل کر اپنا حق حاصل کر رہے ہیں۔

پاکستان کےعوام بھی حکومتی خاندانوں کے خلاف نکلنے کو تیار ہیں، عوام ان حکمران خاندانوں سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سود کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے 5 سال کا روڈ میپ دیا، لیکن حکومت نے سود کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھایا۔

نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے، تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر بات کریں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پنجاب حکومت کا سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کا  سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

پنجاب حکومت نے سانحہ 9 مئی کے ملزمان کی ضمانت منسوخی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔

درخواست میں انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج کو فریق بنایا گیا ہے۔ پنجاب حکومت کی پراسیکیوٹر جنرل کے توسط دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فہرست میں موجود ملزمان کو نوٹس جاری کئے جائیں اور ان کی ضمانت مسترد کی جائے۔

سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی فہرست میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید احمد سمیت 57 ملزمان کے نام شامل ہیں ۔ ان ملزمان کی ضمانت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے منظور کی۔

پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو عدالت عالیہ نے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کردیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینےکا فیصلہ

پی ایف یوجے کی فیڈرل ایگزیکٹو کونسل نے ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں کو پاکستان یونین آف جرنلسٹس کی ممبرشپ دینے کا اصولی فیصلہ کیاہے ۔

یہ فیصلہ  یونین کی فیڈرل ایگزیکٹوکونسل کے 19 سے 21 جولائی 2024 کو گوجرانوالہ میں ہونے والے اجلاس میں کیاگیا ۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے آئین میں درکار ضروری ترامیم کی جائیں گی ۔

فیڈرل یونین ڈیجیٹل میڈیا جرنلسٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لئے ایک فارم جاری کرے گی ۔ یہ ڈیٹا تمام ملحقہ یونینز اکٹھا کریں گی ۔ اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیاگیاہے کہ ہتک عزت قانون میں پائی جانے والی خامیوں کو دورکرنے کے لئے ایک قانونی مسودہ تیارکیاجائے گا ۔ یہ مسودہ ایک تین رکنی کمیٹی تیار کرے گی اوریہ قانونی مسودہ حکومت کو پیش کیاجائے گا ۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll